نبی ﷺ نے کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ پہننے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

عمر اثری نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اکتوبر، 15, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    نبی ﷺ نے کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ پہننے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟


    سوال: نبی ﷺ نے کس کس رنگ کا عمامہ پہنا ہے اور عمامہ باندھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

    جواب: میرے علم كے مطابق نبی ﷺ نے دو رنگ كے عمامے پہنے ہیں۔
    کالا عمامہ:
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
    “جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح كے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ (كے سر مبارک) پر کالے رنگ کا عمامہ تھا۔“
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1358)

    اور ایک دوسری روایت میں ہے:
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
    ”نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اس حال میں کہ آپ (كے سر مبارک) پر کالے رنگ کا عمامہ تھا۔“
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1359)

    سفید عمامہ:
    مستدرک حاکم کی ایک لمبی حدیث میں ہے:
    وَأَصْبَحَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ مَنْ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ، فَأَدْنَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَقَضَهُ وَعَمَّمَهُ بِعِمَامَةٍ بَيْضَاءَ، وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَقَالَ: هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ اعْتَمَّ
    ”اگلح دن صبح عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کالے رنگ کا عمامہ پہن کر تیار ہو گئے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو اپنے قریب بلایا، ان کا کالا عمامہ اتار کر ان كے سر پر سفید عمامہ باندھ دیا اور پچھلی جانب چار انگلیوں كے برابر یا اس كے قریب قریب مقدار میں شملہ لٹکایا۔ پھر فرمایا: آئے ابن عوف! اس طرح عمامہ باندھتے ہیں۔“
    (مستدرک حاکم طبع دار الکتب العلمیۃ: 4/582، حدیث نمبر: 8623)

    اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ مزید علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
    (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: 1/218)

    اس كے علاوہ میں عمامہ كے رنگ كے متعلق کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں تلاش کر سکا۔ (واضح رہے کہ علماء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان رنگوں كے علاوہ بھی استعمال کر سکتے ہیں)

    اور جہاں تک عمامہ باندھنے كے طریقے کا تعلق ہے تو عمرو بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ
    ”جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ ﷺ کو ممبر پر دیکھ رہا ہوں، آپ ﷺ (كے سر مبارک) پر کالا عمامہ ہے آپ ﷺ نے اُس كے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں كے درمیاں (کمر کی طرف) لٹکایا ہوا ہے۔“
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1359)

    اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْدِلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
    ”جب نبی اکرم ﷺ عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔
    (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1736، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)
    واللہ اعلم بالصواب!

    کتبہ عمر اثری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں