حضرت عبداللہ ؓ بن عمرؓوبن العاص

فیضان نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏نومبر 16, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    32


    حضرت عبداللہؓ کو والد کے ترکے میں سے کا فی دولت اور جائداد ملی۔ اس میں طائف کے قریب وہط نام کی ایک جاگیر بھی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی قیمت کا اندازہ دس لاکھ درہم کے قریب تھا۔ حضرت عبداللہؓ اس میں کھیتی باڑی کرایا کرتے تھے۔ ان کی زندگی اگر چے زاہدانہ اور عا بدانہ تھی لیکن اپنے مال یا جائداد پر کسی کو ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیتے تھے۔ایک مرتبہ وہط کے ایک قطعہ زمین کے بارے میں کسی شخص نے نزاع کی صورت پیدا ہو گئ۔ یہ جھگڑا اتنا بڑھا کے فریقین لڑنے مرنے پر تل گئے۔ان کے چچا خالد بن عاص نے نرمی اختیار کرنے کا مشوراہ دیا تو فرمایا :
    " میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنے مال جائداد کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے" (مُسنَدِاحمد جلد ۱ ص ۲۰۶)

    یہ قضیہ بالآخر باہمی افہام و تفہیم سے طے ہو گیا اور لڑائ تک نوبت نہ پہنچی۔ ۶۵ ؁ہجری میں حضرت عبداللہؓ مصر کے شہر فسطاط میں مقیم تھے کہ اُن کا وقتِ آخر آپہنچا اور انہوں نے
    پیکِ اجل کو لبیک کہا۔ اس وقت مروان بن الحکم اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی فوجوں میں مصر پر قبضہ کے لیے شدید لڑائ ہو رہی تھی اور جنازے کو قبرستان تک پہنچانا بہت مشکل تھا
    اس لیے لوگوں نے انہیں گھر کے اندر ہی قبر خود کر دفنا دیا ۔
    ( تذکرۃالحفاظ۔لِذہبیؒ)

    علامہ ابنِ سعدؒ کے قول کے مطابق اس وقت ان کی عمر ۷۲ سال کی تھی درایت اور قرائن کی رو سے انہوں نے ۷۲ سال خاصی عمر پائ۔

    حضرت عبداللہؓ بن عمروؓ اُن عظیم المرتب صحابہ میں سے ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں خاص تقرب اور شَرَف پذیرائ حاصل تھا وہ نبوت کے چشمہ فیض سے خوب سیراب ہوئے
    ان سے ۷۰۰ سات سو احادیث مروی ہے جن میں ۱۷ متفق علیہ ہیں ۔آٹھ میں بخاری اور بیس میں مسلم منفرد ہیں۔یہ حدیثیں وہ عہد رسالت ہی میں احاطہ تحریر میں لے آئے تھے
    اور مجموعہ احادیث کا نام الصادقہ رکھا تھا


    اس کی حفاظت کا ان کو خاص اہتمام تھا ۔ اگر ان سے کوئ ایسا مسلہ پوچھا جاتا جس کے بارے میں ان کو زبانی کچھ یاد نہ ہوتا تو "الصادقہ" میں سے دیکھ کر جواب دیتے تھے
    ایک مرتبہ کسی صاحب نے پوچھا کے قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا یا رومہ؟
    ان کے حافظے میں اس بارے میں رسول اللہﷺ کا ارشاد محفوظ نہیں تھا اس لیے آپنا صندوق منگایا۔ اس میں سے الصادقہ نکال کر اس پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا کہ ہم ایک دن
    رسول اللہﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے حدیثیں لکھ رہے تھے۔اسی اثناء میں کسی شخص نے پوچھا کہ قسطنطنیہ پہلے فتح ہو گا یا رومہ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہرقل کا شہر
    یعنی ( قسطنطنیہ) پہلے فتح ہو گا ۔
    ( سنن دارمی ص ۶۸۔ مسندِ احمدج۲ ص ۱۷۶)

    سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    آسمانِ ہدایت کے ستر ستارے
    طالب الہاشمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    32


    حضرت عبد اللہ ؓ بڑے لطف وابنساط کے ساتھ حدیث کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ لوگ دور دور سے سماعِ حدیث کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے وہ خندہ پیشانی سے ان کی پذ یرائ
    کرتے اور نہایت شیریں لہجے میں ان کو ارشاداتِ نبوئ سناتے۔ ایک دفعہ لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع نے ان کو گھیر رکھا تھا کہ ایک شخص نے بھیڑ کو چیر کر ان کےقریب پہنچنے کی کوشش کی
    لوگوں نے اسے روکا تو فرمایا کہ اسے آنے دو۔ لوگوں نے اسے راستہ دے دیا وہ اکر حضرت عبداللہؓ کے سامنے بیٹھ گیا اور بولا: اے صاحب رسول ﷺ
    رسول اللہﷺ کا کوئ ارشاد مجھے سنائے " حضرت عبداللہؓ نے متبسم ہو کر فرمایا ۔

    " میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کی ہوئ چیز کو چھوڑ دیا"
    ( مسندِ احمد جلد ۲ ص۱۹۲)

    حضرت عبداللہؓ جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے شائقینِ علم ان کی پذیرائ کرتے تھے اور ہر وقت سیکڑوں کی تعداد میں ان کے گرد جمع رہتے تھے۔ اہلِ بصرہ کو تو ان سے اس قدر عقیدت تھی کہ ان کے حلقہ درس میں غالب تعداد بصریوں کی ہی ہوتی تھی (تذکرۃ الحفاظ لِذہبیؒ)

    حضرت عبداللہؓ اپنے دور کے ذی علم صحابہ کی بے حد عزت کرتے تھے اور بر ملا ان کے علم و فضل کا اعتراف کرتے تھے ایک دفعہ ان کی مجلس میں حضرت عبداللہؓ بن مسعود کا ذکر آیا تو فرمایا
    " تم لوگوں نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کو میں اس دن سے دوست رکھتا ہوں جس دن رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے حاصل کرو۔
    آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عبداللہؓ بن مسعود کا نام لیا۔"

    فیضانِ نبوئ سے خوب بہرہ یاب ہونے کے علاوہ حضرت عبداللہؓ نے عبرانی زبان بھی بڑی محنت سے سیکھی اور توریت و انجیل کا گہری نظر سے مطالعہ کیا۔
    چناچہ وہ ایک ایسے عالم بن گئے جن کو قرآن حکیم کے ساتھ توریت و انجیل پر بھی عبور حاصل تھا ۔

    راویانِ حدیث صحابہ کی فہرست میں حضرت ابو ہریرہؓ کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ ان سے پانچ ہزار تین سو چوہتر(۵۳۷۴) احادیث مروی ہیں
    جو کسی ایک صحابی کی مرویات کی سب سے بڑی تعداد ہے لیکن خود حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہؓ بن عمروؓ بن العاص سوا کسی اور کے پاس مجھ سے زیادہ رسول اللہﷺ
    کی حدیثیں نہیں ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہ تھا۔

    یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مرویات ابو ہریرہؓ (۵۳۷۴) کے مقابلہ میں مرویات حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی تعداد صرف ساتھ سو۷۰۰ہے
    جبکہ مذکورہ روایت کی رو سے ان کی تعداد ۵۳۷۴ سے زیادہ ہونی چاہیے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس اشکال کے متعدد جواب دیئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ عبادت میں زیادہ مشغول رہتے تھے۔ تعلیم اور بیان حدیث کی نوبت کم آتی تھی نیز مصر اور طائف میں زیادہ قیام رہا جو طالبانِ حدیث کا مرجع نا تھا۔

    ( تاریخ علمِ حدیث از علامہ اشفاق الرحمٰن کاندھلوی)


    سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔

    آسمان ہدایت کے ستر ستارے
    طالب الہاشمی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں