عورت کی سوچ کیا ہے؟

صدف شاہد نے 'نثری ادب' میں ‏ستمبر 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    234
    سوال: منو بھائی کیسے بنے آپ ایسے، چاروں طرف تو کچھ اور تھا؟ لوگ بن رہے تھے، ترقی کر رہے تھے تو ایسا کیا ہوا کہ جس نے آپ کو الگ اور ’وکھرا‘ کیے رکھا؟

    منو بھائی: کچھ ایسی باتیں ہیں، جن سے میری سوچ کی یہ نہج بدلی یا طے ہوئی۔ وہ یہ ہوا کہ ایک صاحب میرے پاس انیس سو پچاس کے قریب آئے۔ جب میں صحافت میں نیا نیا آیا تھا، ففٹی فور میں، ففٹی فائیو میں، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا میرا پاکستان کب بنے گا؟ میں نے ان سے کہا کہ پاکستان تو بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا پاکستان‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بڑی بیٹی انیس سو سینتالیس میں اغواء ہوئی تھی۔ چھوٹی بیٹی اب اغواء ہوئی ہے۔ تو مجھے بتاؤ کہ میرا پاکستان کب بنے گا، جب میری بیٹیاں محفوظ ہوں گی، ہماری عزتیں محفوظ ہوں گی اور ہماری زندگیاں بھی محفوظ ہوں گی۔ تو اس بات نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ابھی ہم نے آزادی حاصل نہیں کی۔ ابھی ہم نے اپنا ملک بھی نہیں بنایا۔ ابھی ہم شہری بھی نہیں بنے اور قوم بھی نہیں بنے۔

    تو ایک تو یہ بات رہی میری ذہن میں اور دوسرے یہ کہ ایک عورت میرے پاس آئی جس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں بے چاری روتی رہی ہو گی۔

    اس نے کہا کہ ایک بچے کی گم شدگی کی خبر دینی ہے۔ اس نے کہا: چھ سال کا ہے، سات سال کا، محمد انور نام ہے اس کا۔ میں نے کہا کپڑے کیسے پہنے ہوئے ہیں؟
    اس نہ بتایا کہ نیلے رنگ کی قمیض ہے، ہوائی چپل ہے۔
    میں کہا شلوار؟ اس نہ کہا کہ سفید، مگر اب تو میلی ہو گئی ہو گی۔ اُس عورت کی اس بات سے میرے ذہن میں ایک عجیب سی بات آئی کہ اگر اس بچے کا باپ ہوتا اور خبر لکھواتا تو اس نے سفید شلوار ہی لکھوانی تھی۔ لیکن ماں کیوں کہ اُسے روزنہ دُھلی ہوئی شلوار پہناتی ہوگی تو اسے اس بات کا احساس ہے۔ اس لیے اگر بہن بھی ہوتی تو یہی کہتی کہ اب تو میلی ہو چکی ہو گی۔ اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ عورت اور طرح سوچتی ہے مرد اور طرح سوچتا ہے۔ ماں اور طرح سوچتی ہے بہن اور طرح سوچتی ہے، باپ اور بھائی اور طرح سوچتے ہیں۔ اس بات نے مجھے ایک نیا احساس دیا کہ چیزوں کو اور حالات کو عورت کی نگاہ سے دیکھنا بھی بہت اہم ہے۔ یہ شاید ٹراٹسکی نے کہیں لکھا ہے کہ ’اِف یو وانٹ ٹو چینج دی سچوئشن لُک ایٹ دی سچوئشن ود دی آئی آف اے وومن‘۔ (’اگر تم حالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہو تو حالات کو ایک عورت کی نظر سے دیکھو‘۔)


    پھر میں نے اس بارے میں ایک صاحب سے پوچھا کہ عورت کی سوچ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بڑا فرق ہے ہمارے لیے ایک ہفتہ ہوتا ہے عورت کے لیے سات دن ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے مہینہ ہوتا ہے اس کے لیے تیس دن ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے ایک دن ہوتا ہے اس کے لیے چار پہر ہوتے ہیں۔ اور اس نے کیوں کہ ایک ایک پہر کی زندگی گزارنی ہوتی ہے اس لیے اس کی سوچ کا انداز بھی اور ہے۔ اس کے بارہ ماہ، اس کا ستوار، اس کے موسم سب کچھ الگ ہوتے ہیں کیوں کہ اس نے انہیں بسر کرنا ہوتا ہے۔ اور عورت کی نظر سے دیکھنے کا مطلب، میں جنس کی بات نہیں کر رہا بلکہ ایک کمزور کی نظر سے حالات کو دیکھنا، عورت کمزوری کی، لاغری کی، محرومی کی علامت بنتی ہے۔ اس کے لحاظ سے چیزوں کو، بابائے اردو نے ایک بار کہا تھا کہ ہم درخت کو اس کے سائے میں لیٹنے والے مسافر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن درخت کو دیکھنے کے بہت سے طریقے ہیں لکڑ ہارا درخت کو اور طرح دیکھتا ہے۔ ترکھان اور طرح، لکڑی کا کاروباری اور طرح دیکھے گا لیکن کبھی درخت کو چڑیا کے گھونسلے میں بیٹھ کر بھی دیکھنا چاہیے اور اس سانپ کے اندیشے کے ساتھ جو انڈے پینے کے لیے آتا ہے تو درخت کی اہمیت تبدیل ہو جائے گی۔ تو مختلف زاویے ہیں دیکھنے کے اور عورت کی آنکھ سے حالات کو دیکھنا اور اس کے زاویے سے بچے کی شلوار کے رنگ کو طے کرنا، اس کے بعد سے میرے کالموں میں یہ بات آئی۔

    (منو بھائی کے 2006 میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو سے اقتباس ۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    عمدہ ۔ ۔اصل میں یہ جواب ماں کا تھا ، اور ماں بننے کے بعد اکثر عورتیں ایسا ہی سوچتی ہیں ۔۔ماں کی نگاہ سے حالات دیکھنا ضروری ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    بہت سے فیمینسٹ ایسی بات کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ حساسیت اور ایثار پسندی پہ کسی صنف کا قبضہ ہے۔ بہت سے مرد بھی حساس اور ایثار پسند ہوتے ہیں۔کچھ عورتیں ماں بن کر بھی سخت دل ہوتی ہیں۔ اصل بات انسان کے دل کی نرمی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    234
    جی بالکل لیکن ہر ماں پہلے ایک عورت ہی تو ہے
     
  5. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    234
    جی ۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 30, 2018
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    عورت کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دے سکتا.کیونکہ عورت کی نظر کئی رخ کئی چہرے ہو سکتے ہیں.جسےسمجھنا ذرا مشکل ہے.سوچ و نظر کبھی بھی بدل سکتی ہے. منفی ہو سکتی ہے.قرار نہیں ہوتا. البتہ اسلام نے ماں، بیٹی کی سوچ و فکر کا تذکرہ محبت، شفقت و مروت کے ساتھ کیا ہے.جس میں کسی قسم کی دنیاوی غرض نہیں ہوتی.
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں