خطبہ حرم مدنی 28-09-2018 " نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے" از ثبیتی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏ستمبر 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    718
    ﷽​

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 18 محرم الحرام 1440 کا خطبہ جمعہ " نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ سورت انعام کی آیت 162 پوری زندگی کا با مقصد خاکہ پیش کرتی ہے اس میں زندگی کے ہر گوشے کو اللہ کے لیے گزارنے کی ترغیب ہے، زندگی میں للہیت کی موجودگی سے انسان کا ہر کام اسی کی رضا کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔ عبادات میں فرائض کا مقام سب سے بلند ہے اور فرائض میں نماز سب سے اہم رکن ہے، عقلمند انسان فرائض کے ساتھ نوافل کی پابندی بھی کرتا ہے تا کہ اللہ کی محبت پا لے، اور مستجاب الدعوات بن جائے۔ اسی طرح اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا بھی بہت بلند عبادت ہے، یہ صرف اللہ کے لیے خاص ہے کسی حجر ، شجر، قبر یا ولی کے لیے نہیں ہو سکتی، اگر کوئی کرے تو یہ شرک کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی جانب سے لعنت کا باعث بھی ہے۔ ہماری زندگی حیات اور ممات دو حصوں میں منقسم ہے اور ہر ایک حصہ اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں تو یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے، اس سے ہمیں انفرادی اور معاشرتی دونوں فوائد حاصل ہوں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان جب للہیت کے ساتھ زندگی گزارے تو کسی نکتہ چینی کرنے والے کی جانب متوجہ ہی نہیں ہوتا وہ اپنے مشن پر گامزن رہتا ہے۔ اسی طرح ملکی اور قومی تعمیر و ترقی میں معاونت بھی اللہ کے لیے زندگی گزارنے میں شامل ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

    خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کی تکریم کرتے ہوئے اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، میں نعمت ایمان اور اس فضیلت پر اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کی بندگی ساری مخلوقات کا مقصد ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں گھٹیا حرکتوں اور گالم گلوچ سے روکا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور قلب سلیم والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} آپ کہہ دیں کہ میری نماز ،میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے [162] اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الأنعام: 162، 163]

    اس آیت کریمہ نے زندگی کے ہدف، ذمہ داری اور مقصد کی منظر کشی کی ہے، وہ اس طرح کہ مسلمان کی زندگی اور موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، حیات و ممات اللہ کے لیے ہے جو یوم جزا کا مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا ، ہمیں رزق دیا اور ہمیں زندگی عنایت کی۔

    اس آیت کی تلاوت ، اس کے ذریعے وعظ اور اس میں غور و فکر عظیم مفاہیم اور معانی کو جلا بخشتے ہیں، ایسے خوبصورت معانی کی تجدید ہوتی ہے جن کا ہر وقت ذہن میں تازہ رہنا ضروری ہے، جنہیں غفلت یا فراموشی کے دائرے میں نہیں چھوڑا جا سکتا ، وہ خوبصورت معانی یہ ہیں کہ انسان کی نماز، عبادات، زندگی اور موت سب کچھ اللہ کے لیے ہو، انسان اپنے تمام امور میں خالق ،رازق ، مختار کل، اور مُدبر ذات کے تابع ہو، انسان اپنے تمام معاملات میں رضائے الہی کا متلاشی ہو اس کے علاوہ اسے کسی چیز کی تمنا نہ ہو؛ یہی وجہ ہے کہ رضائے الہی کا متلاشی بولتا ہے تو اللہ کے لیے ، کوئی کام کرتا ہے تو صرف اللہ کے لیے، رات دن صبح اور شام اس کا ہر وقت اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ہوتا ہے۔

    یہ آیت اعلی ترین مقام حاصل کرنے کی یاد دہانی کراتی ہے اور وہ ہے عبودیت کہ مسلمان کسی بھی چیز کو اپنائے یا چھوڑے ہر اقدام اللہ تعالی پر ایمان اور اخلاص کے باعث ہو، اللہ تعالی سے محبت اور اشتیاق کی بنا پر ہو، اللہ تعالی سے خوف اور اس کے فضل کی تمنا کے لیے ہو۔ حلال خوری اور حرام سے دوری، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسن اخلاق، آنکھوں کی حفاظت اور حجاب، اللہ تعالی کی جانب دعوت، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا سب کچھ اللہ کے لیے ہو۔

    {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي} آپ کہہ دیں: میری نماز اور میری قربانی [الأنعام: 162] حصولِ قربِ الہی کے لیے بنیادی ترین اور عظیم ترین عبادات وہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔

    ڈھیروں اجر و ثواب کا متلاشی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل اور سنتوں کا بھی خصوصی اہتمام کرتا ہے، اس طرح وہ اللہ تعالی کی محبت بھی پا لیتا ہے، جس کی بدولت اس کی روح اور جسم رفعت و طہارت کے اعلی مقام تک پہنچ جاتی ہے، رسول اللہ ﷺ حدیث قدسی میں فرماتے ہیں: (۔۔۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں) بخاری

    {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي} آپ کہہ دیں: میری نماز اور میری قربانی [الأنعام: 162] اللہ کے لیے قربانی اور جانور ذبح کرنا عظیم ترین عبادت ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے اسے نماز کے ساتھ منسلک کر کے فرمایا: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ [الكوثر: 2] اس عبادت کے بھی مخصوص اہداف اور مقاصد ہیں، اسی لیے اسے ہر شریعت میں شامل کیا گیا؛ ویسے بھی اللہ تعالی اس عبادت کو پسند فرماتا ہے اور اس کے فوائد بھی بہت زیادہ ہیں۔

    اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا ایمان کے بنیادی امور میں شامل ہے، عقیدہ توحید کے مظاہر میں سے ایک ہے، اس کو قربانی بھی کہتے ہیں، اسلام میں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہی قربانی کرنا جائز ہے، قربانی کا جانور روزِ قیامت اپنے چمڑے ، بال اور کھروں سمیت پورے جسم کے ساتھ حاضر ہو گا اور اسے بندے کے ترازو میں شامل کر دیا جائے گا؛ بشرطیکہ قربانی اللہ کے لیے کی گئی ہو، اللہ کے سوا کسی کے لیے نہ ہو۔ اس لیے جانور کسی حجر، شجر، قبر یا ولی کے لیے ذبح نہ کیا جائے، بلکہ صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے خالص ہو۔

    یہ شرک ہے کہ قربانی اور جانور غیر اللہ کے لیے پیش کئے جائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے چار جملے بتلائے: (غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو ، والدین کو لعنت دینے والے پر اللہ کی لعنت ہو، بدعتی شخص کو پناہ دینے والے پر اللہ کی لعنت ہو، زمین کا ڈانڈا بدلنے والے پر اللہ کی لعنت ہو) مسلم

    {وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔[الأنعام: 162] زندگی اللہ رب العالمین کے لیے ہو، یہ وہ زندگی ہے جو اللہ کے دین اور شریعت کے مطابق ہو، اوامر اور نواہی کے مطابق ہو، زندگی میں خوشی غمی، رات اور دن سب اللہ کے حکم کے مطابق ہوں، زندگی میں اٹھنا بیٹھنا، حرکت و سکونت، نیند اور بیداری، خرید و فروخت، کھانا پینا، تعلیم و تعلم، تجارت و ملازمت، الغرض ہر چیز اللہ رب العالمین کے حکم کے مطابق ہو۔

    یہ بہت بڑا خسارہ ہے کہ انسان اس بات کو بھول جائے اور زندگی کے سفر میں اس طرح گم ہو جائے کہ اسے اپنی زندگی کے ہدف اور مقصد کا ہی علم نہ ہو، پھر اپنے یکتا پروردگار اور رب اکبر کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا بیٹھے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ} اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا ۔ [الحشر: 19]

    مسلمان کا ایک ہی معبود ہے اور وہ اللہ ہے، وہ مالک الملک ہے، اللہ تعالی یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کے علاوہ ہر کسی کی غلامی سے آزاد ہو جائے، انسان کی ساری زندگی اور لین دین سمیت اس کا انجام کار اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب ہو، اس طرح مسلمان اللہ کے لیے زندہ رہے گا اور اللہ تعالی کی اطاعت میں ہی زندگی گزارے گا۔

    یہ زندگی اگر ہم اللہ کے لیے گزاریں، اس کی رضا کے مطابق بسر کریں، اللہ کی محبوب چیزوں سے محبت کریں اور ناپسند چیزوں کو ناپسند جانیں، اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے جلا بخشیں، تو یہ زندگی انتہائی خوش گوار اور پر لطف ہو گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ [الرعد: 28]

    مسلمان کی ہمیشہ یہی حالت ہوتی ہے، مسلمان کا کوئی بھی لمحہ یا لحظہ ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ اللہ تعالی، ذکر الہی یا عبادت الہی سے دور ہو۔

    اللہ رب العالمین کے لیے زندگی اس طرح بھی ہو گی کہ اپنی عمر تعمیر و ترقی میں صرف کریں، عقل کو دھرتی سنوارنے کے لیے کام میں لائیں، صنعتی اور زرعی ترقی میں استعمال کریں، معاشرتی زندگی میں بہتری لائیں، امن و خوشحالی قائم کریں، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، تو اس شہر کو پر امن بنا دے، اور یہاں کے رہنے والوں میں سے جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں، انہیں مختلف قسم کے میوے عطا فرما، اللہ نے کہا اور جو کافر ہوگا اسے بھی کچھ دنوں تک نفع پہنچاؤں گا، پھر اسے جہنم کے عذاب میں داخل ہونے پر مجبور کر دوں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے [البقرة: 126]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں ،وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ روزِ جزا کا مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اولین و آخرین کا معبود ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ متقی لوگوں کے ولی ہیں، اللہ تعالی آپ پر اور آپ کی آل سمیت تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

    حمد و صلاۃ کے بعد: میں سب کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

    ایسا مسلمان جو اپنی زندگی اللہ کے لیے بنا لے تو وہ بارش کی طرح ہوتا ہے، جہاں بھی جائے فائدہ پہنچاتا ہے، دلوں میں امید کی کرن جگاتا ہے، اللہ پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے، زندگی میں خدا ترسی کو فروغ دیتا ہے، خیر پھیلاتا ہے اور مساکین کو کھانا کھلاتا ہے، کمزور، یتیم اور بیماروں کا خیال کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا} اور جس نے ایک جان کو زندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا [المائدة: 32]

    اور جس کی زندگی اللہ کے لیے ہو تو وہ اللہ کے سوا کسی اور سے بدلے یا شکریہ کا بھی متمنی نہیں ہوتا، وہ اپنے مشن میں بڑھتا چلا جاتا ہے کسی کی نکتہ چینی اور اعتراضات اس کے قدموں کو نہیں روک پاتے، ان کی زبان یہ کہتی ہے کہ: {إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (9) إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (10) فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (11) وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا} ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی کلمہ شکر[9] ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بڑا ہی اداس بنانے والا ہوگا، اور جس کی تیوری چڑھی ہوگی [10] تو اللہ نے انہیں ان کی اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں چہرے کی شادابی اور فرحت عطا کی [11] اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس دیا ۔ [الإنسان: 9 - 12]

    اللہ کے بندو!

    رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

    اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔

    یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

    یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

    یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

    یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، ہماری زبان کو صحیح سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! توں ہی معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔

    یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے وہ سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔

    یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم ناتوانی، سستی، بزدلی، بخیلی ، بڑھاپے، قرضوں کے بوجھ، اور لوگوں کے دباؤ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے بہترین انجام کار کا سوال کرتے ہیں، ماضی میں جو کچھ بھی گناہ اور نافرمانیاں ہوئیں ان کی معافی مانگتے ہیں۔

    یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمت، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔

    یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔

    یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کے کام کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

    {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}[البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

    تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,268
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    415
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں