حضرت ابو عَسِیبؓ

فیضان نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏نومبر 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    34


    ان کے اصل نام کے بارے اختلاف ہے ۔ جمہور اہلِ سِیَر ان کا نام احمر بتاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی کنیت "ابو عَسِیب" سے شہرت پائ
    ان کے وطن خاندان اور نسب کے بارے میں کُتُبِ سِیَر بالکل خاموش ہیں مگر ان کے شرف و مجد کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سیدالانبیا و المرسلین رحمت دو عالمﷺ کے غلام تھے
    حضرت ابو عسیبؓ کب حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور انہیں سرورِعالمﷺ کی غلامی کا شرف کب حاصل ہوا اس کے بارے میں بھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بعض اربابِ سیر نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ انہیں فتح مکہ (رمضان ؁۸ھ) سے پہلے کسی وقت قبولِ اسلام اور حضور ﷺ کی غلامی کا شرف حاصل ہو گیا تھا بعد میں حضور ﷺ نے انہیں آذاد کر دیا تھا
    حضورﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہونے کے بعد ان کی زندگی میں ایسا زبردست انقلاب آیا کے اِخلاقِ حسَنہ کے پیکر جمیل بن گئے۔
    چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہر حالت میں اسوہ نبوئﷺ پیشِ نظر رہتا تھا اس طرح وہ حقیقی معنوں میں
    "عِبادالرَّحمٰن" کی صفت کے آدمی بن گئے تھے
    عبادتِ الہیٰ سے خاص شغف تھا ۔ ضعیف العمری میں بھی اس شغف میں کوئ فرق نا آیا۔چاشت کی نماز تک کبھی ترک نہیں کی
    جب کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی تو بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے مگر ناغہ نہ کرتے تھے تین دن کا مکمل روزہ رکھتے تھے
    ابنِ سعدؒ کا بیان ہے کہ وہ ہر مہنے کی چاندنی رات کی تاریخوں میں باقاعدگی سے روزہ رکھتے تھے ۔ نماز جمعہ کا اس قدر التزام تھا کے جب تک مسجد میں جانے کی طاقت رہی جمعہ کی نماز کا کبھی ناغہ نہیں کیا۔ وہ لوگوں کو بھی تاکید کیا کرتے تھے کہ جب تک صحت قائم ہے اور چلنے پھرنے کی طاقت ہیں جمعہ کی نماز نہ چھوڑنا
    یہ نماز (حج کی استطاعت نہ رکھنے والوں کے لیے ) فریضہ حج کے برابر ہے

    (طبقات ابن سعد جلد۷ق اوّل ص ۴۲)

    انہوں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہﷺ جو کچھ کرتے دیکھا تھا چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اس کی پیروی کرتے تھے
    ابن سعدؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عسیبؓ ہمیشہ موٹے برتن میں پانی پیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے پوچھا آپ ہماری طرح پتلے برتن میں پانی کیوں نہیں پیتے ؟ فرمایا۔۔۔۔:میں نے رسول اللہﷺ کو اسی قسم کے برتن میں پانی نوش فرماتے دیکھا ہے پھر میرے لیے ایسا کرنے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے
    سیدنا حضرت عمر فاروقؓ عہد خلافت میں بصرہ آباد ہوا تو حضرت ابو عسیبؓ مدینہ منورہ سے بصرہ چلے گے اور وہی مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ ابن سعدؒ کا بنان ہے کہ لوگ ان کے شرفِ صحابیات، خدمتِ رسولﷺ اور زہد و تقویٰ کی بنا پر ان کی بے انتہا عزت کرتے تھے ۔ جب وہ بہت بوڑھے ہوگے تو لوگ اپنے ہاتھوں سے ان کے ناخن اور مونچھوں کے بال تراشتے تھے
    حضرت ابو عسیبؓ کے سالِ وفات کے بارے میں بھی کتبِ سِیَر خاموش ہیں

    علامہ ابن اثِیرؒ نے اُسدُالغابہ میں حضرت ابو عسیبؓ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے
    رسول اللہﷺ نے فرمایا جبریلؑ میرے بخارا و تاعون لے کر آے تو بخار کو روک لیا اور تاعون کو شام بیج دیا اور وہ میری امت کے لیے رحمت ہے اور کافروں کے لیے عذاب ہے
    ابنِ اثیرؒ نے یہ وضاحت نہیں کی کے جرح و تعدیل کی روشنی میں اس حدیث کا کیا درجہ ہے

    مُسنَد احمدؒ میں حضرت ابو عسیبؓ سے مروی ایک اور حدیث بھی نکل کی گئی ہے جس میں انہوں نے رسولﷺ کے حضرت ابو الہثیم بن التیہان انصاریؓ کے نخلستان میں تشریف لے جانے کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ واقعہ مختلف طریقوں سے ابوداوُد،ترمذی،ابنِ ماجہ اور نسائی وغیرہم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی نکل کیا ہے ان میں سے بعض میں ابوالہثیمؓ بن التیہان کا نام لیا گیا ہے اور بعض میں صرف انصار میں سے ایک شخص کا کیا گیا ہے ۔ اس قصہ کو مختلف طریقوں سے اور متعددتفصیلات کے ساتھ ا بن ابی حاتمؒ نے حضرت عمرؓ سے بھی نکل کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسولﷺ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرِ فاروقؓ معیت میں حضرت ابو الہثیم بن التیہانؓ کے نخلستان میں تشریف لے گئے ۔انہوں نے آپﷺ کا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور کھجور سے لدی ہوئی ایک شاخ توڑ لائے ۔ جب یہ شاخ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے رکھی تو آپﷺ نے پوچھا تم خود کیوں نہ کھجور توڑ لائے؟ انہوں نے عرض کیا میں چاہتا تھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں تناول فرمائیں چناچہ انہوں نے کھجوریں کھائی اور ٹھنڈا پانی پیا اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبصہ قدرت میں میری جا ن ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے روز جواب دہی کرنی ہوگی
    یہ ٹھنڈا سایہ ، یہ ٹھنڈی کھجوریں ، یہ ٹھنڈا پانی بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوالہثیمؓ نے بکری کا ایک بچہ ذبح کر کے بھونہ اور ان تینوں مقدس ہستیوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا ۔ اسی اثناء میں دو جنگی قیدی آپ کے سامنے لائے گے ان میں سے ایک آپ ﷺ نے ابو الہثیم ؓ کو عطا فرمایا انہوں نے اپنی اہلیہ کے مشورے پر آذاد کر دیا حضورﷺ نے سنا تو آپ بہت خوش ہوے اور دونوں میا بیوی کی تعریف فرمائی۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں