کیا عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؟

عمر اثری نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏دسمبر 16, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    کیا عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؟؟؟



    سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    میرا سوال یہ ہے کہ ایک حدیث بہت سننے میں آتی ہے کہ ”ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی۔“
    یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف؟؟؟


    جواب: یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے:
    إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها
    ”جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی:
    اپنے باپ کو، اپنے بھائی کو، اپنے شوہر کو اور اپنے بیٹے کو۔“
    کچھ لوگ اس روایت کو حجاب کے ساتھ ذکر کرکے بیان کرتے ہیں:
    أربعة يُسألون عن حجاب المرأة: أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
    ”چار لوگوں سے عورت کے حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا:
    اس کے باپ سے، اس کے بھائی سے، اس کے شوہر سے اور اس کے بیٹے سے۔“
    اس معنی کی کوئی بھی صحیح یا ضعیف روایت مجھے نہیں مل سکی۔ اور متعدد باحثین اور محققین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔
    مزید یہ کہ یہ روایت شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہو۔ چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
    وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
    ”اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وه اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔“
    (سورۃ الانعام: 164)

    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ
    ”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ۔“
    (سنن ابن ماجہ: 2669، سنن ترمذی: 2159۔ قال الشيخ الألباني: صحيح)

    اور سوال میں مذکور روایت کی تردید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں کافرہ تھی تو کیا ان کی وجہ سے نوح اور لوط علیہما السلام کو گناہ ملے گا؟؟؟
    خلاصہ کلام یہ کہ سوال میں مذکور روایت بے اصل ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھیں کہ اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانا ہر انسان پر واجب ہے۔ فرمان الہی ہے:
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
    ”اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“
    (سورۃ التحریم: 6)

    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ
    ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔“
    (سنن ابی داؤد: 495۔ قال الشيخ الألباني: حسن صحيح)

    لہذا اگر وہ اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتا تو بروز قیامت ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بنا پر اس کی باز پرس اور پکڑ ہوگی۔ فرمان نبوی ہے:
    أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ
    ”سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی (لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی (رعایت پر مامور) ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔“
    (صحیح مسلم: 1829)
    واللہ اعلم بالصواب!

    کتبہ: عمر اثری سنابلی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رضوان المكي

    رضوان المكي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 9, 2017
    پیغامات:
    23
    جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا برادر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    وایاکم جناب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    جزاک اللہ خیرا.مفید تحریر.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں