خواتین اور شوہروں کی عدم شکرگزاری

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏نومبر 20, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    669
    خواتین اور شوہروں کی عدم شکرگزاری

    تحریر: مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

    اللہ رب العالمین کا ہم پہ بے پاں احسان وکرم ہے، اس کے منجملہ احسان میں سے شادی بھی بڑی عظیم نعمت اور بڑا احسان ہے ۔ یہ نہ صرف نسل انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے بلکہ مردوعورت کے درمیان زندگی کی فطری مسکراہٹیں، قلبی سکون وراحتیں، باغ وبہار کے حسن وزیبائشیں ، زمانے بھر کی خوشیاں اور ان کی حقیقی لطافتیں اس میں موجود ہیں ۔ ایک مومنہ خاتون کے واسطے اسکے اولیاء کو رسول ھادی ﷺ نے یہ عظیم وصیت فرمائی ہے کہ جب دین اور اخلاق والا مرد اس کے پاس شادی کا پیغام لیکر آئے تو اسے قبول کرلے اور لڑکی کا نکاح اس دیندار مرد سے کردے ، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو زمین میں بڑا فتنہ فساد پھیلے گا۔ نبی ﷺ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں :
    إذا خطبَ إليكم مَن ترضَونَ دينَه وخلقَه ، فزوِّجوهُ إلَّا تفعلوا تَكن فتنةٌ في الأرضِ وفسادٌ عريضٌ(صحيح الترمذي:1084)
    ترجمہ:اگر تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی ولیہ) کی شادی کر دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا۔

    مومنہ خاتون اپنی زندگی کی شروعات دین واخلاق میں معروف مرد سے نکاح کرکے کرے ، اس کے ساتھ زندگی کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے ۔ جہاں عورت کے لئے دیندار مرد کا پیغام رد کرنا منع ہے وہیں مردوں کو بھی نیک بیویاں عقد نکاح میں لانے کا حکم ہے ۔اس طرح نیک مرد اور نیک بیوی اپنی زندگی سیرت رسول کے سائے میں گزاریں گے ۔ جب بیوی سے غلطی ہوئی شوہر اس کی اصلاح کردے گااور جب شوہر سےکبھی کوتاہی ہوئی بیوی اس کی اصلاح کردے ۔

    ایسی ہوتی ہے مسلمان مردوعورت کی زندگی مگر اس وقت شادی میں دین کومعیار ہی نہیں بنایا جاتا جس کی وجہ ہے زمین میں فساد پھیلاہوا ہے ۔ اکثر شادیاں فتنہ وفساد کا شکار ہوجاتی ہیں، ایک طرف مرد کی زندگی تباہ ہوتی تو کبھی دوسری طرف عورتوں کو مظالم کا شکار ہونا پڑتا ہے۔بے دینی پر مبنی شادیوں کی وجہ سے زمانے میں شروفساد، قہر وغضب، کشت وخون، ظلم وسرکشی اور فسق وفجور حتی کہ زناکاری وبدکاری عام ہوگئی ہے۔ طلاق کی فیصد کافی بڑھ گئی ۔ سماج میں مطلقہ خواتین کی کثرت ہے اوروہ دردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ اس موضوع میں ان باتوں پر روشنی ڈالنے کا مقصد نہیں ہے ۔یہاں عورتوں میں آخرت کے تئیں فکر پیدا کرنا مقصد ہے ۔ نبی ﷺ کے متعدد فرامین سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم میں خواتین کی اکثریت ہوگی ۔ اس سلسلے میں پہلے چند فرامین رسول دیکھتے ہیں پھر اس کا سبب معلوم کریں گے ۔

    (1)حضرت ابن عباس ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
    اطلعت في الجنةِ فرأيت أكثرَ أهلِها الفقراءُ . واطلعت في النارِ فرأيت أكثرَ أهلِها النساءُ . ( صحيح مسلم:2737)
    ترجمہ: میں نے جنت کے اندر جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دیکھی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو میں نے دوزخ میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔

    (2)سیدنا اسامہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
    قُمتُ على بابِ الجنَّةِ، فكان عامَّةَ مَن دَخَلها المساكينُ، وأصحابُ الجَدِّ مَحبوسون، غير أنَّ أصحابَ النَّارِ قد أُمِر بهم إلى النَّارِ، وقُمتُ على بابِ النَّارِ، فإذا عامَّةُ مَن دخَلها النِّساءُ.(صحيح البخاري:5196)
    ترجمہ:میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو بیشتر لوگ جو اس میں آئے تھے وہ مساکین تھے جبکہ مال دار لوگوں کو جنت کے دروازے پر روک دیا گیا تھا البتہ اہل جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیاتھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی اکثر عورتیں تھیں۔

    (3) نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنَّ أقل ساكني الجنةِ النساءُ (صحيح مسلم:2738)
    جنت میں رہنے والوں میں سب سے کم تعداد عورتوں کی ہے۔

    یہ تمام احادیث صحیح ہیں ، ان سے ہمیں معلوم ہوا کہ جنت میں عورتیں معمولی تعداد میں ہوں گی اور ان کی اکثریت جہنم میں جائے گی ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا سبب ہے جس کی وجہ سے مردوں کے مقابلے میں جہنم میں اکثر عورتیں ہوں گی ؟ اس سوال کا جواب ہمیں فرمان رسول میں ہی مل جا تا ہے ۔

    (1)حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
    أُريتُ النارَ فإذا أكثرُ أهلِها النساءُ ، يَكْفُرن. قيل: أيَكْفُرن باللهِ ؟ قال: يَكْفُرن العشيرَ، ويَكْفُرن الإحسانَ، لو أحسنتَ إلى إحداهُن الدهرَ، ثم رأتْ منك شيئًا ، قالت: ما رأيتُ منك خيراً قطُّ.(صحيح البخاري:29)
    ترجمہ: میں نے دوزخ دیکھی تو وہاں اکثر عورتیں تھیں کیونکہ وہ کفر کرتی ہیں۔لوگوں نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا:نہیں بلکہ وہ اپنے خاوند کا کفر کرتی ہیں، یعنی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ وہ یوں کہ اگر تو ساری عمر عورت سے اچھا سلوک کرے پھر وہ معمولی سی (ناگوار) بات تجھ میں دیکھے تو کہنے لگتی ہے کہ مجھے تجھ سے کبھی آرام نہیں ملا۔

    (2)ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عید الفطر کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے اور عورتوں کے پاس گزرے تو فرمانے لگے :
    يا معشر النساء تصدقن، فإني رأيتكن أكثر أهل النار . فقُلْن : وبم ذلك يا رسولَ اللهِ ؟ قال تكثرن اللعن، وتكفرن العشير(صحيح البخاري:1462)
    ترجمہ:اے عورتوں کی جماعت! صدقہ و خیرات کیا کرو بیشک مجھے دکھایا گیا ہے کہ جہنم میں تمہاری اکثریت ہے تو وہ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول وہ کیوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گالی گلوچ بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی نافرمانی کرتی ہو ۔

    (3)حضرت اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    إياكنَّ و كفرانَ المُنعَّمِينَ لعلَّ إحداكنَّ تطولُ أيمتُها من أبويها ، ثم يرزقُها اللهُ زوجَها و يرزقُها منه ولدًا ، فتغضبُ الغضبةَ فتكفرُ ، فتقول : ما رأيتُ منك خيرًا قطُّ( صحيح الأدب المفرد:800)
    ترجمہ: تم اچھا سلوک کرنے والے شوہروں کی ناشکر گزاری سے بچو پھر فرمایا تم عورتوں میں سے کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے والدین کے گھر لمبے عرصے تک کنواری بیٹھی رہتی ہو پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر دیتا ہے اور اس سے اولاد ہوتی ہے پھر کسی بات پر غصہ ہوجاتی ہو اور کفر کرتی ہو اور شوہر سے کہتی ہو کہ تم نے میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا۔

    (4)عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
    إِنَّ الفُسَّاقَ هُمْ أهلُ النارِ . قيل : يا رسولَ اللهِ ! ومَنْ الفُسَّاقُ ؟ قال : النِّساءُ . قال رجلٌ : يا رسولَ اللهِ ! أَوَلَسْنَ أُمَّهاتِنا وأَخَوَاتِنا وأَزْوَاجَنا ؟ قال : بلى ؛ ولَكِنَّهُنَّ إذا أُعْطِينَ لمْ يَشْكُرْنَ ، وإذا ابْتُلِينَ لمْ يَصْبِرْنَ(السلسلة الصحيحة:3058)
    ترجمہ: فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ پوچھاگیا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ یہ فاسق كون ہیں؟ آپ نے فرمایا: عورتیں ۔ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ كیا یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیوں نہیں لیكن جب انہیں دیا جائے تو یہ شكر نہیں كرتیں اور جب آزمائش آئے تو صبر نہیں كرتیں۔

    نوٹ : اس کا بقیہ حصہ دوسری قسط میں جلد ہی آئے گا ، ان شاء اللہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,245
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    669
    خواتین اور شوہروں کی عدم شکرگزاری (دوسری قسط)

    تحریر: مقبول احمد سلفی

    مذکورہ احادیث کے مستفادات :

    اس سے پہلے موضوع سے متعلق کئی احادیث پیش کی گئی ہیں ، ان احادیث سے چند باتیں سامنے آتی ہیں ۔
    (1) صحیحین کی روایات سے ہمیں معلوم ہوا کہ جہنم میں عورتوں کی کثرت ہوگی یعنی جنت میں قلیل تعداد میں ہی عورتیں ہوں اور ان کی بڑی تعداد جہنم میں داخل ہوگی ۔

    (2) نبی ﷺنے جہنم میں عورتوں کی کثرت کے اسباب بھی ہم سے بیان فرمادئے۔ ان اسباب میں شوہروں کی نافرمانی کرنا، احسان فراموشی کرنا، گالی گلوج کرنا، ایک دوسرے پر لعن وطعن کرنا، بلاوجہ شوہر پر غصہ ہوجانا، اس کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرنا، نعمتوں پر شکر یہ نہ بجالانا اور مصائب ومشکلات پر صبر نہ کرنا وغیرہ ہیں۔

    (3) عورتوں میں ناشکری والی ایک شدید ترین بات پائی جاتی ہے جو شوہروں کے دل کو چھلنی چھلنی کردیتی ہے اور یہ ایک بات بسااوقات زوجین میں جدائی کا سبب بھی بن جاتی ہے ۔ وہ بات یہ ہے کہ جب بیوی کو شوہر سے ناراضگی ہوتی ہے یا کبھی ناگواری محسوس ہوتی ہےیا پھر کوئی معمولی سی بات کیوں نہ بری لگ جائے فورا اپنے شوہر کوکہہ دیتی ہےکہ مجھے آپ سے عمربھر کبھی کوئی آرام نہیں ملا ،بیوی کی اس کڑوی بات کو رسول اللہ ﷺ نے " ما رأيتُ منك خيراً قطُّ"کے ذریعہ بیان فرمایاہے ۔

    (4) جہنم میں عورتوں کی کثرت کا اہم سبب شوہر کی نافرمانی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کی نافرمانی بیوی پرحرام ہے اور شوہر کی نافرمانی میں اس کی طرف سے پیش کی گئی نعمتوں کی ناشکری اور حقوق کی نافرمانی دونوں شامل ہیں۔

    (5) اس میں مسلم خواتین کے لئے زجروتوبیخ ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کریں اور ان مذموم صفات سے خود کو دور رکھ کر اپنے آپ کو جہنم سے بچائیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیوی کے لئے شوہر کی اطاعت موجب جنت اوران کی نافرمانی موجب جہنم ہے۔

    (6) نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ اگرمیں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کے لئے شوہر کا مقام بہت ہی اعلی ہے ، اس علومرتبت کا تقاضہ بھی ہے کہ اپنے شوہر کی بے لوث خدمت کریں ، ان کے آرام کی فکر کریں، ہر طریقہ سے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں حتی کہ تکلیف پہنچنے پر بھی صبر کا دامن تھامیں اور زبان پر حرف شکایت نہ آنے دیں ۔

    (7) یہاں ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقہ جہنم سے نجات کا باعث ہے اور عورتوں کو بطور خاص صدقہ کرنا چاہئے تاکہ کفرومعصیت اور نافرمانی کا گناہ اللہ کے یہاں درگزرہوسکے اور جہنم سے رستگاری کا توشہ اکٹھا کرسکیں۔

    عورتوں کے لئے کرنے کے کام :

    جب ہمیں واضح دلائل سے معلوم ہوگیا کہ شوہر کی ناشکری اور ان کی نافرمانی موجب جہنم ہے ، اللہ تعالی قیامت کے دن ایسی ناشکری عورت کی طرف نظر اٹھا کربھی نہیں دیکھے گا ، فرمان نبوی ﷺ ہے : لا ينظرُ اللهُ إلى امرأةٍ لا تشكرُ لزوجِها ، و هيَ لا تستغني عنهُ(السلسلة الصحيحة:289)
    ترجمہ:اللہ اس عورت کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنے شوہر کی شکر گزاری نہیں کرتی حالانکہ وہ اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی ۔

    ایسے میں ایک مسلمان عورت کے دل میں آخرت کے تئیں شدید فکر لاحق ہونی چاہئے اور جہنم کا ایندھن بننے سے کیسے بچا جائے اس کا سامان کرنا چاہئے ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب : 35)
    ترجمہ : بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومنہ عورتیں اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں سچے مرد اور سچی عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ تعالی نے وسیع مغفرت اور بہت زیادہ ثواب تیار کر رکھا ہے۔

    اس آیت میں اللہ تعالی نے مثالی عورت کی دس خوبیوں کا ذکر کیا ، میں نے ان دس خوبیوں پہ مشتمل دلائل اور تفصیل کے ساتھ "مثالی عورت" کے عنوان سے مضمون لکھا ہے جو میرے بلاگ پر جاکر پڑھا جاسکتا ہے۔ یہاں اختصار کے ساتھ عرض کرتاچلوں کہ جو عورت نام کی نہیں بلکہ ایمان وعمل کے ساتھ مسلمہ ہویعنی ارکان اسلام وارکان ایمان پر قائم ودائم ہو، عبادت گزاراور فرمانبردار ہو، سچ بولنے والی ہو، صبر کا دامن تھامنے والی ہو، اللہ سے ڈرنے والی ہو، روزہ رکھنے والی ہو، صدقہ وخیرات کرنے والی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی ہو تو ایسی عورت کو اللہ تعالی معاف فرمادیتا ہے اور اس کے لئے بڑے اجر وثواب کا وعدہ بھی ہے ۔ اس آیت کریمہ کی تصویر بن جائیں اللہ کے فضل سے ہماری ماں بہنوں کی بخشش ہوجائے گی اور جہنم میں جانے سے بچ جائیں گی ۔

    ساتھ ساتھ مزید تین باتیں شکر، صبراور خیال راحت برائے شوہر کی تاکید کرتاہوں جن کے فقدان سے عائلی نظام میں فساد پیدا ہوتا ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کی عیب جوئی، ناشکری، ناقدری، کفران نعمت ، شکوے شکایات سے بچیں اور ان کا ہرحال میں شکریہ بجالائیں ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ۔(صحیح سنن الترمذي: 1952)ترجمہ: جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

    دوسری بات صبرجس کا ذکر آیت کریمہ میں آچکاہے یہاں اس کےذکرکا مقصد اس طرف خصوصی توجہ دلانا ہے کیونکہ جہنمی عورت کی کثرت کے اسباب میں بے صبری کا بھی ذکر ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ کئی دفعہ عورتیں حق پر ہوتی ہیں اس کے باوجود شوہر ظلم کرتا ہے ،آپ شوہر کے ظلم کے سامنے صبر کا پہاڑ بن جائیں ، ان کا ظلم خود بخود چھوٹا پڑ جائے گا اور یقین جانئیے شوہر کے ظلم پر صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ألا أخبرُكم بنسائِكم في الجنَّةِ ؟ ! كلُّ ودودٍ ولودٍ ، إذا غضبَتْ أو أُسيءَ إليها [ أو غضب زوجُها ] ؛ قالت : هذه يدي في يدك ؛ لا أَكتحلُ بغَمْضٍ حتى تَرْضى( السلسلة الصحيحة:3380)
    ترجمہ : ميں تمہيں جنتى عورتوں كے بارہ ميں نہ بتاؤں ؟ہر محبت كرنے اور زيادہ بچے جننے والى عورت جنت ميں ہے، جب وہ ناراض ہو جائے، يا پھر اس كے ساتھ برا سلوك كيا جائے، يا خاوند ناراض ہو جائے تو عورت بيوى سے كہے: ميرا ہاتھ تيرے ہاتھ ميں ہے، ميں اس وقت تك نيند نہيں كرونگى جب تك تو راضى نہيں ہوتا ۔

    تیسری بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بہترین چیز نیک عورت ہے ، آپ اپنے اندر اس پہچان کو باقی رکھیں اور شوہر کو کبھی شکایت کا موقع نہ دیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہو کہ آپ اپنے شوہر کے عیش وآرام کا خیال کریں، ان کی پسند کو اپنی پسند بنائیں، ہمیشہ ان کی خواہش کا احترام کریں، ہرکام میں شوہر کی رضامندی تلاش کرکے ان کی خوشی کے ساتھ کام کریں ، آپ کے دامن میں قدرت نے محبت کے ہزاروں پھول کھلائے ہیں ان کی خوشبو سے اپنے شوہرکو معطر رکھیں ۔ ان سے والہانہ عقیدت ومحبت ، بے لوث خلوص ووفا، پرخلوص ایثار وقربانی ، مشفقانہ خدمت شعاری اور منکسرانہ سلوک ورواداری کا اظہار کریں ۔ آپ کی محبت کے بعد شوہر دنیا کا ہرغم بھول جائےگا اور بدلے میں وہ بھی ایسی محبت دے گا جس کے سایہ تلے آپ کے قلب وجگر کو زندگی کی حقیقت لذت و راحت میسر ہوگی ، اسی راحت کی خاطر تو اللہ عزوجل نے نکاح کا دستور جاری کیا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے :
    هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا(الاعراف : 189)
    وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے سکون حاصل کرے۔

    مردوں کے لئے کرنے کا کام :

    اوپر جو بیان کیا گیا وہ تصویر ایک رخ تھا کہ اکثر بیویاں اپنے شوہروں کی نافرمان ہوتی ہیں اور تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بسااوقات شوہر کی غلطی بیویوں کو مجرم بناتی ہیں ۔ بات بات میں کوسنا، گالی گلوج کے علاوہ جسمانی تکلیف دینا، ناروا سلوک کے ساتھ ہمہ وقت طلاق کی دھمکی دینا، بچوں اور دوسروں کے سامنے رسوا کرنا،کبھی کھانے میں عیب جوئی تو کبھی دوسرے کام میں ، غلطی پر شدت پسند رویہ اپنانا، اصلاح کے لئے ذلت آمیز سلوک کرنا ، یہ ساری کیفیات عورتوں کو نافرمانی، ناشکری، ناقدری، بے صبری، احسان فراموشی، خودغرضی، سختی اور عداوت ودشمنی پر ابھارتی ہیں پھر میاں بیوی دونوں کی زندگی میں بے چینی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے آخر کار زندگی کی لذت ختم ، اس کا سکون غارت اور عائلی نظام درہم برہم ہوکررہ جاتا ہے بلکہ اس سے پورے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے ۔ لہذا شہروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی شریک حیات سے بیحد پیار کریں ، ان کی دلی خواہش کی قدر کریں، ان کے نازونخرے برداشت کریں، ان کے کاموں پر مدد اور حوصلہ افزائی کریں، ان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل اور ان کے حقوق کی رعایت کریں، خواہش کی تکمیل کے لئے بیوی کو چھوڑ کر حرام کاری کا راستہ نہ اپنائیں، آپ بیوی کے معاملہ میں کوتاہی، ظلم، ناانصافی، حق تلقی، بے رحمی، تشدد، لاتعلقی، فرقت اور زدوکوب سے بچیں ، نبی ﷺ نے مردوں کو مخاطب ہوکر فرمایا ہے : فاتقوا اللهَ في النِّساءِ(مسلم :1218)
    ترجمہ : اے لوگو! تم عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔
    ایک دوسری حدیث میں ہے :خيرُكُم خيرُكم لِأهْلِهِ ، وَأَنَا خيرُكم لِأَهْلِي(صحيح الجامع:3314)
    ترجمہ : اے لوگو! تم میں سب سے بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لئے بہترین ہواورمیں تم میں اپنے عیال کے لئے سب سے بہترین ہوں ۔

    اللہ سے دعا گو ہوں کہ مسلم خاتون کو شوہروں کی ناشکری سے بچائے ، انہیں جہنم میں لے جانے والے اسباب سے بچائے اور شوہروں کو بھی بیوی کے ساتھ عدل وانصاف برتنے کی توفیق دے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں