پسندیدہ اقتباسات

صدف شاہد نے 'نثری ادب' میں ‏نومبر 5, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    ’’ابا اک گل تو بتا۔۔۔۔‘‘تجھے اپنے کام سے عشق ہے،تو پوری محنت اور لگن سے پانڈے(برتن) بناتا ہے،فیر وی کسی نہ کسی میں کوئی خرابی تو رہ جاتی ہوگی۔۔ ’’ابا میں سوچتی ہوں کیا نقصان والے پانڈوں کا بھی کوئی خریدار ہوگا۔‘‘
    ’’ہاں پتر! بس چھوٹی سی گاگر ہے جسکا منہ تھوڑا سا ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ اسے ابھی تک کسی نے نہیں خریدا لیکن کوئی بات نہیں۔ کوئی نہ کوئی اسے بھی خرید لے گا۔‘‘ اللہ دتا کے لہجے میں ایک امید و یقین کا جہاں آباد تھا۔
    ’’ابا! تُو اس گاگر کو پھینک کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔‘‘ اس نے استہزائیہ انداز میں مشورہ دیا۔
    ’’لے ! میں اپنی بنائی چیز کو کیوں پھینک دوں۔ میرے محنت کش ہاتھوں نے اسے پوری محبت لگن اور محنت سے بنایا ہے۔ میں اپنی بنائی ہوئی چیز کو کسی اور کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ وہ ہزار بد شکلی ہو لیکن مجھے تو اچھی لگتی ہے۔ مجھے کسی اور سے کیا لینا دینا۔‘‘ اللہ دتا، جمیلہ مائی کی طرح شکرو قناعت کی نعمت سے مالامال تھا۔
    ’’ ابا! فیر اسکا مطلب ہے کہ جب تجھے اپنے ہاتھ سے بنائی ایک چھوٹی سی گاگر سے اتنا پیار ہے تو میں تو کتنی ہی عجیب یا مضحکہ خیز کیوں نہ لگوں، لیکن اس رب کو تو سکینہ کبڑی سے پیار ہوگا ناں۔۔۔‘‘
    ’’سکینہ! ایسی باتیں نہ کیا کر۔‘‘ اللہ دتا کا دل دکھ کے گہرے احساس سے بھر گیا تھا۔’’ اللہ کو اپنی ساری مخلوق سے پیار ہے۔ وہ بندے کی شکل سے نہیں اسکے اعمال سے پیار کرتا ہے۔ بس اپنا ایمان پختہ رکھ اور اللہ کی ذات پر کبھی شک نہ کرنا۔‘‘
    (صائمہ اکرم کے ناول ’’دیمک زدہ محبت‘‘سے اقتباس)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    بظاہر ایک دوسرے سے مربوط مگر اندر سے کھوکھلے رشتے کہ جس میں ناں ایک دوسرے کے لیے گنجائش موجود ہوتی ہے اور ناں ہی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ۔ اگر زیادہ عرصہ تک انہیں نظریہ ِ ضرورت کے تحت چلایا جائے تو انسانی توقعات کی گھٹری اسکی کمر توڑ کے رکھ دیتی ہے۔ پھر ضعیف رشتے اپنے زندہ لاشے کو سنبھالے ابدی نیند سونےکا انتظاز کرتے رہ جاتے ہیں لیکن ملکلموت بھی بے مروت ہوکر دور سے مسکراکر ”کچھ وقت اور“ کا دلاسا دے کر تماشا ئیوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔
    (کچھ وقت اورسے اقتباس
    از زاہدہ رئیس راجی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    دیکھیے ناں ! جو شکل و صورت ہوتی ہے میں نے تو اسے نہیں بنایا ، یا آپ نے تو اسے نہیں بنایا بلکہ اسے الله تعالیٰ نے بنایا ہے -

    میری بیٹیاں بہوئیں ، جب بھی کوئی رشتہ دیکھنے جاتی ہیں تو میں ہمیشہ ایک بات سنتا ہوں کہ بابا جی !

    لڑکی بڑی اچھی ہے ، لیکن اس کی " چھب " پیاری نہیں ہے - پتا نہیں یہ " چھب " کیا بلا ہوتی ہے -
    وہ ان کو پسند نہیں آتیں اور انسان میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتی ہیں -
    میں انھیں کہا کرتا ہوں الله کا خوف کرو شکل و صورت سب الله نے بنائے ہیں - یہ کسی جوتا کمپنی نے نہیں بنائے ہے -
    انسان کو تم ایسا مت کہا کرو ورنہ تمہارے نمبر کٹ جائیں گے -
    اور ساری نمازیں روزے کٹ جائینگے -
    کیونکہ الله کی مخلوق کو آپ نے چھوٹا کیا ہے -

    ( زاویہ 2 از اشفاق احمد
    صفحہ نمر ۸۵)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    اچھا سلسلہ ہے . شکریہ. اشفاق احمد کو کم پڑھا ہے. لیکن اچھا لکھتے ہیں.
     
  5. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت اچھا سلسلہ ہے ۔۔۔ عمدہ شئیرنگ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں