ٹک ٹاک ایپ (tik tok app): اسلام کی نظر میں

عمر اثری نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اکتوبر، 24, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    ٹک ٹاک ایپ (tik tok app): اسلام کی نظر میں
    تحریر: عمر اثری سنابلی
    یہ دور ایجادات کا دور کہلاتا ہے۔ نئی نئی ایجادات وجود میں آرہی ہیں۔ لوگوں میں ان ایجادات کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ ہر عام و خاص اور عالم و جاہل ان ایجادات سے فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ خصوصا موبائل اور انٹرنیٹ نے آج لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ لوگ بھی ان کے غلام ہو چکے ہیں۔ اور ان کی یہ دیوانگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر ہر گوشہ سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ کسی کی پیدائش ہو تو سوشل میڈیا، کسی کی وفات ہو تو سوشل میڈیا، کوئی بیمار ہو تو سوشل میڈیا اور کسی کی شادی ہو تو سوشل میڈیا۔ غرض یہ کہ زندگی میں جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ انسان کو پیش آتا ہے تو وہ سوشل میڈیا کا رخ کرتا ہے، صرف نظر اس کے کہ وہ حادثہ یا واقعہ خوشگوار ہے یا ناخوشگوار۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی زندگی میں ہونے والے حادثات و واقعات سے اعزاء و اقارب سے زیادہ سوشل میڈیا کے افراد واقف ہوتے ہیں۔
    کبھی کبھی دل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی انسان نئی نئی ایجادات کے ذریعہ ترقی کر رہا ہے یا پھر وہ ترقی کے نام پر تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ کبھی انسان ایسی چیزیں بھی بناتا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ جیسے کہ آج کل کتنے سارے ایپس (Apps) ہیں جن میں صرف وقت کا ضیاع ہے۔ ان ایپس میں سے ٹک ٹاک (Tik Tok) اور میوزیکلی (musical.ly) بھی ہیں۔ جو لوگ Tik Tok اور اس جیسی ایپلیکیشنز کے متعلق جانتے ہیں ان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ یہ ایپلیکیشنز فحاشی اور ضیاع وقت کا اڈہ ہیں۔ ان ایپس (Apps) میں فلمی ڈائیلاگ پر ایکٹنگ (acting) کی جاتی ہے، گانے گائے اور سنیں جاتے ہیں اور بے پردگی عام ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ یہ ایپس سراپا شر ہیں، ان میں خیر کا ذرا سا بھی پہلو نہیں ہے۔
    لیکن لوگوں میں ان ایپلیکیشنز (applications) کی دیوانگی دیکھنے کے قابل ہے خصوصا نوجوانان ملت اپنے اکثر اوقات کو ان ایپلیکیشنز میں ہی ضائع کرتے ہیں۔
    بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جس ”وقت“ اور ”جوانی“ کی شریعت اسلامیہ نے اتنی اہمیت بتلائی ہے اسکو یہ نوجوانان ملت بے دریغ لایعنی اور فضولیات میں صرف کر رہے ہیں۔ یہی نہیں نوجوان لڑکیاں بھی ”لڑکیاں لڑکوں سے کم نہیں“ کا پرفریب نعرہ لگاتے ہوئے ان فحش کاریوں کے دلدل میں کود پڑی ہیں۔
    شریعت اسلامیہ ہمیں لایعنی کاموں سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتی ہے اور لایعنی کاموں سے اجتناب کو انسان کے اسلام کا حسن قرار دیتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
    ترجمہ: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔
    (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2317، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3976۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

    اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں اور کاموں کو ترک کر دے اور اپنے آپکو صرف ان باتوں اور کاموں میں مشغول رکھے جن کا کوئی فائدہ ہو، جو توجہ کے قابل ہوں اور جن کا کوئی مقصد و مطلب ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب انسان فضولیات سے اجتناب کرتا ہے صرف بامقصد اور فائدے مند چیزوں میں مشغول رہتا ہے تو وہ اپنے اسلام کے حسن اور خوبی کو کمال کے درجہ تک لے جاتا ہے اور جس کا اسلام بہتر ہو جائے اس کا کیا کہنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
    إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا
    ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے (جتنا کہ اس نے کیا ہے)۔
    (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 42)

    گویا کہ اگر انسان اپنے آپ کو فضولیات سے محفوظ رکھتا ہے تو وہ فضائل کا حقدار بن جاتا ہے۔
    اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نفع بخش چیزوں کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے کی وصیت فرمائی ہے، فرمایا:
    احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ
    ترجمہ: جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس کی حریص بنو۔
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2664)

    لہذا ہمیں ایسی چیزوں کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمارے لئے فائدے کا باعث ہوں۔
    آج لوگ اپنے خالی اوقات کو اور اپنی صحت کو غنیمت نہیں سمجھتے بلکہ ان کو معاصی میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
    اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ
    ترجمہ: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو! اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔
    (مستدرک حاکم ط دار الکتب العلمیۃ: 4/341، حدیث نمبر: 7846۔ مسند شہاب قضاعی ط الرسالۃ: 1/425، حدیث نمبر: 729۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے)
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔
    (صحيح الترغيب والترهيب ط مکتبۃ المعارف: 3/311، حدیث نمبر: 3355)

    یہ حدیث بہت جامع ہے۔ اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان چیزوں کے متعلق تنبیہ فرمائی ہے جن کے بارے میں اکثر لوگ غفلت کے شکار رہتے ہیں۔ لہذا ہمیں نبی ﷺ کی اس تنبیہ پر دھیان دیتے ہوئے اپنی جوانی، صحت، مالداری، فراغت اور حیات کو غنیمت جان کر انہیں شریعت کی بجا آوری میں استعمال کرنا چاہئے۔ کیونکہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ اس کی زندگی کتنی ہے لہذا جب تک موقع ہے حکم الہی اور حکم رسول کی بجا آوری کرتا رہے۔
    لیکن ان نعمتوں کی اہمیت کے باوجود لوگ انکی قدر نہیں کرتے۔ نبی ﷺ نے فرمان ہے:
    نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ
    ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔
    (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6412)

    آج ہم سوچتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، جیسا چاہیں عمل کریں، جوابدہی کا احساس ہمارے اندر سے ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم گناہ کرتے ہوئے ذرا سا بھی نہیں ہچکچاتے۔ اللہ ﷻ نے ہمیں متنبہ کرتے ھوئے فرمایا:
    أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
    ترجمہ: کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے؟
    (سورۃ المؤمنون: 115)

    اس آیت کریمہ میں اللہ ﷻ نے لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم اپنے مرضی کے مالک ہو، چاہے جیسا عمل کر سکتے ہو تو اچھی طرح یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تمہیں ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے عبادت، لہذا اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرو۔ لایعنی کاموں اور فضولیات میں پڑ کر شریعت کی مخالفت کرکے تم بچ نہیں سکو گے بلکہ تم سے ایک ایک چیز کا حساب ہوگا۔ نبی ﷺ نے بھی اسی بات کو بیان کیا ہے:
    لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ
    ترجمہ: آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔
    (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2416۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے)

    اس حدیث میں ہے کہ بروز قیامت لوگوں سے ان کی مکمل زندگی کے متعلق سوال کیا جائے گا جس میں جوانی بھی شامل تھی لیکن اس کے باوجود نبی ﷺ نے اس کو الگ سے ذکر کیا ہے جو جوانی کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جوانی پا کر انسان اس کو بے دریغ غلط کاریوں میں استعمال کرتا ہے اور ان غلط کاریوں میں اپنے مال کا کثیر حصہ خرچ کرتا ہے۔ لہذا اس سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تمہارے پاس جوانی تھی، تمہارے پاس مال تھا تم نے اس کو کہاں صرف کیا۔
    تصور کریں! اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا ہم بروز قیامت اللہ کے سامنے جوابدہی کی استطاعت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی جوانی اور مال کا صحیح استعمال کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنی جوانی اور مال گانے سننے اور فلمیں دیکھنے میں لگا رہے ہیں؟ کیا ہم نے آخرت کی تیاری کر لی یے؟
    یاد رکھیں! آپ کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آپ ٹک ٹاک ایپلیکیشن (tik tok app) میں وڈیوز اپلوڈ (upload) کرنے میں مصروف ہوں یا اس میں موجود فحش کاریوں کو دیکھنے میں، واٹس ایپ (whatsapp) میں گانے، فلمی ڈائیلاگ اور رومانس بھرے اسٹیٹس (status) لگانے میں مشغول ہوں یا یوٹیوب (youtube) اور دیگر ویب سائٹس (websites) میں فحش چیزیں پھیلانے میں، یا پھر موبائل میں گانے سننے اور فلمیں (خواہ وہ فحش فلمیں ہوں یا اسکے علاوہ) میں آپکا وقت صرف ہو رہا ہو۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔ فرمان الہی ہے:
    مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ترجمہ: (انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔
    (سورۃ ق: 18)

    مزید فرمایا:
    وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ﴿10﴾ كِرَامًا كَاتِبِينَ﴿11﴾ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
    ترجمہ: تم پر محافظ بزرگ (فرشتے) لکھنے والے مقرر ہیں، جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔
    (سورۃ الانفطار: 10-12)

    اور یہ ریکارڈ برائے ریکارڈ نہیں ہے بلکہ قیامت کے دن یہ ریکارڈ ہمارے سامنے پیش کئے جائیں گے:
    وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ
    ترجمہ: اور نامہ اعمال سامنے رکھ دئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے۔
    (سورۃ الکہف: 49)

    لہذا اپنے ریکارڈ کو بہتر بنائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی قیامت کے دن ان لوگوں کی صف میں شامل ہو جائیں:
    يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا
    ترجمہ: ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے۔
    (سورۃ الکہف: 49)

    پھر وہاں کوئی راہ فرار نہ ہوگی۔ وہاں آپ کے اعضاء خود آپ کے خلاف گواہی دیں گے:
    الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
    ترجمہ: ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے تھے۔
    (سورۃ یس: 65)

    اس لئے جو وقت میسر ہے اس کو غنیمت سمجھیں اور اپنی زندگی اسلامی زندگی بنائیں کیونکہ وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تیز رفتار ہوتا ہے اور کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔
    ٹک ٹاک (tik tok) اور میوزیکلی (musical۔ly) جیسے ایپس وقت کی بربادی اور فضولیات کے ساتھ ساتھ درج ذیل گناہوں کو بھی شامل ہیں:
    ➊ موسیقی:
    نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
    لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ ، وَالْحَرِيرَ ، وَالْخَمْرَ ، وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ يَعْنِي الْفَقِيرَ لِحَاجَةٍ ، فَيَقُولُونَ ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا ، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً ، وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
    ترجمہ: میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لئے) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لئے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ ﷻ رات کو ان کو (ان کی سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دے گا، پہاڑ کو (ان پر) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لئے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
    (امام بخارى رحمہ اللہ نے اسے صحيح بخارى: 5590 ميں معلقا ذکر كيا ہے لیکن امام بيہقى رحمہ اللہ نے السنن الكبرى ط دار الکتب العلمیۃ: 10/373، حدیث نمبر: 20988 ميں اور امام طبرانى رحمہ اللہ نے المعجم الكبير ط مکتبۃ ابن تیمیہ: 3/282، حدیث نمبر:3417 ميں اسے موصولا ذکر كيا ہے، جبکہ علامہ البانى رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ط مکتبۃ المعارف: 1/186، حدیث نمبر: 91 ميں اسے صحيح قرار ديا ہے)

    اتنی سخت وعید ہونے کے باوجود ٹک ٹاک (tik tok) اور واٹس ایپ اسٹیٹس (whatsapp status) کے ذریعہ نوجوانان ملت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کر کے اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اے کاش کے وہ صحابہ کے آثار سے اثر لیتے اور موسیقی سے اجتناب کرتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل دیکھیں کہ وہ کیسے موسیقی سے دور بھاگتے تھے:
    عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا ، قَالَ : فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَقَالَ لِي : يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا
    ترجمہ: نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔
    (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4924۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

    ➋ علانیہ گناہ:
    ٹک ٹاک (tik tok) اور میوزیکلی (musical۔ly) جیسے ایپس کے استعمال میں لوگ علانیہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق حدیث ہے:
    كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ
    ترجمہ: میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے۔
    (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6069)

    اللہ اکبر! کتنی سخت وعید ہے۔ اسی لئے ہمارے اسلاف بھی علانیہ گناہ کو بہت عظیم گردانتے تھے۔ چنانچہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    يُقَالُ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لاَ يُعَذِّبُ الْعَامَّةِ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ۔ وَلَكِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْكَرُ جِهَاراً اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ كُلُّهُمْ
    ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ اللہ ﷻ خاص لوگوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا مگر جب گناہ علانیہ کئے جائیں گے تو سب کے سب عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
    (مؤطا امام مالک ت الاعظمی: 5/1443، حدیث نمبر: 3636)
    شیخ سلیم ھلالی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
    (المؤطا بروایاتہ الثمانیۃ ت الھلالی: 4/521)

    اس کی تائید نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے:
    إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ
    ترجمہ: اللہ ﷻ خاص لوگوں کے عمل (گناہ) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا یہاں تک کہ وہ اپنے سامنے برائی دیکھیں اور اس کے مٹانے پر قادر ہوں پھر بھی اس خلاف شرع کام کو نہ روکیں تو اللہ ﷻ عام و خاص سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔
    (مسند احمد ط الرسالۃ: 29/258، حدیث نمبر: 17720۔ مسند احمد کے محققین نے اس حدیث کو حسن لغیرہ کہا ہے)

    ➌ گناہوں کی تبلیغ:
    ان ایپس کے ذریعہ لوگ دوسروں کو گناہوں کی دعوت دیتے ہیں۔ فلمی ڈائیلاگ پر ایکٹنگ کر کے انہیں فلم بینی پر ابھارتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ ﷻ نے کتنی سخت وعید سنائی ہے:
    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    ترجمہ: جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔
    (سورۃ النور: 19)

    ➍ بے پردگی:
    ان ایپلیکیشنز کے ذریعہ عورتیں خوب بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ بن سنور کر ویڈیو بناتی ہیں اور اس کو نشر کر کے لوگوں کو دعوت عامہ دیتی ہیں۔ یاد رکھیں عورت کا اپنے فوٹوز اور ویڈیوز بنانا اور اس کو لوگوں کے مابین نشر کرنا تبرج اور اظہار زینت ہے۔ اور اللہ ﷻ کا فرمان ہے:
    وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
    ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو۔
    (سورۃ الاحزاب: 33)

    پیاری بہنو! ذرا عبرت کے ناخن لو! صحابیات کی زندگی کا مطالعہ کرو کہ وہ کیسے پردہ کیا کرتی تھیں اور تم ہو کہ بن سنور کر لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی پھرتی ہو۔
    یہ بے پردگی صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مرد حضرات بھی اس بے پردگی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اللہ ﷻ کا فرمان ہے:
    قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
    ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت رکھیں۔
    (سورۃ النور: 30)

    اللہ ﷻ نے تو مرد حضرات کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دے کر پردہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر کوئی بے پردہ لڑکی نظر آ جائے تو یہ اس کی طرف دیکھنے کو پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور ٹوکنے پر یہ کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں لڑکی خود پردہ نہیں کر رہی ہے حالانکہ خود ان کو بھی نظر کا پردہ کرنے کا حکم بکلام الہی صادر ہو چکا ہے۔ اور نبی ﷺ نے بھی یہی حکم فرمایا تھا، چنانچہ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي
    ترجمہ: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ (ﷺ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں۔
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2159)

    اور انس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی تعلیم دی ہے، فرمایا:
    إِذَا مَرَّتْ بِكَ امْرَأَةٌ، فَغَمِّضْ عَيْنَيْكَ حَتَّى تُجَاوِزَكَ
    ترجمہ: جب تمہارے سامنے سے کوئی عورت گزرے تو اس کے گزرنے تک تم اپنی آنکھیں بند رکھو۔
    (کتاب الورع لابن ابی الدنیا ط دار السلفیۃ، صفحہ نمبر: 66، حدیث نمبر: 72، کتاب کے محقق نے اس کی سند کو حسن کہا ہے)

    اتنے واضح فرامین ہونے کے باوجود مرد حضرات عورتوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں اور انکے نشیب و فراز کا جائزہ لیتے ہیں۔ گویا کہ وہ اپنے گناہ کو ہلکا سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں دو لڑکیوں کا فوٹو سوشل میڈیا پر خوب وائرل کیا گیا، ان پر سخت جملے کسے گئے، انکو مجرہ کرنے والیاں اور نجانے کیا کیا کہا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑکیوں نے ایک غلط کام کا ارتکاب کیا تھا لیکن کسی کی غلطی پر ایسا عمل چہ معنی دارد؟ کیا اس طرح اصلاح ہوتی ہے؟ کیا صرف عورتوں سے ہی گناہ کا صدور ہوتا ہے؟ کیا مرد حضرات عشق و معاشقہ کے چکر میں نہیں پڑتے؟ اگر مرد حضرات بھی گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں تو کیا اس طرح سے ان کی اصلاح کی جاتی ہے؟ ہمیں ان باتوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ذہن میں یہ بات راسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح سے کسی کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اس طرح سے تو بدنامی ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں مجھے رب کائنات کا یہ فرمان یاد آتا ہے:
    وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ
    ترجمہ: جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حاﻻنکہ اگر یہ لوگ اسے رسول (ﷺ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
    (سورۃ النساء: 83)

    یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لئے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہ (ﷺ) اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں، جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت میں کوئی مصلحت، اہل ایمان کے لئے سرور و نشاط کا کوئی پہلو اور انکے دشمنوں سے بچاؤ کی کوئی بات دیکھیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ اگر وہ یہ دیکھیں کہ اس میں مسلمانوں کی کوئی مصلحت نہیں ہے یا اس میں مصلحت تو ہے مگر اس کی مضرت اس مصلحت پر حاوی ہے تو وہ اس خبر کو نہ پھیلائیں۔
    بنا بریں اللہ ﷻ نے فرمایا: (لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُم) ”تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔“ یعنی وہ اپنے غور و فکر، درست آراء اور صحیح راہنمائی کرنے والے علوم کے ذریعے سے درست نتائج کا استخراج کرلیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ادب و احترام کے ایک قاعدے پر دلیل ہے کہ جب کسی معاملے میں بحث اور تحقیق مطلوب ہو تو مناسب یہ ہے کہ معاملہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے جو ذمے دار ہے اور وہ اس معاملے کو تحقیق کے لئے ایسے شخص کے حوالے کر دے جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور ان ذمہ دار اصحاب کی تحقیق سے پہلے کسی رائے کا اظہار نہ کریں۔ یہ طریق کار زیادہ قرین صواب اور خطا سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی معاملے کو سنتے ہی اس کو پھیلانے میں عجلت اور جلدی کرنے کی ممانعت کی بھی دلیل ہے، نیز حکم ہے کہ بولنے سے پہلے اس معاملے میں خوب غور و فکر کر لیا جائے کہ آیا اس میں کوئی مصلحت ہے کہ انسان آگے بڑھ کر کوئی اقدام کرے یا کوئی مصلحت نہیں ہے کہ انسان پیچھے ہٹ جائے۔
    (ماخوذ از تفسیر سعدی)

    اس آیت کو سامنے رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے، خواہ وہ دینی مسائل ہوں یا دنیاوی، اصحاب علم و بصیرت سے رائے لینی چاہئے اور ہر چیز شیئر اور مشہور (وائرل) کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
    خلاصہ کلام یہ ٹک ٹاک (tik tok)، میوزیکلی (musical۔ly) اور اس جیسی تمام ایپلیکیشنز نہ صرف وقت کا ضیاع ہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہیں۔ یہ ایپلیکیشنز ہمیں جہنم کے راستے کی طرف لے جانے والی ہیں۔ لہذا ان سے بچیں، اللہ نے ہمیں جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کو غنیمت جانیں اور وقت کی اہمیت کو سمجھیں، اسکو ضائع نہ کریں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    إِضَاعَة الْوَقْت أَشد من الْمَوْت لِأَن إِضَاعَة الْوَقْت تقطعك عَن الله وَالدَّار الْآخِرَة وَالْمَوْت يقطعك عَن الدُّنْيَا وَأَهْلهَا الدُّنْيَا
    ترجمہ: وقت کا ضیاع موت سے زیادہ سخت ہے کیونکہ وقت کا ضیاع آپ کو اللہ اور آخرت سے کاٹ دیتا ہے جبکہ موت آپ کو صرف دنیا اور اہل دنیا سے کاٹتی ہے۔
    (الفوائد لابن القیم ط دار الکتب العلمیۃ: 13)

    ساتھ ساتھ اپنے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کریں کیونکہ جوابدہی کا احساس آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھے گا۔ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا تھا، جس میں ہمارے لئے بہترین نصیحت ہے:
    يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ مَفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ
    ترجمہ: اے محمد (ﷺ)! آپ جتنا چاہیں زندہ رہیں، موت آ کر رہے گی، آپ جس سے چاہیں محبت کریں، ایک دن آپ کو اس سے جدا ہونا ہے اور آپ جو چاہیں عمل کریں بلاشبہ آپ کو اس کا بدلہ ملے گا۔
    (مستدرک حاکم ط دار الکتب العلمیۃ: 4/360، حدیث نمبر: 7921۔ معجم الاوسط للطبرانی ط دار الحرمین: 4/306، حدیث نمبر: 4278۔ مسند شہاب قضاعی ط الرسالۃ: 1/435، حدیث نمبر: 746۔ مسند ابی داؤد الطیالسی ط دار ھجر: 3/313، حدیث نمبر: 1862۔ شعب الایمان للبیہقی ط مکتبۃ الرشد: 13/125، حدیث نمبر: 10057۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے جبکہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے)

    علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے اسکو حسن قرار دیا ہے۔
    (مجمع الزوائد و منبع الفوائد ط مکتبۃ القدسی: 10/219، حدیث نمبر: 17644)

    علامہ غماری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
    (المداوی لعل الجامع الصغیر وشرحی المناوی ط دار الکتبی: 1/112)

    علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی تحسین کی ہے۔
    (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ط مکتبۃ المعارف: 2/483، حدیث نمبر: 831)
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 26, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    بھائی آپ نے بہت محنت سے لکھا ہے۔ اللہ اسے قبول کرے۔ لیکن اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ پہلے آپ اس ایپ کا مثبت اور منفی استعمال کرنے والے کچھ حقیقی انسانوں سے رائے لے لیتے تو اچھا ہوتا۔ اس کے لیے آن لائن ہی سروے کیا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    اگر جوابدہی کا احساس رہے تو ہم بہت سے غلط کاموں سے بچ سکتے ہیں۔
    کسی جگہ پڑھا تھا کہ اگر دنیا کا کوئی کام اللہ کی رضا کو خاطر میں رکھ کر کیا جائے تو وہ عین دینی کام بن جاتا ہے۔
    بہت عمدہ تحریر ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    محترمہ آپی!
    میں اس ایپ کو کافی پہلے سے جانتا ہوں اور میں نے اس میں کوئی مثبت پہلو نہیں پایا۔ جہاں تک بات ہے سروے کی تو اس کی ضرورت نہیں محسوس کی تھی۔ ان شاء اللہ اگلی بار جب اس طرح کا کوئی مضمون لکھوں گا تو آپ کے مشورہ کو ملحوظ رکھوں گا۔
    جزاک اللہ خیرا۔
    وایاک۔
    جی نیتوں سے عادات عبادات میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ انما الاعمال بالنیات والی حدیث کی شرح کیں کئی علماء نے اس طرح کی بات لکھی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    میں نے اس ایپ کو استعمال نہیں کیا لیکن کچھ اچھی وڈیوز اس کے ذریعے بنی دیکھی ہیں۔ جس میں بچوں کی تعلیمی وڈیوز کے کیریکٹر استعمال کیے گئے تھے۔ جیسے سیسمی سٹریٹ میں کیرمٹ اور ایلمو کے مکالمے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ یہ ایپ بڑوں کی فلموں کا ڈیٹا استعمال کرتی ہے جس سے بے حیائی کا عادی ہو جانا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ وقت کا ضیاع بھی ہے۔ پھر اس سے ملتا جلتا سوال اٹھتا ہے ہم سب ایسی سائٹس استعمال کرتے ہیں جہاں بے ہودہ سٹکرز، پوسٹ بیک گراؤنڈز، سمائلیز ہوتے ہیں تو کیا ہم پوری سائٹ چھوڑ دیں یا صرف ان آپشنز کا استعمال نہ کریں؟ اگر ہم سب ان آپشنز کے بغیر فیس بک، یوٹیوب اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں تو یہی دلیل اس ایپ والے بھی دیتے ہیں۔ ان سوالوں کا منطقی جواب دیے بغیر ہماری تبلیغ سطحی رہے گی، اس میں کچھ گہرائی چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    وایاک یا اختی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں