تین مصیبتوں کے تین حل

ابوعکاشہ نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏اکتوبر، 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    تین مصیبتوں کے تین حل


    پہلی مصیبت : اگر انسان خواہشات نفس و شہوات میں مبتلا ہے، یا ان سے محبت رکھتا ہے.
    حل: اپنی نمازوں کا محاسبہ کرے. اگر فرض نمازیں ضائع ہو رہی ہیں. یا نماز کا چور ہے. یعنی شروط و ارکان و واجبات کا خیال نہیں کرتا. یا باجماعت نماز کا پابند نہیں. نوافل سے اللہ کی قربت و محبت سے دور ہے.
    دلیل : فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ‌ ۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا
    پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی، آیت 59
    جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لئے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کی طرف پھر گیا اور انہوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بن پڑا، انہوں نے ان کو حاصل کیا۔ (فسوف یلقون غیاً ) ” پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔ “ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔(مگر جس نے توبہ کی و عمل صالح کیا. آیت 60)

    دوسری مصیبت : اللہ سبحانہ وتعالی و دین سے دوری ،دنیا و آخرت میں بدبختی کی علامت ہے، یا اللہ کی معرفت یا دیندار ہونے کے باوجود توفیق سے محروم ہو
    حل: اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی سے پیش آئے
    دلیل : وَّبَرًّۢابِوَالِدَتِىۡ وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِىۡ جَبَّارًا شَقِيًّا
    اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا
    (ولم یجعلنی جبارا) ” اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں۔ (شقیا) یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔

    تیسری مصیبت : اگر دل کی تنگی یا معاشی تنگی،و گھبراہٹ کا شکار ہے. پریشانی یا غم میں مبتلا ہے.
    حل: رب العزت و قُرآن کے ساتھ اپنے تعلق پر غور و فکر کرے. محاسبہ کرے. اپنے ایمان کی تجدید کرے. کوئی بھی تنگی نہیں آتی بوجہ اس کہ بندہ اپنے رب سے دور ہوتا ہے.
    دلیل : وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى‏
    اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے
    بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ” تنگ معیشت “ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ” تنگ معیشت “ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔
    (ونحشرہ) ” اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو “۔ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ( یوم القیمۃ اعمی) قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے۔۔۔ اور صحیح تفسیر یہی ہے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ونحشر ھم یوم القیمۃ علی وجوھم عمیا و بکما وصما) (بنی اسرائیل : ١٨/٩٨) ” اور قیامت کے روزان لوگوں کو اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے “۔ وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا : (رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیرا) ” اے میرے رب ! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا ؟ “ (قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا) ” اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں، تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا “۔ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کردیا۔ (وکذلک الیوم تنسی) ” اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا “۔ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا معل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کرکے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کردیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف سے لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیرلیا۔
    (وکذلک) یعنی یہ جزا (نجزی من اسرف) اس شخص کے لئے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا (ولم یومن بایت ربہ) اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے، بلکہ اس کا سبب تو صرف اسکا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ (ولعذاب الاخرۃ اشد) دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہوگا۔ (وابقی) اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا، کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہوجاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔واللہ اعلم.

    استفادہ ترجمہ و تفسیر ابن السعدی رحمہ اللہ.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,280
    جزاک اللہ خیرا!
     
  4. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جزاک اللہ خیرا۔
    آخرت کی یاد جنت کی طلب دنیا کے غم بھلانے کا بہترین حل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں