اپنی تصویر خود بنائیں

سیما آفتاب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏دسمبر 4, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    471
    [​IMG]
    اپنی تصویر خود بنائیں
    تحریر: جنید اعوان

    خوبرو نوجوانوں کو ذرادیکھو ، شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور کھڑے ہی رہ جاتے ہیں۔ اپنے وجود کاجائزہ لیتے ہیں ۔اپنی خوب صورتی کو سراہتے ہیں۔ اپنے حسن پر خوش ہوتے ہیں۔اپنے سراپے پر فخر کرتے ہیں ۔کبھی ایک اینگل سے ، کبھی دوسرے اینگل سے سیلفی لیتے ہیں ۔ مختلف پوز بنوا کر تصویریں کھنچواتے ہیں۔اور پھر ایک حسرت بھری آہ بھرتے ہیں۔اللہ نے اشرف المخلوقات تو بنایا ، احسن تقویم بھی بنایا لیکن مکمل نہیں بنایا ۔ کوئی نہ کوئی کمی بہر حال رکھ دی اور کمی بھی ایسی جو سارے حسن کو ماند کر کے رکھ دے۔کسی کے سب اعضا متناسب ہیں لیکن رنگ تھوڑا سانولا ہے۔ کسی کا رنگ فیئر ہے لیکن ناک ذرا لمبوتری ہے۔ کسی کے گھنگھریالے بال اس کی وجیہ شخصیت سے میل نہیں کھاتے۔ کسی کی آنکھیں ذرا دھنسی ہوئی ہیں اور کسی کے کان تھوڑےلمبے ہیں ۔ کوئی اپنا قد چھوٹا ہونے پر پریشان ہے۔ اکثر یہ سوچتے بھی ہیں کہ اللہ تعالی ٰ ہمیں ہماری مرضی کے مطابق بنا دیتا تو اللہ کو کیا فرق پڑتا ۔ بس ہماری زند گی خوش گوارہو جاتی ۔ دل سے آواز نکلتی ہے ۔ اے کاش۔! حسین دوشیزاؤں کے معاملے پر غور کرو۔ خوب صورتی میں اپنے سے کم کسی کو دیکھ لیں تو اتراتی پھرتی ہیں لیکن اپنے سے زیادہ خوب صورت کسی کو دیکھ لیں توسارا موڈ آف ہو جاتا ہے۔اپنے نقائص کو چھپانے کے لیے میک اپ کا بھی سہارا لیتی ہیں لیکن وہ چھپائے نہیں چھپتے اور مٹائے نہیں مٹتے۔

    ان میں سے اکثریت کا بھی اللہ سے یہی گلہ ہے دنیا میں حسن میں تکمیل ان کی ذات پر ہی کیوں نہ کی۔!ادھیڑ عمر حضرات کی کیفیت کا جائزہ لو۔ یہ اپنے بالوں کے گرنے پر پریشان ہیں۔ سیاہ بال سفید ہو رہے ہیں ، جوانی ڈھل رہی ہے اورشخصیت کی وجاہت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔قویٰ مضمحل ہو رہے ہیں اور عناصر میں اعتدال باقی نہیں رہا۔انھیں اب یہ حسرت ہے کہ جیسے جوانی میں تھے ، ویسے ہی رہتے لیکن ہر گزرتا دن ان کی حسرت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔خواتین کے حالات پر نگاہ دوڑاؤ۔ ان کا حسن بھی ماند پڑتا جا رہا ہے ۔ان کی شخصیت بھی دلکشی کھو رہی ہے ۔یہ بھی ان بیتے دنوں کو یاد کرتی ہیں جب وہ رونق محفل اور مرکز نگاہ ہوتی تھیں ۔ان کی بھی یہ آرزو ہے کہ کوئی ایسا ہو جو میکدے سے ان کی جوانی اٹھلائے لیکن بخوبی جانتی ہیں کہ یہ فقط آرزو کی بات نہیں۔زندگی کے ایک مرحلے میں یہ حسرت کہ شخصیت مکمل ہوتی اور دوسرے مرحلے میں یہ خواہش کہ جیسی بھی شخصیت تھی ، کم ازکم برقرار تو رہتی۔ انسان اسی عجیب و غریب شے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نےاس معاملے میں بھی کیا خوب عدل کیا ہے۔

    دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہےاور وہ بھی آزمائش ۔ یہاں تو سب کچھ ہی امتحان کے لیے ہے۔البتہ آخرت کی مسقل حیات میں ہر ایک کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ اپنی من پسند تصویر اپنے ہاتھوں سے بنائے۔ قلم اس کے پاس موجود ہے کہ جیسی شخصیت اپنے لیے پسند کرتا ہے ،جیسا سراپا اپنے لیے منتخب کرتا ہے ، جیسا حسین اپنے آپ کو دیکھنا چاہتا ہے ، قلم سے ویسی صورت گری کرتا چلاجائے۔رحمت کے تقاضے کے طور پر ریموور بھی فراہم کر دیا ہے کہ خود کے بنائے بھدے نقوش کو جب چاہے مٹاسکے اور کمی بیشی کو دور کرسکے۔آخرت کی زندگی کی صورت گری کے لیے اعمال ہمارا قلم ہیں اور توبہ ہمارا ریموور۔ ہر فرد ان کے ذریعے سے آخرت کے لیے اپنا خاکہ خود تیار کر رہا ہے۔المیہ مگر یہ ہے کہ دنیا میں اپنی شخصیت خوب صورت اور وجیہ دیکھنے کے شدید ترین متمنی بھی اپنے ہی ہاتھوں اپنی اخروی تصویر نہایت کریہہ،بھیانک اور بھدی بنا رہے ہیں۔کاش کوئی انھیں قلم کے درست استعمال اور ریموورکے مسلسل استعمال کا سلیقہ سکھا دے ۔کوئی انھیں خرابی صورت کااحساس دلادے تا کہ وہ اپنی اخروی تصویر بے حد حسین اور خوب صورت بنا سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں