بلی کے خواب میں چھیچھڑے

صدف شاہد نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اکتوبر، 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    اُمید پر دنیا قائم ہے۔ یہ مثل ہمیشہ کی طرح آج بھی درست ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اُمیدوں کے سہارے ہی زندگی بسر کی جائے ۔ صحیح فکر یہ ہے کہ اُمید کو زندگی گزارنے اور زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ امید کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ کچھ حاصل کرنے کی خواہش ہے یا یہ یقین یا بھروسا ہے کہ کوئی مطلوبہ مراد یا خواہش پوری ہو گی۔ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ امیدیں خوش فہمی کی سمت بھی بھٹک جاتی ہیں ۔ یہ صورت غیرحقیقت پسندانہ ہے اور انسان اس صورتِ حال میں اکثر دن میں خواب دیکھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یوں ہو گا تو یوں ہو گا اور پھر یوں ہو گا تو یوں ہو گا۔ ۔اس طرح کی سوچ بے عملی، کاہلی اور بے پروائی کو جنم دیتی ہے۔ امید اگرچہ ہمیشہ خوشگوار احساس نوازتی ہے اور اچھی امیدوں سے بوجھل وقت عمدگی سے گزر جاتا ہے لیکن خوش فہمی پر مبنی امیدیں حقیقت کے سانچے میں نہیں ڈھل پاتیں ۔

    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

    خواہشوں کا بھی کوئی معیار ہوا کرتا ہے۔۔؟
    کیسی خواہش ہے کہ مٹھی میں سمندر ہوتا۔۔!

    صحت مند امیدیں جو حقائق کو مدنظر رکھ کر باندھی جائیں وہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے لگن، انتھک محنت، خلوص اور مستقل مزاجی کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ایسی امیدوں کی سمت ہمیشہ مستقبل کی طرف ہوتی ہیں اور مستقبل عمل اور کوششِ پیہم سے عبارت ہوتا ہے۔
    امید اور خواہش میں بڑا لطیف فرق ہے۔ خواہش تو ہر شخص کو بہت سی چیزوں کی ہو سکتی ہے اور غیر حقیقت پسند شخص کا ذہن تو ایسی خواہشات کا گھر ہوتا ہے ۔ایسا شخص اداس اور خود کو بد نصیب سمجھتا رہتا ہے ۔ اس کے برعکس با عمل اور حقیقت پسند آدمی خواہشات کو عمل کے تابع بناتا ہے کیونکہ وہ خود فریبی کے جھانسے میں نہیں آتااور اس کی خواہش کو امید کہا جا سکتا ہے ۔ امید اور خواہش کے اس لطیف فرق کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ خواہشات کو عمل اور قوتِ ارادی کے ذریعے سے امید بنایا جا سکتا ہے ، ورنہ بے عمل اور حقیقت سے دور خواہشات دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہوں گی یا ان کو آپ بلی کے خواب میں چھیچھڑےبھی کہہ سکتے ہیں ۔

    حقیقت پسندانہ خواہش اور امیدِ صحت زندگی کی علامت ہیں ، لیکن غیر حقیقت پسندانہ امیدیں خوش فہمی کی پیداوار ہوتی ہیں
    اور اُن سے آخرکار مایوسی پیدا ہوتی ہے ۔ دماغ کو امید سے نہیں بلکہ قوتِ فیصلہ سے کام لینا چاہیے اور راہِ عمل کی سمت اختیار کرنی چاہیے۔ ہر شخص کا دماغ قدرتی طور پر صرف اپنے ذہن اور اپنے احکام کو مانتا اور قبول کرتا ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ امیدوں کو بے عملی سے نہ پالا جائے بلکہ ان کو خود فریبی سے نکال کر حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا جائے ۔
    اگر یہ قابلِ تکمیل اور جائز خواہش پر مبنی ہیں تو اُن کے لیے کوشش کرنی چاہیے ورنہ ان کو دامنِ دل سے جھٹک دینا چاہیے

    سفرِ حیات میں صرف امیدوں سے کام نہیں چلتا ۔ امید کے لیے عمل اور عمل کے لیے ذہن اور روح کے پورے خلوص کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد مستقل مزاجی، عزم اور مشق بھی ضروری ہیں ۔ اس سے منزل کا تصور بھی واضح ہوتا ہے
    امیدیں پوری کرنے کے لیے آپ اپنے ذہن کو واضح ہدایات دیجیے۔ دوسرے الفاظ میں آپ اس سمت میں کام کرنے اور کوشش کرنے کا ایک واضح اور ٹھوس لائحہ عمل پہلے سے طے کر لیجیے پھر عمل کیجیے لیکن جلد بازی کے بغیر ۔چوں کہ ہمارے ذہن کا لاشعوری حصہ کافی پیچیدہ اور رنگا رنگ یا متنوع ہوتا ہے، اس لیے ہر اس تصور یا خیال کے علاوہ جس پر عمل کرنا ہوتا ہے ، دوسرے تمام تصورات کو ذہن کے پردے سے ہٹا کر یک سوئی حاصل کرنا لازم ہے ۔ بہ صورتِ دیگر خیالات کے گڈمڈ اور ناکام ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ مستقل مزاجی نہیں رہ پاتی۔

    کوشش اور عمل کے ساتھ ساتھ امیدیں پوری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنا اور دعا کرنا بھی ضروری ہے۔ انسان کے بس میں تو صرف کوشش کرنا ہے صرف اللہ ہی عمل کو طاقت اور کامیابی عطا کرتا ہے ۔ خوف اور وسوسے سے نجات کے لیے اللہ کی عبادت کریں ۔ جو شخص صرف امیدوں پر جیتا ہے ،کوشش نہیں کرتا وہ فاقوں مرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں کو ہمیشہ اپنی نعمتوں سے مالا مال کرنا چاہتا ہے ، لیکن اسی وقت جب ہم یہ ہاتھ ان نعمتوں کو سنبھالنے کے لیے استعمال کریں اور آگے بڑھائیں ۔

    منقول
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    471
    کسی شاعر کا کہنا ہے

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جاکر مگر رہا نہ کرو

    بہت عمدہ شئیرنگ ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں