راز چھپانے کے فوائد اور اس کو ظاہر کرنے کے نقصانات

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏ستمبر 14, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    654
    راز چھپانے کے فوائد اور اس کو ظاہر کرنے کے نقصانات

    مقبول احمد سلفی

    ایک مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دوسرے کا راز فاش نہ کرے ، کسی کی پوشیدہ بات جاننے کی کوشش بھی نہ کرے اور ایک دوسروں کےعیوب کی پردہ پوشی کرے ۔ ہم سب کے کندھوں پر یہ ایک بڑی قسم کی ذمہ داری ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ راز چھپانے سے زیادہ آسان ہے مال چھپانا ۔ اس لئے یہ عظیم ذمہ داری ہے ۔ افسوس کہ ہمارے اندراس ذمہ داری کی ادائیگی میں بڑی کوتاہی ہے اس کوتاہی کو دور کرنے اور اپنے اندر اس گناہ کے تئیں اللہ کا خوف پیدا کرنے کی غرض سے یہ مضمون لکھ رہا ہوں، اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے وہ ہمارے اندر اپنا خوف پیدا کردے ۔

    ہم میں سے کوئی معصوم نہیں ہے ، گناہ ہرایک سے سرزد ہوتا ہے ، سارے لوگوں میں عیوب ونقائص ہیں ۔ ایک اللہ کی ذات ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک وصاف اور ہر قسم کی خوبی اس میں بدرجہ کمال ہے۔ جب کوئی انسان غلطی سے مبرا نہیں تو پھر کوئی دوسرے کے عیوب کو بیان کرکےانہیں لوگوں کے سامنے رسو ا کرنے کی کیوں کوشش کرتا ہے ؟ ایسے لوگوں کے لئے سخت قسم کی سزا ہے جو اپنےعیوب جاننے ہوئے دوسروں کے عیوب ظاہر کرتا ہے کبھی اپنی جھوٹی برتری دکھانے کے لئے تو کبھی دوسروں کو ذلیل کرنے کے لئے یا کبھی دنیاوی منعفت کے حصول کے لئے۔ یاد رکھئے ، آج ہم کسی کو رسوا کرتے ہیں تو کل قیامت میں اللہ تعالی ہمیں بھی لوگوں کے سامنے ذلیل ورسوا کرے گا۔

    قرآن وحدیث کی روشنی میں انسانی راز سے متعلق چند امور بیان کئے جاتے ہیں ۔
    (1)اپنے راز کسی سے نہ بیان کریں : پہلے مرحلہ میں ہمیں خود ہی اپنے اسرارورموز کی حفاظت کرنی ہے یعنی جو باتیں رازداری کی ہیں ہمیں کسی سے بیان نہیں کرنا چاہئے الایہ کہ ہمارا کوئی خاص ہو اور اس سے بیان کرنا کسی مقصد وحکمت کے تحت ہو۔ ہم اپنے اسرار کی حفاظت کریں گے تو بہت ساری پریشانیوں سے بچے رہیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بڑا قیمتی قول ہے : سرُّك أسيرك، فإن تكلمت به، صرت أسيره(ادب الدنیا والدین للماوردی)
    ترجمہ: راز اس وقت تک آپ کا غلام ہے جب تک آپ نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا ہے لیکن جب اسے بیان کردیا تو اب آپ اس کے غلام ہوگئے۔

    اللہ کی طرف سے کوئی خاص فضل وکرم ہو جس کے بیان کرنے سے بغض وحسد کا اندیشہ ہو تو نعمت وفضل کا ذکر لوگوں میں خصوصیت کے ساتھ نہ کریں بلکہ عمومی انداز میں کریں تاکہ آپ کی اس خاص نعمت کا حاسد کو پتہ نہ چلے جیساکہ اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا(یوسف:5)
    ترجمہ: یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے ! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں ۔
    اس آیت میں خواب کی نعمت وبشارت کو اپنے حاسد بھائی سے چھپانے کا ذکر ہےاورفرمان نبوی ہے ۔
    استعينوا على إنجْاحِ الحوائِجِ بالكتمانِ ؛ فإنَّ كلَّ ذي نعمةٍ محسودٌ(صحيح الجامع:943)
    ترجمہ: لوگوں سے چھپاکر اپنے مقاصد کی کامیابی پرمدد طلب کرو کیونکہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔

    (2) دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی : پھر دوسروں کی باری آتی ہے کہ اگر ان کے پاس کسی مسلمان بھائی کا کوئی راز ہے تو اسے لوگوں میں بیان نہ کرے خواہ وہ راز اس کے گھر، اس کی ذاتی برائی، عیب اور نقص سے متعلق ہو۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَن سترَ مُسلِمًا سترَهُ اللَّهُ في الدُّنيا والآخِرةِ(صحيح ابن ماجه:2078)
    ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
    حافظ ابن حجر نے کہا کہ پردہ پوشی سے مراد ہے کسی نے کوئی برائی دیکھی تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے ۔

    اس حدیث کی مزیدوضاحت نبی ﷺ کے دوسرے فرمان سے ہوتی ہے جس میں پردہ پوشی نہ کرنے والوں کے لئے سخت وعید بھی ہے ۔
    مَن سترَ عورةَ أخيهِ المسلمِ سترَ اللَّهُ عورتَهُ يومَ القيامةِ ومن كشفَ عورةَ أخيهِ المسلمِ كشفَ اللَّهُ عورتَهُ حتَّى يفضحَهُ بِها في بيتِهِ(صحيح ابن ماجه:2079)
    ترجمہ: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی برہنگی چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی برہنگی چھپائے گا اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا پردہ فاش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا پردہ فاش کرے گا حتی کہ اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔
    منذری نے کہا کہ سترالمسلم سے مراد انسان کے عیوب کی پردہ پوشی اور اس کے زلات وہفوات کو چھپانا ہے ۔

    اللہ تعالی بھی پردہ پوشی کرنے والا ہے تو ہم کیوں نہ اس صفت سے متصف ہوں جس میں اپنی بھلائی کے ساتھ دوسروں کی بھلائی ہے ۔ اس سے روگردانی کا نقصان یہ ہے کہ اس میں اپنے ساتھ دوسرے شخص کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ حيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحبُّ الحياءَ والسِّترَ فإذا اغتسل أحدُكم فلْيستترْ(صحيح أبي داود:4011)
    ترجمہ:اللہ عزوجل انتہائی حیاء والا اور پردہ پوش ہے ،حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے سو تم میں سے جب کوئی غسل کرنے لگے تو پردہ کر لے ۔
    ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انسان میں کوئی اخلاقی، معاملاتی ، عائلی برائی دیکھے تو ذلیل کرنے کی نیت سے اسے لوگوں سے بیان نہ کرے بلکہ انہیں برائی سے باز رہنے کی نصیحت کرے اور اللہ سے ڈرنے اور توبہ کرنے کی تلقین کرے ۔

    (3)عمدا کسی کا راز جاننا: بعض لوگ جان بوجھ کر کسی کے عیوب کوجاننے کی کوشش کرتا ہے ، ٹوہ میں لگا رہتا ہے، جاسوسی کرتا ہےبلکہ چھپ چھپ کر لوگوں کی باتیں سنا کرتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔اللہ تعالی نے کسی کی جاسوسی کرنے ، اس کے ٹوہ میں لگنے سے منع کیا ہے ۔ جوچھپ چھپ کر دوسروں کی باتیں سنتا ہے دیکھیں کس قدر شدید وعید آئی ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    من استمع إلى حديثِ قومٍ ، وهم له كارهون ، أو يفرُّون منه ، صُبَّ في أذنِه الآنكُ يومَ القيامةِ(صحيح البخاري:7042)
    ترجمہ: جس شخص نے کسی قوم کی باتوں پر کان لگایا حالانکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں یا وہ اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔

    یہ عیب عورتوں میں بہت زیادہ ہے ، اللہ کی پناہ اس بری خصلت ورذیل حرکت سے۔ لوگوں کی باتیں چھپ چھپ کر اس لئے سنی جاتی ہیں تاکہ انہیں لوگوں میں عام کیا جائے اور اسے رسوا کیا جائے ۔ ایسے لوگ خود اس دن اور اس جگہ رسو ا ہوں جس دن اور جس جگہ سارے جہان والے جمع ہوں گے۔

    (4) بغیر ثبوت کے کسی کی برائی بیان کرنا: اللہ اور اس کے رسول نے تو انسانوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی ترغیب دی ہے اور جو لوگ یونہی دوسرے مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں، سرے عام ان کی عزت اچھالتے ہیں ، بغیر کسی ثبوت کے طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں، ایساکرنا بہتان کے زمرے میں ہے اور ایسے لوگ جہنمیوں کے پیپ پئیں گے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن قالَ في مؤمنٍ ما ليسَ فيهِ أسكنَهُ اللَّهُ رَدغةَ الخبالِ حتَّى يخرجَ مِمَّا قالَ(صحيح أبي داود:3597)
    ترجمہ: جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اﷲ اسے جہنمیوں کی پیپ میں ڈالے گا ( وہ اسی کا مستحق رہے گا ) حتیٰ کہ اپنی بات سے باز آ جائے ۔

    لوگوں کے بھید کھولنے اور راز فاش کرنے کی سزائیں :
    نبی ﷺ نے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے راز کی ایک بات کی اور ان کو اس بات پرامین بنایا مگر انہوں نے رسول اللہ کے راز کو فاش کردیا تو اللہ تعالی نے ان دونوں امہات المومنین کی سرزنش کی اور توبہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
    إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ (التحریم:4)
    ترجمہ: ۔ ( اے نبی کی دونوں بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو(تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کار ساز اللہ ہے اور جبرائیل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں ۔

    راز ایک امانت ہے اس کا بیان کرنے والا خائن ہے اور جو خائن کی سزا ہے وہ راز افشاء کرنے والے کو بھی ملے گی ۔
    حسن بصری سے مروی ہے : إِنَّ مِنَ الْخِيَانَةِ أَنْ تُحَدِّثَ بِسِرِّ أَخِيكَ(الصمت وآداب اللسان لابن ابي الدنيا:404)
    ترجمہ: خیانت میں سے یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا راز فاش کردو۔

    اور نبی ﷺ کا فرمان بھی ہے : إذا حدَّثَ الرَّجلُ الحديثَ ثمَّ التفتَ فَهيَ أمانةٌ(صحيح الترمذي:1959)
    ترجمہ: جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑکر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔

    اس امانت میں خیانت کرنے کی سزا جہنم بھی ہوسکتی ہے ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقا بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: الخديعة في الناریعنی دھوکہ دینا جہنم میں لے جائے گا۔ شیخ البانی نے بھی " المكرُ والخديعةُ في النارِ" کو صحیح کہا ہے کہ مکروفریب جہنم میں لے جانے کا سبب ہے۔ (السلسلة الصحيحة:1057)

    راز ایک امانت ہے اس کا ظاہر کرنا گویا چغلی کرنا ہے اور چلغوروں کی سزا جنہم ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: لا يدخل الجنة قتات(صحيح البخاري:6056)
    ترجمہ:چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

    زوجیت کے متعلق راز فاش کرنے والا خواہ شوہر ہو یا کوئی دوسرا چغلخور قیامت میں اللہ کے نزدیک سب سےبرا انسان ہوگا ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ، وَتُفْضِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا(صحيح مسلم:1437)
    ترجمہ: قیامت کے دن، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے۔

    اس سلسلے میں بہت سارے نصوص ہیں سب کو یہاں اکٹھا کرنا مشکل ہے ، ہمیں صرف اصل ہدف جاننا ہے اس کے لئے یہ سارے نصوص کافی ہیں اب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ کسی کے راز کی حفاظت کا طریقہ کیا ہے ؟
    بہت آسان طریقہ ہے اپنی زبان کی حفاظت کریں اور لوگوں کے معاملات میں خاموشی اختیارکریں ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَن صَمت نَجا(صحيح الترمذي:2501)
    ترجمہ: جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پالیا۔

    خاموشی بہت ہی عمدہ علاج ہے زبان کی مشکلات وصعوبات کا ، اسی لئے اس کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی گئی ہے ، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
    من توكَّل لي ما بين رجليه وما بين لحييه توكَّلْتُ له بالجنةِ(صحيح البخاري:6807)
    ترجمہ: جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان (شرمگاہ) اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (زبان) کی ضمانت دی تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

    عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا نہایت ہی عمدہ قول ہے :القلوب أوعية الأسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كلُّ امرئ مفتاح سرِّه(ادب الدنیا والدین للماوردی)
    ترجمہ: دل رازوں کا برتن ہے ، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے پس ہر آدمی اپنے راز کی کنجی کی حفاظت کرے یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرے ۔

    جس نے کسی کا راز فاش کیا اس کا حکم :
    ہمیں معلوم ہوگیا کہ راز امانت ہے اس کا ظاہر کرنا خیانت اور گناہ کبیرہ ہے ۔ جس نے کسی کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کیا اسے چاہئے کہ اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے اور راز فاش کرنے والے کو اس کے متعلق خبر ہوگئی ہوتو اس سے بھی معافی مانگے ساتھ ہی اگلے سے کسی اور سےاس کے عدم اظہار کا وعدہ لے نیز الزامی امر ہوتو اس کی تردید کرے اور حقوق کا معاملہ ہو تو تصفیہ کرے ۔

    وہ امور جن کو ظاہر کرنا ہے :
    اوپر جن مسائل کا ذکر ہے ان میں انسان کے کسی مخفی راز کی بات ،برائی کی بات یا ہروہ بات جسے وہ چھپانا پسند کرتا ہے اس کا اظہار کرنا راز فاش کرنے میں شامل ہے تاہم کچھ ایسے بھی کام ہیں جن کو بیان کرنے کا حکم دیا گیاہے ، ان میں کئی باتیں ہیں ۔
    (1)علانیہ برائی کرنے والا: کوئی شخص علانیہ طور پر برائی کا ارتکاب کرتا ہے ، اسے لوگوں کے سامنے فخر سے بیان کرتا ہے تو یہ ایسا شخص ہے جس سے اللہ تعالی معافی کو بھی اٹھالیتا ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا ، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ ، فيقولَ : يا فلانُ ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
    ترجمہ:میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
    ایسے شخص کی پردہ پوشی نہیں کی جائے گی جو دوسروں کے سامنے برائی کا اظہار کرےمثلا ڈھٹائی سے لوگوں کے سامنے شراب پئے یا زنا کرکے مزے لیکر لوگوں میں بیان کرے ، اس نے تو خود اپنی معصیت ظاہر کردی ۔

    (2) گواہی دینا: اسی طرح کسی کے حق میں گواہی طلب کی جائے تو جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے بیان کرے ،یہاں پر چھپانا جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ(البقرۃ:283)
    ترجمہ: اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گنہگار دل والا ہے۔

    کیا مصلحت کے تئیں راز کھولنا جائز ہے ؟
    کسی کا ایسا راز ظاہر کرنا جس سے اس کو ضرر لاحق ہوسکتا ہوجائز نہیں ہے اور ضرررساں نہ ہو توبھی اہانت کی وجہ سے جائز نہیں ہے البتہ کبھی بامقصدمصلحت کے تئیں راز فاش کیا جاسکتا ہے جیساکہ یوسف علیہ السلام پرعزیزمصر کی بیوی نے برائی کا الزام لگایا تو یوسف علیہ السلام نے اس عورت کی پول کھولتے ہوئے کہا، اللہ کا فرمان ہے: هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي(يوسف: 26)
    ترجمہ: یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی ۔
    ایسا کوئی آدمی جو فرد وسماج کے لئے خطرہ کا باعث ہو، اس کی شرانگیزی کسی شخص کو یا پورے سماج کو نقصان پہنچا رہی ہوتوایسے شرانگیزآدمی کی حقیقت سے پردہ اٹھانے میں حرج نہیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہا جا سکے ۔

    اللہ تعالی ہمیں دوسروں کے راز کی حفاظت، ان کے عیوب کی پردہ پوشی کرنےکی توفیق دے اور ہمارے اندر اپنا خوف پیدا کرکے اعمال صالحہ کی رغبت اور برائی سے تنفر پیدا کردے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,218
    بارک اللہ فیک
    اور چغل خور کا کیا حکم ہے..چغل خور کے ساتھ کیسا معاملہ رکھنا چاہیے؟
     
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    654
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی "بعض كبیرہ گناہوں كے بارے میں عام نصیحت" کے عنوان سے چغلخوری سے متعلق نصیحت یہاں منقول کرنا قارئین کے لئے مفید رہے گا۔
    دوسری چیز جس سے اجتناب اور تنبیہ ضروری ہے وہ ہے ( چغل خوری)
    اس کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف، یا ایک جماعت سے دوسری جماعت کی طرف ، یا ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ کی طرف فساد اور جھگڑے کی غرض سے کوئی کلام منتقل کرنا، یعنی ہر اس چیز یا راز کو کھول دینا جس کا کھل جانا نا پسندیدہ ہو، خواہ اس شخص کو ناپسند ہو جس سے متعلق نقل کیا گیا یا اس شخص کو جس کی طرف نقل کیا گيا، یا تیسرا شخص اس کو ناپسند کرتا ہو، چاہے یہ برائی قول سے ہو یا فعل سے ہو یا اشارے سے ہو، اور چاہے منقولہ چیز قول کی شکل میں یا فعل کی شکل میں، اور چاہے یہ چیز منقول عنہ کے لئے عیب اور نقص کی بات ہو یا نہ ہو ؛ لہذا انسان کو لوگوں کے احوال کے تعلق سے خاموش رہنا چاہیے ہاں اگر اس کو بیان کرنے سے مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا کسی برائی کا ازالہ ہو تو جائز ہے ۔ چغل خوری کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں: 1-منقول عنہ کے حق میں برائی کی نیت 2- منقول الیہ سے محبت کا اظہار 3- فضول اور بکواس باتوں میں مشغول ہو کر لطف اندوز ہونا، یہ تینوں طریقے اسلام میں حرام ہیں، چنانچہ اگر کسی شخص سے کوئی کسی قسم کی چغلی کرتا ہے تو اس شخص کو چاہیے کہ اس چغل خور کی تصدیق نہ کرے، کیونکہ چغل خور فاسق اور گواہی میں غیر معتبر ہوتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ! ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻛﮧ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﻮ ﺍﯾﺬﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ اور اس آدمی کے لئے ضروری ہے کہ اسے چغلی سے روکے، اسے نصیحت کرے، اور اس کے اس فعل کی مذمت کرے، کیونکہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: توﺍﭼﮭﮯ کاﻣﻮﮞ ﻛﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﺮﮮ کاﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻧﺎ اور اللہ تعالی کی خاطر اس چغل خور سے بغض رکھے، اور منقول عنہ کے سلسلے میں برا خیال نہ کرے بلکہ اچھا ہی گمان رکھے، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺑﮩﺖ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ﻛﮧ ﺑﻌﺾ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯿﺎﮞ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﯿﮟ۔ اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اس حدیث كي صحت پر اتفاق ہے۔ اور اس پرلازم ہے کہ منقول عنہ کے سلسلے میں تجسس سے کام نہ لے، اوراپنے لئے اس عمل کو پسند نہ کرے جس سے چغل خور کو منع کیا ہے کہ خود تک پہنچی ہوئی چغل خوری کو دوسرے سے بیان کرے۔ چغلی کی حرمت پربہت سے دلائل کتاب وسنت میں موجود ہیں، جن میں سے ایک دلیل اللہ رب العالمین کا یہ فرمان ہے: ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ کا ﺑﮭﯽ ﻛﮩﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔(10) ﺑﮯ ﻭﻗﺎﺭ، ﻛﻤﯿﻨﮧ، ﻋﯿﺐ ﮔﻮ، ﭼﻐﻞ ﺧﻮﺭ۔ اور الله تعالى كا یہ فرمان ہے: ﺑﮍﯼ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮨﮯﮨﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﻛﯽ ﺟﻮ ﻋﯿﺐ ﭨﭩﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻏﯿﺒﺖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ۔

    اور حضرت حذیفہ یمانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں چغل خور داخل نہیں ہوگا یہ متفق علیہ حدیث ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سنو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ افتراء پردازی کیا ہے؟ وہ غیبت ہے جو لوگوں کے درمیان کی جائے۔ اسے امام مسلم نے روايت كيا ہے۔ اور چغل خوری ان اسباب میں سے ہے جن سے قبر میں عذاب واجب ہوتا ہے، جیساکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دوقبروں کے پاس سے ہوا توآپ نے ارشاد فرمایا : بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں عذاب کسی بڑی چیز کے سبب نہیں دیا جا رہا، پھر آپ نے فرمایا: جی ہاں ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا غیبت کیا کرتا تھا متفق عليه روایت ہے۔ غیبت اور چغلی دونوں حرام ہیں؛ کیونکہ ان کے ذریعہ لوگوں میں فساد، پھوٹ، انتشار، بدامنی، انارکی ، عداوت، کینہ، بغض، حسد اور نفاق کی آگ بھڑکتی ہے، اور دو بھائیوں کے درمیان انس ومحبت کی جگہ تفرقہ، دشمنی اور منافرت پیدا ہوجاتی ہے، اور اسی طرح ان دونوں چیزوں میں جھوٹ، دھوکہ، خیانت، بے قصور پرتہمت، گالی گلوچ اور برائیوں کا تذکرہ ہوتا ہے، نیز یہ چیزیں بزدلی، کمینگی اور کمزوری کی پہچان ہوتی ہیں، مزید برآں ایسا کرنے والوں سے اتنے بے شمار گناہ سرزد ہوجاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے غضب، ناراضگی، اور اس کے دردناک عذاب کے مستحق ثابت ہوتے ہیں۔
    مصدر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں