" بلبل مصر " اور " بلبل مدینہ "

ابو حسن نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏نومبر 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    444
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )
    اللہ تعالی میری غلو سے حفاظت فرمائے

    عصر حاضر میں بہت سے نامور قراء حضرات گزرے اور پائے گئے جن میں تقریبا ہر مسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے قراء حضرات ہیں اور تھے لیکن جو پذیرائی " بلبل مصر " کو ملی وہ کسی اور کو نہ مل سکی
    ،
    رب کا کلام " بلبل مصر " کی آواز میں ؟ اللہ اللہ

    ایسا سماع باندھ دیتا کہ لوگ ماشااللہ ، سبحان اللہ اور اللہ اللہ کا ورد بے ساختہ لبوں پر لے آتے ، اللہ اکبر

    بے شک آج بھی مصر اور پاکستان کے قراء بہت اعلی انداز میں پڑھتے ہیں لیکن " بلبل مصر " کو کوئی نہ پہنچ سکا

    جی ہاں " بلبل مصر " یہ لقب شیخ عبدالباسط عبدالصمد رحمہ اللہ کو ملا اور جب یہ اپنے گاؤں سے شہر میں گئے اور پھر انکو یہ سعادت ملی اور ریڈیو مصر پر انکی تلاوت ہونے لگی اور جس دن انکی تلاوت کا وقت آتا تو انکی والدہ ؟

    ماں تو ماں ہوتی ہے اس کا اکرام کرنا اور محبت میں نثار ہونا ؟ کیا کہنے ماں جیسی ہستی کے،

    گاؤں میں اپنے گھر کی صفائی کرتیں اور پھر ریڈیو کے گرد لوبان، بخور " عود " جلاتیں اور کہتیں ابھی میرا بیٹا اس میں تلاوت کرے گا ، اللہ اکبر

    -------------------------------------------

    " بلبل مدینہ " کی تو شان ہی نرالی ہے اور انکی تلاوت سننے والے بھی اعلی اور افضل تھے ، اور یہ سننے والے کون تھے ؟

    یہ وہ تھے جن کی رب العالمین نے تعریف و توصیف کرتے ہوئے صراحۃً فرمایا
    " رضی ﷲ عنھم و رضوا عنہ۔’’ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں" ،اللہ اکبر

    اور پھر ان میں وہ تھے جن پر خود قرآن نازل ہوا جی ہاں

    سیدالاولین و الاخرین ﷺ ، صاحب القرآن ، خاتم الانبیاء و الرسل ، امام الانبیاء ، حبیب کبریاء ، جناب مصطفی محمد رسول اللہ ﷺ

    خود ان " بلبل مدینہ " سے قرآن سننے کی فرمائش کرتے اور یہ تعجب سے پوچھتے یا رسول اللہ ﷺ میں سناؤ ؟ حالانکہ آپ تو صاحب القرآن ہیں ؟

    فرمایا ہاں تم ، اور میں نے " سورۃ نساء " کی تلاوت فرمائی اور جب اس آیت پر پہچا " فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا" تو فرمایا بس کرو اور جب میری نظر چہرہ انور پر پڑی تو دیکھا آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، اللہ اکبر

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ نَعَمْ فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ حَسْبُكَ الْآنَ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
    ،
    " بلبل مدینہ " ؟ جی ہاں تو یہ ہیں

    سید القراء جنہیں سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی مبارک زبان سے جنت کی بشارت اور جن کا خود اپنے متعلق دعوی تھا کہ قرآن کی کوئی ایسی آیت یا سورۃ ایسی نہیں کہ جس کا میں شان نزول نہ جانتا ہوں

    جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جن کے متعلق مجھے امید ہے کہ جنت میں سید القراء کی مسند پر تشریف فرما ہونگے ، ان شاءاللہ

    اک تمنا ہے آپ سب بھی اس دعا پر آمین کہہ دیجیے گا

    اللہ تعالی جنت الفردوس میں ہرایک صحابی رضی اللہ عنہ سے خاص ملاقات کا شرف عطا فرمائے اور الانبیاء کرام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف و صالحین کی مجالس میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو اور آنے والی نسلوں کوبدعات و شرک کی دلدل سے بچائے اور قرآن و سنت اور فہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ ﷺ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور آپ ﷺ کی محبت ہمارے سودائے قلب میں بسا دے، آپ ﷺ سے محبت ہمارے دلوں میں ہماری جانوں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اہم بنا دے، اور ہمیں آپ ﷺ کی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    آمین! یا رب العالمین
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں