روزہ کھولنے سے پہلے کی دعا ’’اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ‘‘

زبیراحمد نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏نومبر 5, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    بی کریم ﷺ جب افطار کرتے تو فرماتے: اےاللہ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا‘‘۔ (الزهدوالرقائق الاامام ابن المبارك المزوریؒ ۱۸۱ھ: ج۱،ص۴۹۵)(کتاب الدعاء امام محمد بن فضيل الضبیؒ ۱۹۵ھ: ج۱،ص۲۳۷) (السنن امام ابو داودؒ ۲۷۵ھ: ج۳، ص۱۴۸) (المصنف حافظ ابن ابی شیبہؒ ۲۳۵ھ: ج۶، ص۳۲۹) (السنن الکبریٰ امام بیہقیؒ ۴۵۸ھ: ج۸،ص۵۳۴) (شرح السنۃ امام البغویؒ ۵۱۶ھ: ج۶،ص۲۶۵)
    مندرجہ بالا روایت کے مرکزی روای حضرت معاذ بن زہرہ رحمہ اﷲہیں جوکہ تابعی ہیں۔ایک روایت جلیل القدر تابعی امام الربيع بن خثيمؒ ۶۵ھ سے مروی ہے: ’’قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ‘‘۔ (طبقات ابن سعد: ج۸، ص۳۰۹، الربيع بن خثيم، یہ سند حسن ہے)امام الربيع بن خثيمؒ نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے لیکن زیارت نہیں کی۔یعنی مخضرم ہیں۔ آپ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بڑے شاگردوں میں سے ہیں۔امام ذہبیؒ امام الربیع بن خثیم ؒ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’الإِمَامُ، القُدْوَةُ۔ أَدْرَكَ زَمَانَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَرْسَلَ عَنْهُ۔ قَالَ الشَّعْبِيُّ: مَا رَأَيْتُ قَوْماً قَطُّ أَكْثَرَ عِلْماً، وَلاَ أَعْظَمَ حِلْماً، وَلاَ أَكَفَّ عَنِ الدُّنْيَا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَلَوْلاَ مَا سَبَقَهُمْ بِهِ الصَّحَابَةُ، مَا قَدَّمْنَا عَلَيْهِمْ أَحَداً‘‘۔ پھران کی انتہائی فضیلت کے لئے عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ فرمان کافی ہے: ’’فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: يَا أَبَا يَزِيْدَ، لَوْ رَآكَ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لأَحَبَّكَ، وَمَا رَأَيْتُكَ إِلاَّ ذَكَرْتُ المُخْبِتِيْنَ‘‘۔ امام ذہبی ؒ یہ نقل کر کے فرماتے ہیں: ’’فَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيْمَةٌ لِلرَّبِيْعِ‘‘۔ (سیر اعلام النبلا: ج۴، ص۲۵۸)۔
    علامہ ناصرالدین البانیؒ اپنی کتاب اروءالغلیل جلدنمبر۴، صفحہ نمبر۳۹-۳۸ پر اس حدیث کے بارے میں طویل بحث کے بعد آخرمیں لکھتے ہیں: ’’ومع ذلک صحیح حدیثھم جمیعاً‘‘ ’’اس کے باوجودیہ حدیث صحیح ہے‘‘۔ (اروءالغلیل جلدنمبر۴، صفحہ نمبر۳۹)۔امام شوکانیؒ کی فقہ کی مشہورومعروف کتاب ’’الدُّررالبھیّہ‘‘جس کی تخریج و تحقیق مشہورعرب عالم ومحقق علامہ ناصرالدین البانیؒ نے کی اور اس کا ترجمہ وتشریح حافظ عمران ایوب لاہوریؒ نے ’’فقہ الحدیث‘‘ نامی کتاب میں کی۔ اس کتاب میں افطاری کی دعاکے باب میں یہ دعانقل کرنے کے بعدنیچے لکھتے ہیں: ’’شیخ ناصرالدین البانیؒ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث شواہد کی بناپرقوی ہوجاتی ہے‘‘۔ (فقہ الحدیث: ج۱، ص۷۲۷بحوالہ المشکاۃ المصابیح البانیؒ)
    یہ دعا صحیح حدیث سے ثابت ہے لہٰذا اسے پڑھنا درست اور صحیح ہے۔
     
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    اسکا اسکین لگا دیں۔ اور یہ عبارت کیا صحیح ہے؟؟؟
    کہاں شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے؟
    قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
    إسناده ضعيف ¤ السند مرسل ، معاذ بن زهرة من تابعين ، وجاء في تقريب التهذيب (6731) ” مجهول “ ووثقه ابن حبان وحده ۔
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    [​IMG]
    [​IMG]
     
  4. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    آپ نے ارواء الغلیل کی جو عبارت نقل کی ہے اس میں اور اصل کتاب (یعنی ارواء الغلیل) کی عبارت میں فرق ہے! آپ نے صحیح کا لفظ نقل کیا ہے جب کہ کتاب میں صحح کا لفظ ہے۔ دونوں میں فرق ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    صحح صَحِیح تَصْحِیح
    ١ - صحت، درستی، صحیح کرنا، غلطی دور کرنا۔
    (http://urdulughat.info/words/2723-تصحیح)
    اس کتاب پر بھی کچھ کہیں
    [​IMG]
     
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    میرے بھائی میرے الفاظ کو دوبارہ پڑھیں:
    کیا استعمال ہے کیا نہیں یہ مطلوب نہیں اصل کتاب میں کونسا لفظ ہے یہ مطلوب ہے! ویسی بھی لفظ صحیح کا کوئی مطلب یہاں نہیں بنتا.
    جناب اس پر میں کیا کہوں. تراجعات الالبانی نامی کتاب میں آپ خود دیکھ لیں کہ اس میں کیا لکھا ہے:
    http://shamela.ws/browse.php/book-8217/page-80
    آپ کو خود اس میں نظر آ جائے گا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے پہلے مشکوۃ کی تحقیق میں اس کی تصحیح کی تھی لیکن بعد میں ارواء الغلیل: 919 میں اس کی تضعیف کی.
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,203
    بارک اللہ فیک۔ یعنی محدث البانی نے اسکی تصحیح سے رجوع فرما لیا تھا۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    لفظ صحح کا مطلب ہی یہاں پر صحیح بنتا ہے جو لفظ آپکو مذکورہ کتاب میں مطلوب ہے صحح اور صحیح ایک ہی لفظ ہیں۔
    اس روایت پر ابو داؤد نے سکوت فرمایا ہے اور جس روایت پر مذکورہ محدث سکوت فرمائیں وہ روایت انکی نظر میں حسن ہوتی ہے۔(هداية الرواة إلى تخريج احاديث المصابيح والمشكاة، ج۲،ص۳۲۳)
    اگر بحث کے طور پر مان لیا جائے کہ روایت ضعیف ہے تو ضعف پر اہل حدیث اکابرین کا نکتہ نظر پڑھ لیں
    امام نووی نے اصول حدیث و اصول روایات کی کتاب میں لکھا ہے:
    اہل حدیث کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل (نرمی) برتنا اور موضوع کو چھوڑ کر ضعیف حدیثوں کو روایت کرنا اور ان پر عمل کرنا ان کا ضعف بیان کیے بغیر جائز ہے؛ مگر اللہ کی صفات اور حلال و حرام جیسے احکام کی حدیثوں میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے.(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي » أنواع الحديث » النوع الثاني والعشرون المقلوب » شروط العمل بالأحاديث الضعيفة ص: 350 (1/455)
    شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، امام احمدؒ کا قول نقل کرتے فرماتے ہیں کہ : جب حلال و حرام کی بات آۓ گی تو اسانید (سندوں) کی جانچ پرکھ میں سختی سے کام لیں گے، اور جب ترغیب (نیکی کا شوق دلانے) اور ترھیب (برائی کا خوف دلانے) کی بات آۓ گی تو ہم اسانید میں تساہل (نرمی) برتینگے، اسی طرح فضائل اعمالمیں جس ضعیف حدیث کے عمل کرنے پر علماء ہیں.
    [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ : ١٨/٦٥]
    درج ذیل اسکین بھی ملاحظہ کریں
    [​IMG]
     
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    452
    قبل اس کے کہ میں مزید کچھ کہوں آپ مجھے یہ بتا دیں کہ صحیح کون سا صیغہ ہے؟؟؟ اور جب کتاب میں صحح کا لفظ ہے تو اپنی طرف سے آپ صحیح کا لفظ کیوں ایجاد کر رہے ہیں؟؟؟؟
     
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    صحح کا مطلب صحیح ہی ہے میں نے اپنی طرف سے کوئی لفظ ایجاد نہیں کیا ہے.آپ اپنے مسلک کی سائٹ میں مذکورہ لفظ کا ترجمہ پڑھ لیں.

    حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سعيد بن مسروق، عن إبراهيم التيمي، عن عمرو بن ميمون، عن ابي عبد الله الجدلي، عن خزيمة بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سئل عن المسح على الخفين، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ " للمسافر ثلاثة وللمقيم يوم "،‏‏‏‏ وذكر عن يحيى بن معين، ‏‏‏‏‏‏انه صحح حديث خزيمة بن ثابت في المسح، ‏‏‏‏‏‏وابو عبد الله الجدلي اسمه:‏‏‏‏ عبد بن عبد، ‏‏‏‏‏‏ويقال:‏‏‏‏ عبد الرحمن بن عبد. قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حسن صحيح، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن علي، ‏‏‏‏‏‏وابي بكرة، ‏‏‏‏‏‏وابي هريرة، ‏‏‏‏‏‏وصفوان بن عسال، ‏‏‏‏‏‏وعوف بن مالك، ‏‏‏‏‏‏وابن عمر، ‏‏‏‏‏‏وجرير.
    خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن“۔

    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

    تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة ۶۰ (۱۵۷)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۸۶ (۵۵۳)، (تحفة الأشراف: ۳۵۲۸)، مسند احمد (۵/۲۱۳) (صحیح)


    قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (553)

    مندرجہ بالا میں لفظ صحح کا ترجمہ انڈرلائن ریڈ فونٹ میں صحیح پڑھ سکتیں ہیں مذکورہ سائٹ کا لنک درج ذیل ہے

    http://islamicurdubooks.com/Sunan-at-Tirmidhi/hadith.php?vhadith_id=95&zoom_highlight=صحح
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں