بدلتا زمانہ اور رشتون کی بے قدری

صدف شاہد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏اکتوبر، 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    زمانہ تیزی سے تبدیلی کی جانب رواں دواں ہے۔ آج کے دور کی نسبت ماضی میں وسائل محدود لیکن زندگی پرسکون تھی۔ رشتوں میں محبتیں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ دلوں میں قربتیں تھیں، چنانچہ سب مل جل کر رہتے تھے جبکہ آج کے دور میں محبت ناپید سی ہو گئی ہے۔ گو کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل کے لڑکے لڑکیاں زیادہ باشعور ہیں، پھر بھی محبت جو ہماری پہچان تھی اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ اب دلوں میں گنجائش اور تحمل کا مادہ باقی نہیں رہا۔
    آپس میں نااتفاقیاں، رنجشیں، ناراضگیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ کہیں بھائی بہن میں لڑائی جھگڑے ہین تو کہیں ساس، بہو میں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ نندیں، بھابیوں سے نالاں ہیں اور بھابیاں، نندوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص اپنی الگ چار دیواری بنانا چاہتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ بہو گھر میں آتے ہی علیحدہ گھر کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہے۔
    بہو کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اتنا عرصہ وہ ماں باپ کے گھر میں رہ کر آج ایک نئے گھر میں آئی ہے جہاں ہر قدم پر ایک نیا امتحان اس کا منتظر ہے، ہر لمحہ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کے والدین نے اس کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
    وہ ایک اچھی بیوی، اچھی بھابھی، اور اچھی بہو بن کر دکھائے چونکہ ذمہ داریوں سے فرار آسان ہے لیکن مزہ تو تب ہے جب پوری خوشدلی سے انہیں نبھائیں۔
    سسرال ہر لڑکی کیلئے انجانا ہوتا ہے لیکن ان انجانے رشتوں کو اپنائیں کیونکہ یہی لڑکی کا حقیقی گھر ہوتا ہے جسے چاہے تو وہ اپنے خلوص سے خوشیوں کا گہوارہ بنا سکتی ہے اور چاہے تو اس کا شیرازہ بکھیر سکتی ہے۔
    برائیوں کو اپنے عمل سے اچھائیوں میں بدلنا ہی فن ہے۔ مناسب وقت پر الگ ہونے میں کوئی برائی نہیں لیکن جب تک سب کیساتھ رہیں، مل جل کر رہیں، سب کو ساتھ لیکر چلیں۔
    یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں صرف اپنے دل میں گنجائش پیدا کریں پھر دیکھیں فاصلے قربتوں میں خودبخود تبدیل ہو جائیں گے اور یہ انجانے رشتے اپنوں سے بڑھ کر محسوس ہونگے۔
    عموما! ساس نندیں بہت چاہ کیساتھ سینکڑوں میں سے ایک چاند سا مکھڑا اپنے لاڈلے کیلئے پسند کرتی ہیں مگر جیسے ہی یہ چاند ان کے آنگن میں اترتا ہے اس میں گرہن لگ جاتا ہے۔
    بہو یا بھابھی پر تنقید برائے تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے اس کے ماں باپ، بہن بھائی، سہیلیاں سب اس سے دور ہیں لہٰذا اس لڑکی کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ سب اس کے اپنے ہیں، یہ گھر اس کا ہے۔ اس کو بگاڑنا یا بنانا اس کے ہاتھ میں ہے۔
    اہلخانہ اسے کھلے دل سے اپنائیں، اپنی بہو یا بھابھی کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو سراہیں، اگر بہو کی کسی بات سے تکلیف پہنچے تو چار لوگوں کے درمیان اس کی برائی کرنے سے بہتر ہے کہ خود اس سے وہ بات کہہ دیں تاکہ گلے شکوے طول نہ پکڑیں۔
    بہو گھر کی عزت ہوتی ہے، کوشش کریں گھر کی بات گھر ہی میں رہے اور گھر کی عزت پر حرف نہ آئے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر بہو کو بھی بیٹی بنایا جا سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر کے بڑے بچوں کی نادانیوں کو اپنی فہم و فراست اور پیار و محبت سے سدھاریں تو گھر کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے۔ مختصر یہ کہ رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں، ان کی قدر کرنا ہر ایک پر لازم ہے -

    جیواُردو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت اچھی بات

    رشتے جہاں ایک طرف مضبوطی لیے ہوتے ہیں اتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں ان کو احتیاط سے برتنا ایک فن ہے جس کو سیکھنا ضروری ہے۔

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جی بالکل
    آج ایک جگہ پڑھ رہی تھی رشتے عموما ردِعمل کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں جو کہ ہمارا دوسروں کے لیے رویہ پیدا کرتا ہے اور آگے چل کر یہی ایک ربط ثابت ہوتا ہے جو رشتوں کو نفرت یا محبت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جسطرح بہتا پانی شفاف اور تازہ رہتا ہے اسی طرح رشتے بھی روانگی مانگتے ہیں اور تسلسل کا پانی انہیں شاداب رکھتا ہے لیکن انفرادی و اجتماعی زندگی کے راحت و سکون کا دارومدار احساس کے کھونٹی پر لٹکا رہتا ہے۔
    رشتے نبھتے نہیں اُن کو نبھایا جاتاہے۔ خالی ضرورتیں پوری کرنے سے رشتوں کا حق ادا نہیں ہوتا اور نہ مضبوطی پیدا ہوتی ہے ۔ ضرورتیں آپ ملازمین کی بھی پوری کرتے ہیں ، ضرورتیں آپ اُن کی بھی پوری کر دیتے ہیں جن کو آپ جانتے تک نہیں اصل چیز ہے احساس
    جب تک یہ کسی بھی رشتے میں پیدا نہ ہو ۔ رشتہ نبھتا نہیں گھسیٹا جاتا ہے تبھی ایسے رشتے مکڑی کے جالوں سے بھی نازک ہوتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    جی بالکل ایسا ہی ہے۔ رشتے اور احساس لازم و ملزوم ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں