اخلاق حسنہ

SZ Shaikh نے 'سیرتِ اسلامی' میں ‏نومبر 23, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    73
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کو گالی دی‘ حضور ﷺ تشریف فرما تھے آپ ﷺ اس آدمی سے تعجب کررہے تھے اور مسکرا رہے تھے جب وہ آدمی زیادہ آگے بڑھا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ﷺ خفا ہوئے اور اٹھ کر چل دئیے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ آپ ﷺ سے ملے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ !وہ شخص مجھے گالی دے رہا تھا اور آپ ﷺ تشریف فرما تھے اور جب میں نے اس کی بعض گالیوں کا جواب دیا تو آپ ﷺ ناراض ہوگئے اور اٹھ کر چل دئیے۔ آپﷺ نے فرمایا بے شک تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے خود اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو بیچ میں شیطان حائل ہوگیا تو میں شیطان کے ساتھ نہ بیٹھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر! (رضی اللہ عنہٗ) تین باتیں ہیں اور وہ تینوں حق ہیں‘

    ٭ جب بندے پر ظلم ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لئے خاموش رہتا ہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کی مدد فرمائش ہے۔ اور اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔

    کوئی بندہ کسی ظلم کے ساتھ ظلم کیا جائےاور یہ بندہ اللہ عزوجل کی وجہ سے ہٹ جائے تو اللہ پاک اس کے سبب سے اس بندہ کی امداد کو قوی کرتا ہے۔
    (ابو داؤد )

    اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ اخلاقی تعلیمات دے رہے ہیں۔ آگر کوئی نازیبا الفاظ یا گالی گلوچ کرے تو آپ خاموش رہے۔ اور کوشش کرے کہ معاملہ مزید تکرار کے ختم ہوجائے۔ اور برائی کا جواب بھلائی سے دیا جائے۔ اللہ تعالی سورہ فضیلت/ حم السجدہ میں بیان فرما تے ہیں۔

    وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَـعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّـذِىْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٝ عَدَاوَةٌ كَاَنَّـهٝ وَلِـىٌّ حَـمِـيْـمٌ (۳۴)

    اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، (برائی کا) دفعیہ اس بات سے کیجیے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویا کہ وہ مخلص دوست ہے۔

    وَمَا يُلَقَّاهَآ اِلَّا الَّـذِيْنَ صَبَـرُوْاۚ وَمَا يُلَقَّاهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِـيْمٍ (۳۵)

    اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر انہیں جو صابر ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر اس کو جو بڑا بخت والا ہے۔

    وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ۔(۳۶)

    اور اگر آپ کو شیطان سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگیے، بے شک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

    دراصل شیطان انسان کےخون میں شامل ہے۔ وہ شر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔ تاکہ زمین میں فساد اور فتنہ جاری رہیں۔ اور انسان کو اس کے اصل مقصد سے غافل کرکے اسے الجھائے رکھتا ہے۔ جب انسان اس کے جال میں پھنس جاتا ہے تو انسان کے اندر طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔ بہکاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے پناہ مانگے۔تاکہ ہم ان لوگوں کے شر سے محفوظ رہ سکے۔ اور اس طرح کے لوگوں سے بچے اور ان سے دور رہے۔جو ہمارے جذبات کو ابھار کر برائی اور شر کی طرف دعوت دے۔

    قرآن کی تعلیمات دو طرح کی ہیں۔ ایک اصولی اور دوسرے اخلاقی

    اخلاق کی دو قسمیں ہیں۔
    ۱: عام /اصولی اخلاق، ۲: اعلیٰ اخلاق۔

    عام اخلاق : اخلاق کی معمولی قسم یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جوابی اخلاق ہو کہ جو مجھ سے جیسا کرے گا، میں اس کے ساتھ ویسا کروں گا۔ یہ اس کا اصول ہو، جو شخص اس سے کٹے وہ بھی اس سے کٹ جائے، جو شخص اس پر ظلم کرے وہ بھی اس پر ظلم کرنے لگے، جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لئے برا بن جائے، یہ عام اخلاق ہے۔

    اعلی اخلاق : اس کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواہ کئے بغیر اپنا رویہ متعین کرے۔ اس کا اخلاق اصولی ہو ،نہ کہ جوابی۔ اعلیٰ اخلاقیات اس کا ایک عام اصول ہو، جس کو وہ ہرجگہ برتے، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ، وہ جوڑنے والا ہو ،حتی کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے برا سلوک کرے، اور وہ نظر انداز کرنے والا ہو حتی کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔

    قرآن کی اصولی تعلیم کہ اگر آپ کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تو بھی اس سے اتنا بدلہ لے سکتے ہیں۔ مگر افضل عمل یہ کہ معاف کردے اور رسول ﷺ نے اپنے کردار اور شہرت میں اسی کا عملی نمونہ پیش کر کے دکھایا بلا شبہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد اخلاق کی تکمیل ہے۔ "بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔" آپ ﷺ کے اخلاق آپ ﷺ کی سیرت اور کردار کا مظہر تھے۔ اس لئے کہ مومن کا کردار اور سیرت اس کے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ اخلاق بہت ہی وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کے نقوش ہمارے سیرت اور کردار عرض کہ ہمارے پورے شخصیت پر اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے دیکھے کہ اخلاق کا مفہوم کیا ہے؟

    اخلاق، لغت کے اعتبار سے خلق کی جمع ہے جس کے معنی ہیں۔ طبیعت، عادت یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے ہیں۔

    خلق: اس کا مادہ (خ،ل،ق) ہے اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی ''خُلق '' پڑھیں تو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

    آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ اور ہر پہلو مزین، روشن اور تابناک ہے، آپ ﷺ نے جو کچھ کہا سب سے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ آپ ﷺ کی سیرت کے ایسے کئی واقعات جو کتابوں کے صفحات میں محفوظ کر لی گئی ہیں۔ اور تاقیامت امت کے لئے بہترین اسوہ ہیں۔

    کفار مکہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر ظلم وستم کا کوئی حربہ ایسا نہ تھا جسے نہ آزمایا ہو یہاں تک کے وہ اپنے گھربار اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے جب مکہ فتح ہوا تو اسلام کے یہ بدترین دشمن آپ ﷺ کے سامنے تھے وہ مکمل طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم وکرم پر تھے۔ اور آپ ﷺ کے فیصلے کے منتظر تھے۔ اس کےبعد آپﷺ نے فرمایا "قریش کے لوگو! تمہارا کیاخیال ہے میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں؟

    انہوں نے کہا: "اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں، اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں"

    آپﷺ نے فرمایا "تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ " لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ" آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو"۔

    یہاں تک کہ آپﷺ کے عزیز چچاحضرت ہمزہ( رض) کے قاتل وحشی بن حرب کو معاف کردیا ۔ آپﷺ پر ایک عورت کوڑا ڈالا کرتی تھی۔ آپﷺ نے اسے بھی معاف کر دیا۔ طائف والوں نے آپﷺ کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا یہاں تک کہ جبرئل امین آئے کہا آپ حکم دے تو یہ طائف کی بستی ابھی ختم کردے۔ مگر رسول ﷺ کا کامل یقین کہ یہ نہیں تو ان کی آنے والے نسلیں ایمان لائے گی۔ اور انھیں معاف کر دیا۔ آج ہم ہمارا رویہ دیکھیں، افسوس کا مقام کے اُمت مسلمہ کا رویہ اسلامی تعلیمات اور اسوہ ﷺ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کی اکثریت اخلاق وکردار سے عاری ہے۔عفو ودرگزر، لوگوں کے ساتھ ہمدردی، معاملات، لیں دین، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اعلٰی اخلاق وکردار کا مظاہرہ اور دیگر اخلاق افضل جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتی تھی۔ اب بالکل ناپید ہوچکی ہیں اور تمام اخلاقی برائیاں درآئی ہیں۔ ہم کس طرح معاشرے کو پاک و صاف کریں جب تک ہم اپنے اخلاق و کردار کو نہیں سنواریں گے اور ہماری زندگیاں اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ نہیں پیش کریں گی اس وقت تک دعوت دین کا کام نا ممکن ہے۔ اس کے لئے ہمیں رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا ہوگا۔حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”کان خلقہ القرآن“ یعنی آپ ﷺ کا اخلاق تو قرآن تھا۔

    رسول ﷺ دعا فرماتے ہیں:

    ''اللّھم حَسِّن خُلقی کما حَسّنت خَلقی''

    "اللهم كما حسنت خلقي، فحسن خلقية'

    یعنی پالنے والے! میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,245
    آمین!

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں