دیوار مگر رکھنا

سیما آفتاب نے 'حُسنِ کلام' میں ‏اکتوبر، 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    دیوار میں در رکھنا
    دیوار مگر رکھنا

    پرواز کے موسم تک
    ٹوٹے ہوئے پر رکھنا

    شیشے کی عمارت ہے
    پتھر کا جگر رکھنا

    حق میرا مجھے دے دو
    پھر دار پہ سر رکھنا

    جانا ہے عدم بستی
    کیا زاد سفر رکھنا

    پندار بھلے ٹوٹے
    کردار مگر رکھنا

    کٹ جائے بھلے گردن
    دستار میں سر رکھنا

    لمبی ہے شب فرقت
    آنکھوں میں سحر رکھنا

    سورج سے نہیں خطرہ
    جگنو پہ نظر رکھنا

    تہذیب کے لاشے کو
    مت لا کے ادھر رکھا

    باطن ہے منور تو
    کیا شمس و قمر رکھنا

    مشکل ہے بہت مشکل
    دل میں ترے گھر رکھنا

    شعروں میں حسیب اپنے
    کچھ لعل و گہر رکھنا

    حسیب احمد حسیب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں