سردیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

Ishauq نے 'صحت و طب' میں ‏دسمبر 10, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,371
    احتیاطی تدابیر کا یہ سلسلہ بہت اچھا ہے۔ لکھتے رہیے۔
    ہیٹر کے استعمال سے فضا میں نمی کا تناسب کم ہونے کے مسائل کے بارے میں بھی لکھیے گا۔
    ایک متھ ہے کہ کمرے میں پانی کا پیالہ رکھیں لیکن ماہرین سے سنا ہے کہ اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,605
    ہوا میں نمی کی کمی کئی مسائل کا سبب بنتی ہے۔ خاص کر جب کسی کو پہلے سے ہی کوئی ایسی بیماری ہو جو خشک ہوا سے مزید بگڑ جائے۔ مثلا الرجی، دمہ، خشک گلا، خشک جلد وغیرہ وغیرہ۔
    ہیٹر کمرے سے نمی کم کرنے کا موجب ہے۔ نمی پوری کرنے کے لیے ایک برتن میں پانی رکھنا کافی نہی ہوتا۔ بخارات تو اس برتن کے پانی سے بنیں گے مگر نا کافی ہونگے۔ اس کا حل یہ کہ تولیا گیلا کر کے کمرے میں لٹکا دیا جائے۔ یا گیلے کپڑے سوکھنے کے لیے رکھ دیے جائیں۔
    ویسے آجکل نمی بنانے والے آلات humidifier بھی ملتے ہیں۔ جو چند سو روپوں سے لے کر ہزاروں روپے تک ہیں۔
    کمرے میں نمی کا تناسب چالیس سے پچاس فیصد ہونا چاہیے۔ نمی کو ناپنے کے لیے hygrometer بہت سستے داموں دستیاب ہیں۔ خاص کر ڈیجیٹل کلاک ملتے ہیں جس میں درجہ حرارت اور نمی ناپنے کے آپشن موجود ہوتا ہے۔ پانچ سو سے لے کر ہزار روپے میں مل جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,371
    جزاک اللہ خیرا۔ بہت مفید۔
     
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,838
    السلام علیکم

    بہت خوب، اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان میں جو ہیٹر ملتے ہیں وہ چاہے الیٹرک ہوں یا گیس، ڈائریکٹ سپلائی سے جڑے ہوتے ہیں اور فلامنٹ آگ برسا رہا ہوتا ہے ان کے ساتھ ٹیمپریچر کنٹرول کرنے والی کوئی ڈیوائس نسب نہیں ہوتی جس سے حد درجہ کی گرمائش ہونے سے ہوا میں نمی کی کمی سے ناک اور گلہ خشک ہونے لگتا ہے اور جسم میں سوئیاں چبنی شروع ہو جاتی ہیں، اگر اسے ایسے ہی استعمال میں لانا ہے تو کمرے میں دو طرف سے روشن دان بھی کھلے ہونے چاہئیں تاکہ ہوا میں نمی پر جو کمی بند کمرے میں ہیٹر چلنے سے ہو رہی ہے وہ کمرے میں ہوا کے داخلہ سے پوری ہوتی رہے، نہیں تو ایسا ہیٹر استعمال میں لائیں جس کے ساتھ تھرموسٹیٹ سوئچ لگا ہو جس سے ٹمپریچر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سردیوں میں کمرے کو گرم کرنے کے لئے ٹیمپریچر 22 ڈگری تک ہونا چاہئے جس سے آپکو کمرے میں نہ بہت زیادہ گرمی لگے اور نہ ہی سردی اس سے نمی میں کمی واقع نہیں ہوتی۔

    ہمارے یہاں الیکٹرک ہیٹر ایسے ملتے ہیں جن میں فلامنٹ جلتا نہیں مگر ہلکی گرمائش دیتا ہے پھر بھی تھرموسٹیٹ لگی ہوتی ہے، کیونکہ کچھ دیر بعد کمرہ گرم ہونے سے ٹیمریچر بڑھنے پر اسے کم کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ وہی استعمال کرتے ہیں جن کے ہاں سینٹرل ہیٹنگ نہ ہو۔ اور سینٹرل ہیٹنگ سے ہوا میں نمی سو فیصد رہتی ہے کیونکہ یہ گرم پانی کے پریشر سے کام کر رہی ہوتی ہے جس سے بخارات کی شکل میں گرمی پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  5. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,605
    وعلیکم السلام کنعان بھائی۔
    جی بالکل، آئل ریڈی ایٹر ہیٹر پاکستان میں بھی دستیاب ہیں۔ چونکہ مہنگے ہیں لہذا اس کا رحجان کم ہے۔ دوسرا بجلی بھی مہنگی ہے۔ ہم اپنی جاب سائیٹ پہ یہی استعمال کر رہے ہیں۔ حفاظتی نقطہ نظر سے بہت اچھا ہے۔
    [​IMG]
    [​IMG]
    بالائی پنجاب میں جب کمرے کا درجہ حرارت گیارہ سے بارہ سینٹی گریڈ پر آتا ہے تو ہیٹر سے اگر اٹھارہ سینٹی گریڈ پر سیٹ کر دیا جائے تو کافی آرام دہ ماحول بن جاتا ہے۔ یعنی گرم کپڑوں اور کمبل سے گزارہ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے بجلی کی بچت بھی ہو جاتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,838
    السلام علیکم

    جی بالکل یہی زبردست، لیکن ہر کسی کی پہنچ سے دور ہے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,461
    بہت مفید معلوماتی سلسلہ. اسحاق بھائ اور کنعان بھائ ' اللہ آپ کو جزائے خیر دے.شکریہ.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں