جرمانہ میں وصول کی جانے والی رقم مسجد میں لگانا؟ مقبول احمد سلفی اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اکتوبر، 29, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    650
    جرمانہ میں وصول کی جانے والی رقم مسجد میں لگانا؟

    مقبول احمد سلفی

    برصغیرہندوپاک میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے مجرموں پر حدود نافذ نہیں کیا جاتا تاہم بعض جگہوں پر سماجی اور قبائلی اعتبار سےمالی جرمانہ وصول کیا جاتا ہے مثلا کسی نے زنا کاری کی تو اس پر مالی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔ اس جرمانہ کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں کہ اسے مسجد کے فنڈ میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
    اس سوال کا جواب دینے سے قبل یہ معلوم ہونا چاہئے کہ احناف کے یہاں تعزیربالمال (مالی جرمانہ) جائز نہیں ہے مگر قرآن وحدیث سے مالی جرمانہ کا جواز نکلتا ہے ۔
    قرآن کی دلیل : سورہ توبہ آیت نمبر107میں مسجد ضرار کا ذکر ہے جسے منافقین نے کفرپھیلانے اور مسلمانوں میں تفریق پھیلانے کی غرض سے بنایا تھا نبی ﷺ نے اسے ڈھانے کا حکم دیا اور آپﷺ کے حکم سے صحابہ کرام نے جڑ سے مسجد کو منہدم کردیا۔ مسجد کا انہدام مالی نقصان ہے گویا تعزیر میں مالی نقصان یا مالی جرمانہ لگایا جاسکتا ہے ۔
    سنت سے دلیل : سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ( درختوں پر ) لٹکتے پھل کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :جس کسی ضرورت مند نے اسے اپنے منہ سے کھا لیا ہو ، اپنے پلو میں کچھ نہ باندھا ہو تو اس پر کچھ نہیں لیکن۔"ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة"(صحيح أبي داود:4390)
    ترجمہ: جو وہاں سے کچھ لے کر نکلے تو اس پر دو گنا جرمانہ اور سزا ہے۔
    یہاں "غرامہ مثلیہ" یعنی دہرا جرمانہ سے مراد مالی سزا ہے جیساکہ مسند احمد میں "ثمنُهُ مرَّتينِ" یعنی دہری قیمت کا ذکر ہے ۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سارے دلائل ہیں بخاری ومسلم کی ایک اہم دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں نماز سے پیچھے رہ جانے والوں کے گھر جلانے کا ذکر ہے اور گھرجلانا مالی جرمانہ ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ غرامہ مالیہ کا حکم منسوخ ہوگیاہے مگر یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد بھی خلفائے راشدین اورصحابہ کرام نے تعزیربالمال پر عمل کیا ہے ۔

    اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ قبائلی طورپرکسی مجرم پر مالی جرمانہ کیا جائے تو اس پیسے کو دین کے کام میں یا مسجد کے فنڈ میں لگا سکتے ہیں کہ نہیں ؟

    اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اصلا عام آدمی یا چند افراد کا کسی مجرم پر مالی جرمانہ لگانا شرعا درست نہیں ہے ، مالی جرمانہ عائد کرنا حاکم وقت ، قاضی یا ان کے قائم مقام عہدیدار کا فریضہ ہے ۔

    فتاوی لجنہ دائمہ سے اس مالی جرمانہ کے متعلق سوال کیا گیا جو قبائل کے بعض افراد کی طرف سے بعض امور کے ارتکاب پہ عائد کیا جاتا ہے تو کمیٹی نے جواب دیا:
    من أخذ غرامة مالية لمن يفعل كذا وكذا. فهذا إجراء لا يجوز؛ لأنه عقوبة تعزيرية مالية ممن لا يملكها شرعًا، بل مرد ذلك للقضاة، فيجب ترك هذه الغرامات(فتاوى اللجنة الدائمة، رقم:20904 )
    ترجمہ: جس نے مالی جرمانہ لیا ایسے شخص سے جو ایسا یا ویسا کرے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ شرعی طورپرمالی سزا نافذ کرنے کا اختیار ایسے اشخاص کو نہیں ہے بلکہ یہ قاضی کے ذمہ ہے اس لئے یہ جرمانے ترک کرنا واجب ہے۔

    جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ قبائلی طورپر ہم کسی پرمالی جرمانہ عائد نہیں کرسکتے تو جو پیسہ اس طورپر کسی شخص سے وصول کیا گیا ہے اسے لوٹا دینا چاہئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں