سعودی عرب میں ایک اور صحافی کی موت

کنعان نے 'خبریں' میں ‏بوقت نومبر 8, 2018 4:13 شام کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,817
    سعودی عرب میں ایک اور صحافی کی موت
    رونامہ پاکستان
    Nov 07, 2018


    ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ابھی ایک صحافی کے قتل سے اٹھنے والا طوفان تھما نہیں تھا کہ سعودی سکیورٹی اداروں کی حراست میں موجود ایک اور صحافی کی موت کی خبر آ گئی ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق صحافی و مصنف ترکی بن عبدالعزیز یاسر مبینہ طور پر دوران حراست تشدد کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں۔


    انسانی حقوق تنظیموں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے ترکی بن عبدالعزیز کو مملکت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے متعلق آواز اُٹھانے پر حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر کشکول کے نام سے ایک اکاؤنٹ چلاتے ہیں جس پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر بات کی جاتی ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ترکی بن عبدالعزیز کی گرفتاری کیلئے سعودی سائبر آرمی کے جاسوسوں کو استعمال کیا گیا جنہوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے پتہ چلایا کے کشکول نامی اکاؤنٹ کو چلانے والا شخص صحافی ترکی بن عبدالعزیز ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق سعودی سائبر آرمی کے بانی سعود القحطانی ہیں جو کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر جعلی ناموں سے اکاؤنٹ چلانے والوں کو اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے وارننگ دی تھی کہ وہ سعودی حکام سے بچ نہیں سکیں گے۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    کون ہیں ترکی عبدالعزیز یاسر؟ اور کونسے سعودی میڈیا نے خبر دی ہے؟
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,817
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    اچھا تو یہ ترکی الجاسر تھے. جس کو یاسر لکھ کر پاکستان اخبار نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا.اور یہ ممکن ہے،،جب سرکاری ٹی وی بیجنگ، کو بیگنگ لکھ سکتا ہے. دونوں ویب سائٹ سعودیہ میں بین ہیں. اور اگر گوگل کیا جائے تو خبر کے سورس میں ایرانی، ترکی اور قطری ڈومین کی ویب سائٹ نظر آتی ہیں. ترکی الجاسر تو غالبا سعودیہ میں موجود ہی نہیں. پھر قتل کیسے ہوئے.. اور کسی بھی خبر کی تحقیق سعودی میڈیا سے ہی ہو سکتی ہے. ایک بات یہ طے ہے کہ سعودی میڈیا کی کوشش ہوتی ہے کہ جھوٹ سے بچا جائے.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں