انسان سے بندہ بننے کا سفر !

SZ Shaikh نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏نومبر 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    62
    دراصل ہم سکون اور خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں۔ حالانکہ سکون انسان کے وجود میں ہے۔ اور ہم اسے ظاہری اسباب مثلا طاقت، اختیارات اور کبھی روپیہ پیسوں میں تلاش کرتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے سکون کے معنی قرار، ٹھراو، امن اور خاموشی ہے۔ اور اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا دل و دماغ پرسکون ہو۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اطمینان سکون کس طرح حاصل کیا جائے۔ ایک دفعہ ایک نوجوان بزرگ کے پاس جاتا ہے۔

    اور کہتا "کہ مجھے ایسا کوئی نسخہ بتائے کہ میں دولت مند بن جاؤں تاکہ مجھے سکون حاصل ہو جائے"۔

    بزرگ پوچھتے ہیں "ﺗﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻭﮞ ﮔﺎ۔

    ‘‘ بزرگ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ؟

    ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ رﮨﻮﮞ ﮔﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘‘

    بزرگ نے کہا "کیوں نہ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ دولت مند بننے ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ سے ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ اور گر ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ تاکہ تم ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭہوں گے"۔

    نوجوان ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﻟﻮ ‘ ﺗﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮﮔﮯ ‘‘

    نوجوان کو بزرگ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ‘ بزرگ نے نوجوان کے ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺸﮑﯿﮏ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺗﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ‘‘

    واقعی میں بزرگ نے بہت پتہ کی بات کہی ۔ اگر آج ہم اپنے اطراف دیکھے تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ ہم دنیا میں اتنے گم ہے کہ ہمیں کچھ اور نظر ہی نہیں آتا اس محاورہ کی مصداق " سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں" حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم ایک نہ ایک دن اس فانی دنیا سے کوچ کر جاینگے مگر ہم اس حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ "تم لوگوں کو ذیادہ سے ذیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے"۔ ( سورہ التکاثر : ۱) یعنی انسان دنیا حاصل کرنے میں غفلت میں مبتلا رہتا ہے۔

    اور دوسری جگہ فرماتا ہے " وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں"۔ (سورہ الرعد : ۲۸)

    یہ ایک حقیت ہے کہ اللہ کی یاد میں بڑا سکون ہے۔ مگر اس بندے کے لیے جو ایمان و تقوی کی کیفیات میں جیتا ہو۔ سوال یہ کہ ایمان وتقوى سے اطمینان کا کیا تعلق ہے ؟ جس طرح اگر ہم اللہ کے ذکر کے بجائے کہیں اور سے سکون حاصل کرنا چاہیں گیں تو ہماری دل اور روح بے چین ہی رہے گا۔ جس طرح سلائی مشین میں تیل ڈالنے کی بجائے پانی ڈالیں گیں تو بہرحال نقصان مشین کا ہی ہوگا۔

    بالکل اس شخص کی طرح جسے عام حالات میں اللہ یاد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنیا کی لذتیں ہوں۔ ہاں اسے کبھی تکلیف پہنچ جائے تو اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے وہ وظیفے پڑھنا شروع کردے اور سمجھے کہ یہ اللہ کی یاد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔ بے شک اللہ کے تسبیح کا ثواب ضرور ہے۔ مگر زبان سے کہنے اور دل سے ماننے میں فرق ہے۔ جب انسان کا اللہ پر ایمان وتقوی مضبوط اور کامل ہو گا تو وہ لوگوں کی بجائے اللہ سے توقعات رکھے گا اور جب وہ اللہ سے توقعات رکھے گا تو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا نہیں جائے گا۔

    حدیثِ قدسی میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : " میں اپنے بندے کیساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔میں اسکے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے خلوت میں یاد کرے تو میں اسے خلوت میں یاد کرتا ہوں ،جلوت میں کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اسکا ذکر کرتا ہوں ،وہ میری جانب ایک بالشت آگے بڑھے تو میں ایک گز بڑھتا ہوں ،وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں دوڑ کر اسکی جانب جاتا ہوں"۔ (مسلم ، بخاری)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    فرمان ربی ہے
    وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں۔ (الرعد- 28)

    جب تک ہم ادھر ادھر بھٹکتے رہیں گے یونہی بے سکون رہیں گے۔

    بہت عمدہ تحریر ۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    بے شک سسٹر
    قلب کو تسکین اور روح کو آسودگی اللہ کے ذکرسے ہی ملتی ہے ۔

    نہ دنیا سے نہ دولت سے نہ گھر آباد کرنے سے
    تسلی دل کو ملتی ہے خدا کو یاد کرنے سے

    ما شاء اللہ بہت اچھی تحریر ہے جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,280
    جزاک اللہ خیرا سس!

    مقصد تخلیق کو پا لینا ہی بندگی ہے اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں