کاروبارِ ِتعلیم

سیما آفتاب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏دسمبر 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    495
    عنوان پڑھ کر آپ ایک لمحے کو سوچ میں ضرور پڑے ہوں کہ "کاروبارِ تعلیم"؟؟؟ جی مگر یہ موجودہ دور کی ایک حقیقت ہے کہ آج تعلیم محض ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے، ایک منافع بخش کاروبار۔ نہ تودرس گاہوں کا وہ ماحول رہا نہ اور نہ اساتذہ میں وہ خلوص تو پھر طلباء سے کیسی شکایت؟

    آج سے چند دہائیاں قبل درس گا ہ کو گھر کے بعد بچے کی دوسری تربیت گاہ سمجھا جاتا تھا، اور استاد کا تو مقام روحانی والدین کا سمجھا جاتا تھا۔ بچھے کو اسکول بھیجنے کے بعد والدین کو ان کے بارے میں فکر نہیں ہوتی تھی اور اساتذہ پر بھی پورا اعتماد ہوتا تھا کہ وہ ان کے بچے کی تعلیم و تربیے پورے خلقص کے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرتے ہوے انجام دے رہے ہیں۔
    بقول شاعر:
    رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
    استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

    مگر جیسے جیسے وقت گزرا بلکہ یوں کہیں کہ ہم نے ترقی کی منازل طے کی ہیں اس کے مطابق ہم اپنے معیار تعلیم کو سمجھوتوں کی نظر کرتے چلے آئے ہیں۔ مادی ترقی اس قدر حاوی آگئی کہ درس گاہوں نے صرف فیسوں میں ترقی کی ہے معیار کو کہیں دور چھوڑ دیا۔ یہی حال اساتذہ کا ہوا ہے جن کو صرف اپنی تنخواہ سے غرض ہوتا ہے، طالب علم کی تعلیم و تربیت سے گویا انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔

    میں یہ سب باتیں کیوں کر رہی ہوںِ؟

    وجہ یہ ہے کہ اپنے ارد گرد جو نظر آرہا ہے کہ اسکولز صرف پیسہ بنانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں، اساتذہ اسکول سے غیر حاضر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طلباء کا تعلیمی حرج والدین ٹیوٹرز اور کوچنگ سینٹرز کو اضافی قیمت (جی قیمت، آخر کو وہ بھی تو کمانے کے لیے اس فیلڈ میں آئے ہیں) ادا کرکے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    میرےمشاہدے میں ایک نہم جماعت کا بچہ جس کا اس سال بورڈ کا ایگزام ہے، اسکول سے مسلسل غیر حاضر رہتا ہے وجہ یہ بتاتا پے کہ ٹیچرز کلاسز نہیں لیتے سارا دن اسکول میں خالی بیٹھ کر واپس آجاتا ہے۔ یہ حال ہے اسکول انتظامیہ کی لاپرواہی کا کہ وہ بچے سے غیر حاضری کی وجہ نہیں معلوم کرتے کہ مسلسل کیوں غیر حاضر ہے، یہ حال کہ اساتذہ کی غیر ذمہ داری کا کہ وہ اپنی تنخواہ تو پوری لیتے ہیں (بھلے ناکافی ہوتی ہے) مگر اپنی ذمہ داری پوری ادا نہیں کرتے، اور یہ حال ہے ان والدین کے احساس کا کہ جو اسکول جاکر باز پرس نہیں کرتے بلکہ بچے کو اضافی ٹیوشن لگوا دیتے ہیں کہ "تعلیم" کا "حرج" نہ ہو۔

    پھر اس کو "کاروبارِ تعلیم" نہ کہیں تو کیا کہیں؟؟؟ نہ نقصان نہ گھاٹا، منافع ہی منافع

    سیما آفتاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے۔ کہ تعلیم اب کاروبار بن گیا ہے۔ آپ کے پاس دولت ہے تو آپ کی اولاد ڈاکٹر بھی بن جاتی ہے اور انجیئنرز بھی۔ اور تعلیم بذریعہ دولت کا راستہ ہمارے نجی تعلیمی اداروں نے دکھایا ہے۔ رہ سہی کسر ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کی بے حسی نے نکال دی ہے۔
    آج سے دو دھائی قبل میرے والد صاحب جب مدرس سے ریٹائرڈ ہوئے تو میں نے تجویز پیش کی کہ پرائیویٹ سکول کھول لیتے ہیں۔ ان کا جواب تھا کہ میں تعلیم کا کاروبار نہی بنا سکتا۔ مجھے یاد ہے جب ہمارے گاؤں کے اسکول میں طلباء کی زیرو کلاسز بغیر کسی لالچ کے ہوا کرتی تھیں۔ اور ان دنوں پانچویں کا مقابلے کا امتحان ہوا کرتا تھا اور لالٹین کی روشنی میں اپنے گھر پر بچوں کو پڑھانے کا انتظام بھی کیا جاتا تھا۔
    مگر اب صورت حال بدل چکی ہے۔ سرکاری استاد بجائے سکولز میں پڑھانے کے اکیڈمیوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بڑے بڑے نام کے تعلیمی کیمپس کھل چکے ہیں۔ حتی کہ کچھ "اسلامی تنظیموں" کے ادارے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,362
    سب کا یہی حال ہے. ترقی، شہرت، عزت کی طلب نےتعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے. یہ برتری کی دوڑ ہر قوم میں یکساں ہیں. اس لیے کچھ قومیں اور ملک ترقی یافتہ ہیں. اور کچھ ترقی پذیر کہلاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس کاروباری تعلیم سے بھی پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا. تعلیم کا معیار ویسا ہی ہے. جیسا کہ تیس سال پہلے تھا. کچھ چیزوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ کے رزلٹ آئے..
     
    • متفق متفق x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    بے حد عمدہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    495
    جزاک اللہ خیرا

    میں نے بھی نجی تعلیمی ادرے سے ہی تعلیم حاصل کی ہے میٹرک تک مگر اس اوسط درجے کے اسکوم میں بھی ڈسپلن کی اتنی پابندی ہوتی تھی کہ پرنسپل کی ہر بچے پر نظر ہوتی تھی کہ بلا وجہ یہاں وہاں کیوں کھڑا ہے، بغیر درخواست چھٹی پر پوچھ گچھ الگ کجا کہ بچہ مہینوں اسکول کی شکل نہ دیکھے۔ میرے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ میں مقصدیت کے بجائے مادیت بڑھتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ ہم اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔
    اللہ رحم فرمائے۔
     
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    495
    جی بالکل ترقی، شہرت اور عزت کی طلب غلط نہیں ہر ایک کا حق ہے کہ وہ آگے بڑھے مگر اس کے لیے ہر حد کو پار کرجانا غلط ہے۔
    آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ رزلٹ دکھائی دے تو کچھ باتیں نظرانداز بھی کی جا سکتی ہیں مگر ہمارے ہاں تو نقل سے پاس شدہ ڈاکٹروں، انجینیروں، حتیٰ کہ اساتذہ کی بھرمار نظر آتی ہے جن میں قابلیت نام کو نہیں ۔
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں