ضعیف احادیث

زبیراحمد نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏نومبر 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,423
    اہل علم کے نزدیک ضعیف احادیث پر عمل کرنا ایک ایسا موضوع رہا ہے کہ جس پر آج کے دور میں بھی بہت کچھ لکھا جاتا ہے اور لکھا جارہا ہے ۔خاص طور پر اختلافی مسائل پر اس پر کافی بحثیں موجود ہیں اس فورم میں بھی اس پر کافی بحث ومباحثہ اہل علم اور طالب علم کے درمیان اہل علم اور اہل علم کے درمیان طالب علم اور طالب علم کے درمیان ہوتا ہے ۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ صحیح حدیث سے ہی مسائل لینے چاہئیں اور اسی پر ہی عمل کرنا بہتر ہے،مگر ایک اور رائے بھی موجود ہے جو شدو مد کے ساتھ سلف کے نقطہ نظرکو سامنے رکھ کر ہے جسے نظر انداز کرناعلمی منہج کے بہرحال خلاف ہوگااس بات سے اہل سنت و الجماعت کے تمام مکاتب فکر میں اتفا ق رائے موجود ہے کہ موضوع روایات کسی صورت بھی قابل ِ قبول نہیں ہونگی البتہ دیگر ضعف پر کلام موجود ہے۔

    حدیث کے ضعف کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا بھی اہل علم کاطریقہ رہا ہے مگر وہ حلال اور حرام کی بحثوں میں اس طریقہ کار کو نہیں لاتے ہیں اورایسی صورت میں حدیث کے ضعف کوزیرِکلام لانالازمی سمجھتے ہیں البتہ دیگر امور پرتساہل برقرار رکھتے ہیں اور ان تمام مسائل پر گنجائش دیتے ہوئے احکامات صادر کرتے ہیں جنکی دلیل نرمی ء سند ِحدیث پر رکھی ہوئی ہوتی ہے

    امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ

    "اہل حدیث کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل (نرمی)برتنااور موضوع کو چھوڑ کر ضعیف حدیثوں کو روایت کرنا اور ان پر عمل کرنا انکا ضعف بیان کیئے بغیر جائز ہے،مگر اللہ کی صفات اور حلال وحرام جیسے احکام کی حدیثوں میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی ج:1 ص:455) فضائل اعمال پرحدیث کی سند پر سختی نہ کرنے پر بھی اکابرینِ حدیث وفقہ قائل ہیں اور گنجائش دینے کو تیار ہیں جس میں ایک مسلمان کو ترغیب دی جاسکے بھلائی اوردیگر اعمالِ صالحہ کی نیز ان اعمال کے جملہ فضائل بھی عوام میں مقبول ِ عام ہوسکیں امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ امام احمدؒ کے مطابق جب حلال اور حرام کی بات آئے گی تو سندوں کی پڑتال اور پرکھ سخت ہوگی جب ترغیب اور ترہیب کی بات آئے گی تو ہم سندوں میں تساہل برتیں گے،اسی طرح فضائل اعمال میں جس ضعیف حدیث کے عمل پر علماء ہیں۔(مجموع الفتاویٰ ابن تیمیہ ؒ 65/18)

    مندرجہ بالا نکتے کو جناب بدیع الدین راشدی صاحب بھی اپنی کتاب مقالات ِ راشدیہ جلددوم او ر صفحہ 347میں ضبط ِ قلم میں لاتے ہیں جس سے فضائل کی بحث میں حدیث کی اسناد پر نرمی اور قدرے لچک کے مذہب کے اصول کو تقویت ملتی ہے۔

    بلحاظ فہم ومفہوم ایسی ضعیف حدیثیں جنکا طرق کثرت سے ہوان پر عمل بھی اہل علم کے نزدیک باعثِ مجموع ہےاور ان پر عمل بھی اہل علم کا طریق رہا ہے اور ایک اندا ز میں اسے بھی اہل علم قبول کرلیتے ہیں ممکن ہے کہ بعض کا طریق مختلف ہو مگر معتدبہ تعداد اسے قبول کرتی ہے فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ میں ہے کہ "اورکچھ ضعیف ایسی بھی ہیں جن کے مدلول (مفہوم)پر عمل کرنے میں اہل علم کا اتفاق ہے اور انہیں قبول کرکے ان پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔(مذکورہ کتاب:ج:اول،ص:297)

    لہٰذا ایسی ضعیف حدیث جس پر تمام امت نے مہر تصدیق ثبت کردی ہو یعنی بحیثیت مجموعی اس پر قبولیت کی مہر ثبت کی ہوتو وہ قابل قبول ہوتی ہے شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب لکھتے ہیں کہ "اس حدیث کی سند بالاتفاق ضعیف ہے لیکن اس زیادت کو تمام امت نے بالاتفاق قبول کیا ہے اس کی قبولیت پرعملی تواتر ثابت ہے۔(رسول اکرم ﷺ کی نماز، ص:9)"
     
  2. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    32
    امالمومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا۔:
    من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ ( متفق علیہ البخاری ۲۶۳،۱ مسلم ۳۶۲،۱)
    جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس کے ذمہ روزے باقی ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔

    سادات حنفیہ پوری قوت سے فرماتے ہیں :۔
    ولا یصوم عنہ اولی (ھدایہ کتاب الصوم ۲۰۳)
    میت کی طرف سے اس کا ولی روزے نہیں رکھ سکتا۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں