سرخیل صحافت: مولانا اسرار الحق قاسمی

صادق تیمی نے 'مسلم شخصیات' میں ‏دسمبر 8, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    26
    محمد صادق جمیل تیمی

    ہندوستان کےمشہور و معروف عالم دین،بقیۃ السلف،قوم و ملت کے ہمدرد ،تقوی شعار ،ملنسار و خاکسار اور خدا ترس مولانا اسرار الحق قاسمی رحمہ اللہ علیہ کا سانحہ ارتحال کی خبر جب سوشل میڈیا کے توسط سے مورخہ 7دسمبر 2018 علی الصبح کو پہنچی تو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اب مولانا ہمارے بیچ نہیں رہے چوں کہ مرنے سے ایک دن قبل اپنا قائم کردہ ادارہ "دار العلوم صفہ "ٹپو کشن گنج میں طلبا واساتذہ سے خطاب کیا تھا اور اچانک دل کا دورہ پڑنے سے روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی-لیکن قضا و قدر کا فیصلہ "کل نفس ذائقۃ الموت "اور "کل شئی ھالک الا وجہہ "کو سامنے رکھ اپنا شکستہ دل کو قابو میں کیا - آج پورا ہندوستان سوگوار ہے اور قوم و ملت کے لئے کیے گئے خدمات کو یاف کر رہے ہیں ، شاعر نے کیا ہی خوب کہا تھا کہ:
    موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس
    یوں دنیا میں سب مرنے کے لئے آئے ہیں

    آپ سیمانچل کے ایک عظیم سپوت، قوم وملت کا بے لوث خادم، کانگریس کا سب سے بڑا حالیہ سیاست کا چہرہ، لائق وفائق دانشور،، آبروئے اردو صحافت، مفکر ملت، اورایک مرد مجاہد تھے - آپ کے مرنے سے سیمانچل میں بزرگ رہنماؤں کے عہد آفریں کا دور ختم ھوگیا، ان کی وفات" موت العالم موت العالم" کا مصداق ہے ، جمعہ کے دن انتقال بھی بہت بڑی خوش نصیبی کی بات ھے - بلا ریب و شک آپ قوم کے ہمدرد تھے -
    قاسمی صاحب کشن گنج اور سیمانچل کے دیہی علاقے میں سینکڑوں مدارس اور تعلیم گاہوں کی سرپرستی کی، مسلم اقوام کے نونہالان کی تعلیم و تربیت کے تئیں بہت زیادہ حساس تھے- اس کی مثال 2006 میں کٹیہار حسن گنج میں منعقد تعلیمی بیداری کانفرنس کےموقع پر دیکھی گئی - اس میں انہوں نے پورے سیمانچل کو اختیار دیا تھا کہ ہر گاؤں میں ایک ایک مکتب کھولے جائیں،جس کے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے اس کے لئے انہوں نے تقریباً 150معلم کا انتخاب کیا تھا ،لیکن اس قوم کی حرماں نصیبی یہ ہے کہ یہ قوم کسی نعمت کی قدر نہیں کر پاتی ہے ،ہوا وہی جو امید تھی!! مولانا کی یہ اسکیم ناکام ہوگئی - اسی طرح کشن گنج اہلحدیث ضلعی کانفرنس 2016 میں ان کا بیان نے سب پر سکتہ طاری کردیا تھا -جب قاسمی صاحب اسٹیج پر آئے تو پہلے ہی لوگوں نے یہ سوال جڑ دیا تھا کہ کسی امام کی تقلید کیسی ہے ؟مولانا سوال کو صرف نظر کردیئے اور اتحاد امت پر اتنا پر اثر خطاب کیا ،لوگ "عش عش "کرنے لگے - مولانا انعام الحق مدنی صاحب (کٹیہار )سے مولانا قاسمی صاحب کے سلسلے میں باتیں ہونے لگیں تو انہوں بتایا کہ"قاسمی صاحب ہمیشہ قوم کے لئے مخلص رہے ،توحید پر کاربند رہے تعلیم و تعلم سے ان کا گہرا ربط رہا- مزید یہ کہ تعلیمی اداروں سے بے حد محبت بھی کرتے تھے -2009 کے الیکشن میں ایک بار قاسمی صاحب کانگریس کے ٹکٹ سے ایم پی میں کھڑے ہوئے اور کشن گنج سے متصل ضلع پورنیہ ڈنگراگھاٹ میں واقع مولانا رضوان اللہ سلفی کا قائم کردہ ادارہ "مدرسۃ البنات"آئے اور جب انہوں نے یہاں تعلیمی سرگرمیاں دیکھیں، قوم کی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھا تو خوشی سے ان کا دل باغ باغ ہوگیا اسی وقت ادارہ کی ترقی و توسیع کے لئے کھڑے کھڑے دعا کرنے لگے، لمبے وقفے تک دعا کی ،اس دوران اتنے آنسووں نے آپ کے ریش مبارک کو تر کردیا - اور جس مقصد (ووٹ)کے لئے آئے تھے اس کا ذکر بھی نہیں کیا ،کتنے مخلص تھے قوم کے لئے یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جدائی پر پورا سیمانچل سوگوار ھے-
    میں نے جب سے ہوش سنبھالا اور علم و تعلم کے میدان میں قدم رنجا ہوا ،مدارس و مکاتب کی خاک چھانی کی ،کتب، اخبارات اور رسائل کے مطالعہ و دراسہ کا شوق بڑھا تو میں نے ہندوستان سے نکلنے والا کوئی ایسا اخبار نہیں دیکھا جس میں مولانا کا مضمون نہ ہو ،اتنی مصروفیات کے باوجود بھی بکھری پڑی قوم کے لئے وقت نکال لیتے تھے ،ہر آن و ہرشان قوم کی ترقی و اصلاح کی سوچتے تھے ،اسی طرح پورے ہندوستان سے نکلنے والے ہر مکتب فکر کے مجلات و جرائد میں مولانا کے اشہب قلم سے نکلنے والے نگارشات موجود ہوتے تھے ،زبان وبیان میں بڑی فصاحت و بلاغت تھی ،کسی بھی بات کو کہنے اور پیش کرنے کا سلیقہ بخوبی جانتے تھے،روزنامہ "انقلاب "کا "جمعہ میگزین "میں مسلسل لکھتے رہے -
    نوجوان کسی بھی قوم وملت کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ،اور اس سرمایے کا صحیح استعمال قوم کے مفاد میں اسی وقت ہوگا جب ابتدا ہی سے اس کی معاشی و معاشرتی ،ذہنی و دینی تربیت کی جائے-یہی وجہ ہے کہ قاسمی صاحب کو ہمیشہ نوجوانان اسلام کی اصلاح کی فکر دامن گیر رہی - آپ ہمیشہ نوجوانان اسلام کی عقلی و فکری انحراف اور اس کے اسباب پر مبنی مضامین تحریر فرماتے تھے ، تاکہ نسل نو کی اچھی تربیت کی جائے اور قوم و ملت کے مفاد میں اس کا استعمال کیا جائے -
    تیز رفتاری کے اس دور میں انسان گوناگوں مصروفیات میں اتنا مشغول ہوگیا ہے کہ اب لوگوں کے پاس وقت نہیں رہا کہ لمبے و طویل مضامین اور ضخیم کتابوں کو پڑھے،لوگ اب اختصار ہی کو پسند کرتے ہیں ،مولانا قاسمی صاحب وقت شناس تھے اس وجہ سے تا حیات اختصار کے ساتھ لکھتے رہے ،زبان میں بڑی سلاست و روانگی تھی ،عمدگی کے ساتھ کسی بھی چیز کو پیش کرنے کا سلیقہ تھا -لیکن آج علم و فن اور صحافت کے سرخیل مولانا قاسمی صاحب کئی من مٹیوں کے نیچے سو رہے ہیں:
    آسماں تیری لحد پر شمبنم افشانی کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں