فضائل أهل البيت

محمد اویس مصباحی نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏ستمبر 16, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد اویس مصباحی

    محمد اویس مصباحی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 2, 2017
    پیغامات:
    6
    بسم الله الرحمٰن الرحيم
    الصلاة والسلام عليك يا رسول الله
    صلى الله تعالى عليه وسلم
    أحاديث في فضائل أهل البيت
    1. عن جابر بن عبدالله رضي الله عنهما قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته يوم عرفة، وهو على ناقته القصواء، يخطب، فسمعته يقول: ((يا أيها الناس، إني تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا: كتاب الله، وعترتي أهل بيتي)) (جامع الترمذي، كتاب المناقب، رقم الحديث:٣٧٨٦)
    ترجمہ:حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصوا ء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“
    2. عَنْ زِرٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ (صحيح مسلم، رقم الحديث:١٤٦)
    ترجمہ: حضرت زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے بغض منافق ہی رکھے گا۔
    3. عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يومًا فينا خطيبًا، بماء يدعى خُمًّا بين مكة والمدينة، فحمد الله وأثنى عليه، ووعظ وذكر، ثم قال: ((أما بعد، ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم ثقلين: أولهما: كتاب الله، فيه الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به))، فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال: ((وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي) (صحيح مسلم، رقم الحديث:٢٤٠٨)
    ترجمہ: حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک پانی کہ جسے خم کہہ کر پکارا جاتا ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے پر ہمیں خطبہ ارشا فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا بعد حمد و صلوٰة! آگاہ رہو اے لوگو! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا میرے پاس آئے تو میں اسے قبول کروں اور میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں،
    4. عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ،‏‏‏‏ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ۔ (جامع الترمذي، كتاب المناسب، رقم الحديث:٣٧٧٥)
    ترجمہ:یعلی بن مرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں“
    5. عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ (جامع الترمذي، كتاب المناسب، رقم الحديث:٣٢٠٥)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ عمر بن ابو سلمہ سے مروی ہے کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ” اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے“ ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین (رضی الله عنہم) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت ، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے
    6. عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ:‏‏‏‏ ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ ،‏‏‏‏ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. (جامع الترمذي، كتاب المناسب، رقم الحديث:٣٧٧٢)
    ترجمہ: حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ (رضی الله عنہما)، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔
    7. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ (جامع الترمذي، كتاب المناسب، رقم الحديث :٣٧٦٨)
    ترجمہ: ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“
    8. عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي۔ (جامع ابترمذي، كتاب المناسب، رقم الحديث:٣٧٨٩)
    ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔
    9. عن أم المؤمنين عائشة بنت أبي بكر الصديق رضي الله عنهما، عن فاطمة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه سلم قال لها: ((يا فاطمة، ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين، أو سيدة نساء هذه الأمة)) (صحيح البخاري، رقم الحديث:٦٢٨٥)
    ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اے فاطمہ! کیا تو اس سے راضی نہیں کہ تو مومنہ عورتوں کی سرادر ہے، یا اس امت کی عورتوں کی سردار یے۔
    10. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ. (جامع الترمذي، كتاب المناقب، رقم الحديث:٣٧٨٤)
    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسین بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔

    طالبِ دعا
    محمد اويس مصباحي
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    عمدہ.
    ترمذی کی چند احادیث ضعیف ہیں. جنہیں شامل کیا گیا ہے. واللہ اعلم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں