حضرت ابو قُحَافَہؓ تَیمی قرشی

فیضان نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏نومبر 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    34


    سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے والد تھے
    نام عثمان تھا مگر انہوں نے اپنی کنیت " ابو قُحافہ" سے شہرت پائی۔ خاندانی تعلق قریش کی شاخ بنی تیم سے تھا یہ افراد خاندان کے اعتبار سے قریش کا سب سے چھوٹا خاندان تھا مگر عزت اور مرتبہ کے اعتبار سے بہت بلند مقام رکھتا تھا اشناق یعنی خون بہا (دَیَت)
    تاوان وغیرہ کے معاملات کی ذمہ داری اسی خاندان کے سپرد تھی۔

    حضرت ابو قُحافہؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے:
    ابو قُحافہ بن عثمانؓ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرہ بن کعب بن لُوئ بن القرشی
    مُرہ بن کعب پر ان کا نسب رسول اللہﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے
    والدہ کا نام آمنہ تھا جو عبدالعُزّیٰ بن حدثان بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب کی بیٹی تھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    34
    جس زمانے میں آفتابِ رسالت فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا، حضرت ابو قُحافہؓ کی عمر ستر ۷۰ برس تھی۔ وہ ایک خوشحال تاجر تھے اور قریش میں بڑی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے
    قریش کے بہت سے دوسرے سن رسیدہ اشخاص کی طرح وہ مدت تک اسلام کو بچوں کا کھیل سمجھتے رہے اور آپنے آبائی مذہب پر سختی سے قائم رہے آبائی مذہب سے ان کے لگاوُ کا یہ حال تھا کے آپنے بچوں کو بھی بت پرستی کی تلقین کیا کرتے تھے ایک مرتبہ جب ان کے فرزند حضرت ابوبکرؓ کی عمر صرف چار برس کی تھی وہ ان کو اپنے ساتھ بت خانہ لے گے اور وہاں پر نسب ایک بت کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ " یہ تمہارا بلند و بالاخدا اس کو سجدہ کرو"

    حضرت ابوبکرؓ جن کو اللہ تعالیٰ نے نہایت پاکیزہ فطرت اور کمال درجے کی ذہانت و فطانت عطا کی تھی اس چھوٹی سی عمر میں بت پرستی سے متنفر اور مجتنب تھے
    انہوں نے بت سے مخاطب ہو کر کہا " میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے میں ننگا ہوں مجھے کپڑا دے میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا"

    یہ کہہ کر انہوں نے ایک پتھر اس زور سے بت کو مارا کے وہ گر پڑا یہ دیکھ کر ابو قُحافہ غضبناک ہو گے۔انہوں نے ننھے ابوبکرؓ کے رخسار پر تھپڑ مارا اور وہاں سے ان کو گھسٹتے ہوے اپنی اہلیہ سلمٰیؓ بنتِ صخر کے پاس لے گے انہوں نے ننھے ابوبکرؓ کو سینے سے چمٹا لیا اور شوہر سے کہا۔
    " اسے اس کہ حال پر چھوڑ دو جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے اس کہ بارے میں غیب سے کئی آچھی باتیں بتائی گی تھیں" (ارشاد الساری شرح بخاری قسطلانی)

    سرورِعالمﷺ نے دعوتِ توحید کا آغاز فرمایا تو حضرت ابوقُحافہ کے جلیل القدر فرزند حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قبولِ حق میں ایک لمحہ بھی تامل نہ کیا مگر ابو قُحافہ ؓ اپنے حال میں مست رہے
    حضورﷺ سفرِہجرت پر روانہ ہوے تو حضرت ابو بکرؓ کو اس سفر میں آپﷺ کی معیت کا عظیم اور لازوال شرف حاصل ہوا

    حضرت ابوقُحافہؓ اس وقت نابینا ہو چکے تھے جب ان کو یہ علم ہوا کہ ابوبکرؓ مکے سے باہر چلے گے ہیں تو انہوں نے اپنی پوتی حضرت اسماء بنتِ ابوبکرؓ سے کہا۔
    " میرا خیال ہے کہ ابوبکرؓ اپنی جان کے ساتھ اپنا مال بھی لے گیا "
    فی الحقیقت ابوبکرؓ گھر سے چلتے وقت اپنا سارا مال جس کی مقدار بہ اختلافِ روایت پانچ چھ ہزار درہم سے چالیس ہزار درہم تک تھی اپنے ساتھ لے گے تھے
    حضرت اسماءؓ نے بھوڑھے دادا کا دل رکھنے کے لیے جواب دیا " نہیں بابا جان انہوں نے خیرِ کثیر ہمارے لیے چھوڑی ہے"

    حضرت اسماءؓ کا بیان ہے کہ پھر میں نے چند (چھوٹے چھوٹے) پھتر اس طاق میں رکھے جہاں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے میں نے ان پتھروں پر کپڑا ڈال دیا اور دادا جان کا ہاتھ پکڑ کر کہا آپ ہاتھ لگا کر دیکھ لیں انہوں نے آپنے ہاتھ سے کپڑے کو ٹٹولا اور کہا اگر یہ مال وہ تمارے لیے چھوڑ گیا ہے تو بہت ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہمارے والد نے کوئی مال پیچھے نہیں چھوڑا تھا اور میں نے صرف دادا جان کے اطمنان کے لیے یہ کاروائی کی تھی(یعنی اس لیےکہ بھوڑے اور نابینا دادا کا دل نہ ٹوٹ جائے)

    ۸ ؁ہجری میں مکہ معظمہ پر پرچم اسلام بلند ہوا تو ابو قُحافہؓ تقریبً ۹۰نوے برس کے شیخِ کبیر تھے حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کو گھر سے اپنی گود میں اُٹھا کر (بروایت دیگر سہارا دے کر)
    رسول اللہﷺ کی خدمت میں لائے ۔حضورﷺ نے ان کے ضعفِ پِیری اور نابینائی کو دیکھ کر فرمایا۔ اے ابوبکرؓ آپ نے انہیں یہاں آنے کی زحمت کیوں دی ۔ میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا
    اس کے بعد آپﷺ نے حضرت ابوقُحافہؓ کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا ،اسلام لائیں(آتش دوزخ سے) بچ جائے گے ۔وہ فوراً مُشتَرف بہ اسلام ہوگئے
    خادِم رسولﷺ حضرت انس بن مالکؓ نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا


    ابوبکرصدیقؓ اپنے والد ابی قُحافہ کو فتح مکہ کے دن گود میں آٹھا کر رسول اللہﷺ کے پاس لائے اور ان کو آپﷺ کے سامنے بٹھا دیا آپﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے فرمایا
    اگر آپ ان بزرک کو گھر ہی میں رہنے دیتے تو یقیناً ہم خود ان کے پاس جاتے۔ پھر ابوقُحافہ اسلام لائے ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید براق تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا
    ان بالوں کا رنگ بدل دیں مگر سیاہ رنگ سے پرہیز کریں۔
    قتادہؒ کہتے ہیں کہ اسلام میں یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے خضاب لگایا قبولِ اسلام کے بعد پانچ سال سے کچھ زائد عرصے تک حیات رہے اس دوران میں رسول اللہﷺ وفات پائی
    اور حضرت ابوبکرصدیقؓ مسندآرائے خلافت ہوے سوا دو سال کے بعد انہوں نے بھی حضرت ابو قُحافہؓ کے سامنے وفات پائی ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی میراث میں سے حصہ ملا
    ابنِ اثیرؒ نے لکھا ہے کہ یہ چھٹا حصہ تھا۔ حضرت ابو قُحافہؓ نے یہ حصہ لے کر اپنے ایک پوتے کو دے دیا ۔۔۔


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. فیضان

    فیضان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2016
    پیغامات:
    34


    حضرت ابو قحافہ ؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے ابتدائی زمانے ۱۴ ؁ھ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر ۹۷ برس کے لگ بھگ تھی
    حضرت ابو قحافہؓ کا اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت نصیب کی کہ ان کے خاندان کی چار پشتوں کو شرفِ صحابیات حاصل ہوا۔ پہلی پشت ان کی اپنی ہے پھر ان کے فرزند حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دو بیٹیوں حضرت ام فروہؓ اور حضرت قریبہؓ کو شرفِ صحابیات حاصل ہوا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اسلام میں یہ مرتبہ ہے کہ وہ بالتحقیق انبیاء کے بعد افضل البشر تسلیم کیے جاتے ہیں
    تیسری پشت میں حضرت اسماءؓ امُ المومنین حضرت عائشہؓ،حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ اور حضرت عبدارحمٰن ؓ بن ابی بکرؓ سب کا شمار عظیم المرتبت صحابیات و صحابہ میں ہوتا ہے
    چھوتی پشت میں ابو عتیق محمد بن عبد الرحمٰنؓ بھی شرفِ صحابیت سے بہرہ ور ہوئے

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں