داڑھی کاٹنے سے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل

مقبول احمد سلفی نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏دسمبر 13, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    694
    داڑھی کاٹنے سے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل
    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

    لوگوں میں داڑهی سےمتعلق ایک مٹھی سے زیادہ کٹوانے والا عمل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کااختلاف کا باعث بناہوا ہے ، کئی لوگوں نے اس سے متعلق پوچھا ۔ اس لئے درج ذیل سطور میں مختصرا اس کی وضاحت کی جاتی ہے ۔

    (1) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل : وكان ابنُ عمرَ : إذا حجَّ أو اعتمر قبض على لحيتِه ، فما فضل أخذَه(صحيح البخاري: 5892)
    ترجمہ: حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ جب حج کرتے یا عمرہ کرتے تو مٹھی سے زائد داڑھی کاٹ لیتے تھے ۔
    (2) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ كا عمل: عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا فَضَلَ عَنِ الْقُبْضَةِ (المصنف:13/ 112)
    ٭ اس کی سند صحیح ہے ۔
    ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت اس طرح مروی ہے :أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ كانَ يأخذُ من لحيتِهِ من عرضِها وطولِها(الترمذی)
    ترجمہ : نبی ﷺ اپنی داڑھی کے طول وعرض سے کاٹ لیا کرتے تھے۔
    ٭ اسے البانی ؒ نے موضوع قرار دیا ہے ۔ (ضعيف الترمذي:2762)
    اس لئے اس حدیث سے حجت ہی نہیں پکڑ سکتے ہیں ۔

    گویاصحیح احادیث کی روشنی میں دو جلیل القدر صحابی کا عمل ملتا ہے کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی سے زائد کاٹ لیتے تھے ۔

    اسلام میں اس عمل کی حیثیت جاننے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ داڑھی کے متعلق آپ ﷺ کا عمل کیا تھا؟۔ان ہی دو صحابہ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہما سے بلند پایہ کتب حدیث صحیحین میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے داڑھی بڑھانے اوراپنے حال پہ جوں کا توں چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے ۔

    (1)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    خالفوا المشركين : وفروا اللحى ، وأحفوا الشواربَ .(صحيح البخاري:5892)
    ترجمہ: مشرکوں کی مخالفت کرو ،یعنی داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کاٹو۔

    (2)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:خالِفوا المُشركين . أحفوا الشَّواربَ وأوفوا اللِّحَى(صحيح مسلم:259)
    ترجمہ:مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔

    (3) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:انهكوا الشواربَ ، وأعفوا اللحى(صحيح البخاري:5893)
    ترجمہ: مونچھوں کو ختم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔

    (4) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے:
    عنِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ؛ أنه أمر بإحفاءِ الشواربِ وإعفاءِ اللحيةِ .(صحيح مسلم:259)
    ترجمہ: کہ نبی ﷺ نے مونچھیں کاٹنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا۔

    (5)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جُزُّوا الشَّواربَ وأرخوا اللِّحَى . خالِفوا المجوسَ(صحيح مسلم:260)
    ترجمہ: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں لٹکاؤ،مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

    ان احادیث کے علاوہ بے شمار روایات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی داڑھی مبارک بڑھاتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی داڑھی گھنی تھی اورکسی بھی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے داڑھی کٹائی ہوچنانچہ مشکوہ میں آپ کی داڑھی کی کیفیت کے متعلق الفاظ ہیں " ضخمُ الرأسِ واللحيةِ"( تخريج مشكاة المصابيح للالبانی: 5727)یعنی آپ کا سر اور آپ کی داڑھی دونوں بڑی تھیں۔مسلم شریف کے الفاظ ہیں " وكان كثيرَ شعرِ اللحيةِ(صحيح مسلم:2344) یعنی آپ کی داڑھی بہت گھنی تھی۔ حاکم نے ان الفاظ سے بیان کیا ہے" وفي لحيته كثاثة"(مستدرک حاکم 3/543) یعنی آپ کی ڈارھی میں کثافت گھناپن تھا۔ مذکورہ بالا تمام نصوص سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل داڑھی کو چھوڑنا اور مونچھوں کو کترنا تھا۔

    داڑھی سے متعلق احادیث میں یہ کلمہ سب وارد ہیں۔واعفوا -اوفوا-ارخوا-ارجوا-وفروا۔

    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں ۔
    ومعناه كلها :تركها علي حالها هذا هو الظاهر من الحديث الذي تقتضيه الفاظه۔(3/151)
    ترجمہ : ان تمام الفا ظ کا مفہوم یہ ہے کہ داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑ دو حدیث کے ظاہر ی الفاظ کا تقاضہ یہی ہے ۔

    اس لئے ایک مسلم کو نبی ﷺ کی زندگی کو اپنا نمونہ مانتے ہوئے آپ کی اقتداء میں داڑھی اپنے حال پہ چھوڑ دینا چاہئے ۔

    یہاں ہمیں جاننا یہ ہےکہ جب آپ ﷺ کا عمل داڑھی نہ کٹانا تھا تو پھر عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمااور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق عمل کا کیا جواب ہے ؟

    صحابی رسول ﷺ کے عمل کے متعلق مندرجہ ذیل چند جوابات دئے جاتے ہیں ۔

    پہلاجواب : اللہ تعالی نے ہمیں قرآن و حدیث میں وحی (جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے) اسی کی پیروی کا حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ (الاعراف: 3)
    ترجمہ : جو تمهاری طرف تمهارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اسکی اتباع کرو اور اسکے علاوه دیگر اولیاء کی اتباع نہ کرو، تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔
    اس معنی کی بہت ساری آیات واحادیث ہیں جو ہمیں یہ بتلاتی ہیں کہ ہمیں وحی کی پیروی کرنی ہے اور کسی صحابی کا عمل وحی الہی نہیں ہے ۔

    دوسرا جواب : قرآن نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اختلاف کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو۔
    اللہ کا فرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً(النساء: 59)
    ترجمہ : اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام میں جب بھی اختلاف ہوجاتا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹ جاتے تھے ۔ اس کی بے شمار دلیلیں ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب نبی ﷺ کی وفات کے متعلق صحابہ کرام میں اختلاف ہوگیا تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع سے منبر رسول ﷺ پہ قرآن کی آیت تلاوت کی ۔
    إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ (الزمر : 30)
    وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (آل عمران : 144)
    وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ (الأنبياء : 34)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی نبی کی وفات کے قائل نہ تھے لیکن ابوبکررضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالاآیات سنی اور اپنی بات سے رجوع کرلئے اور کہنے لگے یہ آیات میرے ذہن میں تھیں ہی نہیں ,لگتا ہے یہ ابھی ابھی نازل ہوئی ہیں ۔
    اس لئے ہمیں بھی داڑھی سے متعلق اس اختلاف کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا چاہئے ، اس طرح آپ ﷺ کا عمل ہی ہمارے لئے قابل اتباع نظر آتا ہے۔

    تیسرا جواب : محدثین اور علمائے کرام نے یہاں اصول حدیث کا قاعدہ ذکر کرکے ایک جواب دیا ہے ۔
    چنانچہ ترمذی کے شارح عبدالرحمٰن مبارکپوری بھی لکھتے ہیں :
    وأما قول من قال : إنه إذا زاد على القبضة يؤخذ الزائد ، واستدل بآثار ابن عمر وعمر وأبي هريرة رضي الله عنهم فهو ضعيف ; لأن أحاديث الإعفاء المرفوعة الصحيحة تنفي هذه الآثار .
    فهذه الآثار لا تصلح للاستدلال بها مع وجود هذه الأحاديث المرفوعة الصحيحة ، فأسلم الأقوال هو قول من قال بظاهر أحاديث الإعفاء وكره أن يؤخذ شيء من طول اللحية وعرضها ، والله تعالى أعلم . (تحفة الأحوذي: 8/39)
    ترجمہ : رہا ان لوگوں کا قول جو قبضہ سے زائد کو کاٹنے کہتے ہیں تو وہ ابن عمر ، عمر اور ابوھریرہ (رضی اللہ عنہم) کے آثار سے استدلال کرتے ہیں۔ تو یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ مرفوع اور صحیح احادیث جو کہ داڑھی کو معاف کرنے پر دلالت کرتی ہیں ان موقوف آثار کی نفی کرتی ہیں۔
    چنانچہ ان آثار کو مرفوع اور صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے حجت بنانا صحیح نہیں۔پس سب سے درست قول اسی کا ہے جس نے ظاہر حدیث کو دیکھ کر داڑھی بڑھانے(معاف کرنے) کو کہا اور طول وعرض سے کچھ بھی کاٹنا مکروہ جانا ۔ واللہ تعالی اعلم
    گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ صریح صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے آثار سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔

    چوتھا جواب : اوپر دونوں صحابی کا عمل بھی پیش کیا گیا اور ان دونوں صحابہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ داڑھی نہیں کاٹتے تھے ۔ اس لئے ان صحابہ سے وہ روایت قبول کی جائے گی جو نبی ﷺ کی داڑھی کے متعلق ہے اور نبی کے عمل کو راوی کے ذاتی عمل پہ ترجیح دی جائے گی ۔ اس سے متعلق شیخ ابن باز ؒ نے بڑی اچھی بات کہی ہے جو قابل ذکر ہے ۔
    آپ رحمہ اللہ كہتے ہيں: جس نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كے فعل سے دليل پكڑى ہے كہ وہ حج ميں مٹھى سے زيادہ داڑھى كاٹ ديا كرتے تھے، تو اس ميں اس كے ليے كوئى حجت اور دليل نہيں، كيونكہ يہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كا اجتہاد تھا، جبكہ دليل اور حجت تو ا نكى روايت ميں ہے نہ كہ اجتہاد ميں.

    علمائےكرام نے صراحت سے بيان كيا ہے كہ صحابہ كرام اور ان كے بعد ميں سے راوى كى روايت جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہو وہ ہى حجت ہے، اور جب رائے اس كى مخالف ہو تو روايت رائے پر مقدم ہو گى (فتاوى و مقالات شيخ ابن باز 8 / 370 )

    آخری بات میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ جن علماء نے داڑھی کاٹنے کے جوازکا فتوی دیا ہے انکی اکثریت بھی ترک لحیہ کو ہی افضل قرار دیاہے ۔ بنابریں صحیح اور درست موقف یہی ہے کہ داڑھی کو اپنے حال پہ چھوڑدینا ہے ، اس کی تراش خراش نہیں کرنی ہے جو کہ اللہ کے محبوب ﷺ کا عمل ہے اور متعدد صحابہ کرام بشمول حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اور حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں