سنت ﷺ کو اپنانا اور بدعت کا رد

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏نومبر 17, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )

    یہ تحریر محمد اسمٰعیل بدایونی کی تحریر"میلاد النبی ﷺاور فکرِ یہود " کے رد میں راقم الحروف نے لکھی ہے امید ہے کہ احباب مجلس کو پسند آئے گی
    محترم اسمٰعیل بدایونی نے تحریر لکھی جسکا لب لبابہ اصلا بدعت کی طرف لے جاتا ہے اور جس انداز کو اپنایا گیا وہ ایک عام انسان کو الجھانے کیلئے کافی ہے اور

    جناب نے اپنی تحریر کا موضوع اور تحریر میں فقط " میلاد النبی ﷺ " ہی لکھا ہے اور مکمل جملے کو گول کرگئے ہیں جوکہ" " جشن عید میلاد النبی ﷺ " " ہے اور تحریر بھی اسی کے گرد گھوم رہی ہے

    اور محترم فرما رہے ہیں کہ( اب آپ سب سے عرض یہ ہے اہل ِ یہود کی فکر کو سمجھیے پانی سر وں سے اونچا ہو چکا ہمارا حال یہ ہے کہ جیسے ہی ربیع الاول کا مہینہ آئے گا بکسٹا ل پر ردِّ میلاد کی کتابیں سجنا شروع ہو جائیں گی ۔۔۔۔منبر سےمخالفت شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔شرک و بدعت کے فتوؤں کی توپ سے مشرک و بدعتی کی گولہ باری شروع ہو جائے گی تو سمجھ لیجیے پیارے بھائی ! آپ فکرِ یہود کی آبیاری میں استعمال ہورہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
    مروجہ طریقہ میلاد پر اختلاف ہو سکتا ہے ضرور کیجیے لیکن یاد رکھیے !!! میلاد کی مخالفت فکرِ یہود کی پرورش کا نام ہے)


    یعنی ایک مسلمان کو بدعت کے رد سے روکا جارہا ہے اور سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر تم بدعت کا رد کرو گے تو "آپ فکرِ یہود کی آبیاری میں استعمال ہوجائیں گے " واہ سبحان اللہ

    محترم آپ کے کیا کہنے ؟ سیاست میں "دیسی لبرلز " تو تھے ہی ؟ آپ دین میں "دیسی لبرلز " بنانے کی کاوش میں لگے ہوئے ہو؟

    (نوٹ ، محترم اسمٰعیل بدایونی صاحب ابھی تو میں نے بہت سے دلائل اور سوالات کو طوالت کی وجہ سے موقوف کردیا ہے اور اس تحریر کا جواب دلائل سے دیجئے گا ،یہاں وہاں کی نہ چلانے کی کوشش کیجئے گا)
    ،
    محترم اسمٰعیل بدایونی آپ نے کہا کہ

    " کوشش کیجیے مسجد سے کتا نکالیے مسجد کو مت ڈھائیے "

    چلیں آپ کو بتاتے ہیں کہ بدعت کا کتا مسجد نبوی ﷺ سے کس نے نکالا ؟ یہ دور بھی وہ مبارک دور ہے جسے بہترین کہا گیا اور فرمایا بھی اس ذات نے جنہیں سیدالاولین و الاخرین ﷺ اور امام الانبیاء ہونے کا شرف حاصل ہے
    ،
    عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ )

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے (صحیح بخاری)

    اس دور میں جناب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کثرت سے موجود تھے اور بدعت کا کتا نکالنے والے بھی وہ تھے جنہیں سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی مبارک زبان سے جنت کی بشارت اور جن کا خود اپنے متعلق دعوی تھا کہ قرآن کی کوئی ایسی آیت یا سورۃ ایسی نہیں کہ جس کا میں شان نزول نہ جانتا ہوں ، جی تو یہ ہستی
    ،
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے کون واقف نہیں یا کس نے انکے بارے میں سُن یا پڑھ نہیں رکھا ؟ اور انہوں نے بدعت پر کیسا شدید رد کیا اور سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی کن کن چیزوں کا ذکر فرمایا ؟ اور پھر ان لوگوں کو کیسی وعید سنائی ؟ اور اس حدیث کو سنن دارمی میں نقل کیا گیا ہے جسے میں آخر میں ذکر کرونگا ان شاءاللہ

    رہا مسجد ڈھانے کا تو قرآن نے واضح مسجد ضرار کا ذکر کیا ہے اوراسکی وجوہات بھی بتا دیں گئی جسے بعد میں ڈھا دیا گیا تھا فی الحال میں اس کی تفصیلات کو موقوف کرتا ہوں موضوع کی طرف آتا ہوں

    محترم میلاد النبی کا کون قائل نہیں؟ آپ عجیب منطق بیان کررہے اپنی تحریر میں؟

    سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی پیدائش کا تو کوئی منکر ہے ہی نہیں مسئلہ تو اس بدعت کا ہے جسے " جشن عید میلاد النبی ﷺ " کا نام دیا جاتا ہےجس عید کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جانتے تک نہیں تھے

    یہ بدعت ایجاد کرنے والے بھی مصر کے نام نہاد فاطمی شیعہ تھے

    آپ بدعت کیلئے زور آزمائی کررہے ہو حالانکہ اس پر اجر نہیں رسوائی ملے گی

    صحابہ رضوان اللہ اجمعین سے بڑھ کر اجر کے پانے کو اور سنتپر عمل پیرا ہونے کو کوئی حریص نہ تھا لیکن آج کوئی یہ دعوی کرے کہ وہ زیادہ اجر پانے کیلئے اپنے سے منگھڑت اور اپنے شیوخ کے ایجاد کردہ عمل پر عمل پیرا ہے اور کہے کہ مجھ میں عبادت کا ذوق ہے اور وہ ایسی خود ساختہ عبادات میں اپنے آپکو مشغول رکھے اور اس پر اپنی جان ، مال اور وقت صرف کرے تو وہ دراصل صراط مستقیم کی بجائے ضلالت کے راستے پر گامزن ہے اور اس سے بڑا کوئی احمق نہیں

    اور اس کی دلیل اس قول میں ہے

    قال حُذيفة رضي الله عنه "كلُّ عبادةٍ لا يتعبَّدُها أصحابُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فلا تعبَّدُوها؛ فإن الأولَ لم يدَع للآخر مقالاً".

    حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " تم آج ایسی عبادت نہ کرو جسے صحابہ کرام نے نہیں کیا کیونکہ انہوں نے تمہارے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی"

    اور پھر سونے پر سہاگہ " بعد الانبیاء " افضل ترین انسان کے اس قول نے کیا

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "میں کسی ایسے عمل کو ترک نہیں کر سکتا جس پر رسول اللہ ﷺ عمل پیرا تھے، مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر میں نے آپ کی سنت میں سے کسی چیز کو ترک کر دیا تو کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں"


    اب کوئی سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی متبرک و مطہر سنت ﷺ کی بجائے صریح بدعت کو اپنائے اور دعوی کرے کہ وہ صحیح راستے پر ہے ؟ عجیب

    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    (اے پیغمبر) کہہ دو اگر تم الله کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے الله محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور الله بخشنے والا مہربان ہے

    اس بات کو پلے باندھ لیں کہ قرب الٰہی کے تمام درجات اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت ہی سے حاصل ہوتے ہیں

    وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقً

    اورجو شخص الله ﷻ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار ہو تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر الله نے انعام کیا وہ نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں

    لغوی طور پر بدعت کا معنیٰ ہے!کسی چیز کا ایسے طریقے سے ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔جبکہ اصطلاحاً بدعت کہتے ہیں!شریعت میں کوئی نئی چیز گھڑ لینا جس کی قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہ ہو۔

    یاد رکھیں!دنیوی معاملات میں نئی نئی ایجادات جائز ہیں کیونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے۔جیسے بس‘ ریل گاڑی اور جہاز کا سفر‘کمپیوٹر کا استعمال‘ گھڑی پہننا وغیرہ وغیرہ۔جبکہ دین میں نئی ایجاد ات حرام ہیں‘کیونکہ دینی عبادات میں اصل توقیف ہے
    ،
    سیدالاولین و الاخرین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے

    من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو ردّ

    "جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے" (متفق علیہ)
    ۔
    اب "راقم الحروف " آکا آپ سب سے سوال ہےکہ
    ،
    کیا اللہ اکبر پڑھنا غلط ہے ؟
    کیا
    لاالہ الا اللہ پڑھنا غلط ہے ؟
    کیا
    سبحان اللہ پڑھنا غلط ہے ؟
    ،
    جی ہاں غلط ہے لیکن کب اور کیسے ؟ اس کیلئے مندرجہ ذیل سنن دارمی کی حدیث پڑھیں جسکا ایک ایک لفظ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے اور اگر ہم آنکھوں سے اندھی تقلید کی پٹی اتار پھینکیں گے اورشرک و بدعات کی بجائے سعادتوں سفر پر گامزن ہوجائیں گے تو ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہونگی إن شاء اللہ اور یہ حدیث عرصہ دراز ہوگیا سیرت امام بخاری رحمہ اللہ کے مطالعہ کے دوران میں نے پڑھی تھی اور اس نےبدعت سے مزید نفرت پر مجھے بہت تقویت دی اورمیرے لیے ہر قسم کی بدعت پر دلیل دینے کیلئے بہت ہی مفید ثابت ہوئی ، الحمدللہ
    ،
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے کون واقف نہیں یا کس نے انکے بارے میں سُن یا پڑھ نہیں رکھا ؟ اور انہوں نے بدعت پر کیسا شدید رد کیا اور سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی کن کن چیزوں کا ذکر فرمایا ؟ اور پھر ان لوگوں کو کیسی وعید سنائی ؟

    آئیے اب حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں

    عمرو بن یحیی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب عبداللہ بن مسعود باہر تشریف لاتے تو ہم ان کے ساتھ چلتے ہوئے مسجد تک آیا کرتے تھے اسی دوران حضرت ابوموسی اشعری وہاں تشریف لے آئے اور دریافت کیا ،

    کیا حضرت ابوعبدالرحمن (حضرت عبداللہ بن مسعود) باہر تشریف لائے؟

    ہم نے جواب دیا ، نہیں

    تو حضرت ابوموسی اشعری ہمارے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعود باہر تشریف لائے جب وہ آئے تو ہم سب اٹھ کران کے پاس آگئے

    حضرت ابوموسی اشعری نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن آج میں نے مسجد میں ایک ایسی جماعت دیکھی ہے جو مجھے پسند نہیں آئی اور میرا مقصد ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے صرف نیکی ہے۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود نے دریافت کیا وہ کیا بات ہے ؟

    حضرت ابوموسی نے جواب دیا آپ خود ہی دیکھ لیں گے

    حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں ان میں سے ہر ایک حلقے میں ایک شخص ہے جس کے سامنے کنکریاں موجود ہیں

    فَيَقُولُ كَبِّرُوا مِائَةً فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً
    پھر وہ شخص یہ کہتا ہے سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ تو لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں۔

    فَيَقُولُ هَلِّلُوا مِائَةً فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً
    پھر وہ شخص کہتا ہے سو مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھو تو لوگ سو مرتبہ یہ پڑھتے ہیں

    وَيَقُولُ سَبِّحُوا مِائَةً فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً
    اور وہ شخص کہتا ہے سومرتبہ سبحان اللہ پڑھو تو لوگ سبحان اللہ پڑھتے ہیں۔

    قَالَ فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ
    حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان سے دریافت کیا، آپ نے ان سے کیا کہا ؟

    حضرت ابوموسی اشعری نے جواب دیا میں نے آپ کی رائے کا انتظار کرتے ہوئے ان سے کچھ نہیں کہا۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا آپ نے انہیں یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور آپ نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کینیکیاں ضائع نہیں ہوں گی؟ (راوی کا بیان کرتے ہیں)

    پھر حضرت عبداللہ بن مسعود چل پڑے ان کے ہمراہ ہم بھی چل پڑے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا یہ میں تمہیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں ؟

    انہوں نے جواب دیا اے ابوعبدالرحمن یہ کنکریان ہیں جن پر ہم لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ گن کر پڑھ رہے ہیں

    قَالَ فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ
    حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا تم اپنے گناہوں کو گنو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی۔

    اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمہارا ستیاناس ہو تم کتنی تیزی سے ہلاکت کی طرف جا رہے ہو یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکے صحابہ تمہارے درمیان بکثرت تعداد میں موجود ہیں اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ہیں جو ابھی پرانے نہیں ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ایسے طریقے پر ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو؟

    لوگوں نے عرض کی اللہ کی قسم اے ابوعبدالرحمن ہمارا ارادہ صرف نیک ہے ۔

    قَالَ وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ
    حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا کتنے ہی خیرکا ارادہ کرنے والے ہیں لیکن خیر کو نہیں پہنچتے

    إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم ہوسکتا ہے ان میں سے اکثریت تم لوگوں کی ہو؟

    پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ان کے پاس سے اٹھ کر آگئے۔

    عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں ہم نے اس بات کا جائزہ لیا ان حلقوں سے تعلق رکھنے والے عام افراد وہ تھے جنہوں نے نہروان کی جنگ میں خوارج کے ساتھ مل کر ہمارے ساتھ مقابلہ کیا
    ( حدیث 204 ، مقدمہ ،أخرجه الدارمي وهو صحيح)

    امید ہے آپ کے دل میں اس تحریر اور حدیث کو جان کر بدعت کیلئے نفرت پیدا ہوئی ہوگی اب آپ کیلئے سنت ﷺ پر عمل پیرا رہنے کیلئے مندرجہ ذیل باتو ں پر دھیان دینا ہوگا، ان شاءاللہ

    بدعت سے خاص نقصان کونسے ہوتے ہیں ؟ بدعتی آدمی سے توبہ کی امید نہیں کی جا سکتی بخلاف دوسرے گناہ گاروں کے ۔کیونکہ بدعتی اپنی بدعت کو نیکی سمجھ کر کررہا ہوتا ہے۔

    بدعتی گویا کہ(نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ پر خیانت کا الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے مکمل دین نہیں پہنچایا اسی لئے تو اپنے پاس سے نئی چیزیں گھڑتا ہے
    اور
    بدعتی آدمی نبی ﷺ کی اتباع چھوڑ کر اپنے نفس اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور
    سب سے بڑا نقصان ؟
    قیامت والے دن بدعتی آدمی کونبی ﷺ سے حوض کوثر کا پانی نصیب نہ ہو گا کیونکہ فرشتے بدعتیوں اور نبی ﷺ کے درمیان دیوارکھڑی کر دیں گے۔
    الله ہم سب كو بدعات سے بچائے اور سنتوں سے محبت كرنے كی توفيق عطا فرمائے۔آمین

    آپ ﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ
    آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں
    کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات کے متعلق معرفت حاصل کریں، جس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے ،
    اسی طرح آپ ﷺ کی سنت کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حتی کہ جانوروں اور جمادات کو بھی آپ ﷺ کی معرفت حاصل ہوئی تو آپ ﷺ سے محبت کی مثالیں قائم کر دیں، چنانچہ آپ کی محبت میں کھجور کا تنا رو پڑا، آپ کو پتھروں نے بھی سلام کیا، رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت اور احترام کے اظہار کے لیے جبل احد بھی حرکت میں آیا، اونٹنیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر آپ کے آگے آتیں کہ آپ انہیں ذبح کر دیں، اسی طرح آپ ﷺ نے چاند کو اشارہ کیا تو دو لخت ہو گیا، بادلوں کو اشارہ کیا تو سب منتشر ہو گئے، یہ سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے ہوتا تھا۔
    اللہ تعالی! آپ ﷺ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور آپ ﷺ کی محبت ہمارے سودائے قلب میں بسا دے، آپ ﷺ سے محبت ہمارے دلوں میں ہماری جانوں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اہم بنا دے، اور ہمیں آپ ﷺ کی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین


    اپنے استاذ محترم کے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ تحریر کو اختتام پذیر کرتا ہوں اور میری بات کی کوئی حیثیت نہیں اور آپ ميری بات کو رد بھی کرسکتے ہیں لیکن جو قرآن و سنت اور اصحاب رسول ﷺ کے اقوال انکو لے لیجئے راقم الحروف ابو حسن

    استاذ محترم کے کلمات
    فدُوروا مع سُنَّة نبيِّنا وسيِّدنا محمد صلى الله عليه وسلم دُوروا مع السنَّة حيث دارَت، واعلَموا أن كل عبادةٍ لا دليل عليها من كتاب الله أو سنَّة رسوله صلى الله عليه وسلم - فهي عبادةٌ مُختلقة، وطريقةٌ مُبتدَعة، وزيادةٌ مُخترَعة، ولو استَحسَنَها من استَحسَنَها

    چنانچہ ایسے ہی عمل کرو، جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بیان ہوا ہے، اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ ہر ایسی عبادت جس کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دلیل نہیں ہے، تو وہ خود ساختہ عبادت اور بدعتی طریقہ ہے، چاہے اسے اچھا کہنے والا کوئی بھی ہو۔

    فاحذَروا أن تنتكِسُوا في حمئَتِها، أو تتدنَّسُوا بضلالتها.

    اپنے آپکو بچاؤ! کہ کہیں اسکی دلدل میں نہ پھنس جانا، اور یا اسکی گمراہی میں نہ پڑ جانا۔

    واللہ اعلم۔
     
    Last edited: ‏نومبر 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں