تین سالہ فریال پر کیاگیا ہولناک ظلم اور نظام عدل

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏دسمبر 29, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ہر #باپ کا جگر چھلنی ہے، ہر #ماں کا دل نوحہ کناں ہے، ہر #بیٹی کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا ہے مگر وطن میں صرف مثبت رپورٹنگ کی اجازت ہے۔۔۔ گلےسڑے نظام عدل کی کسی خامی پر لب کشائی کا مطلب غداری ہے، گفتگو یا مباحثے کا آغاز کرنے کے جرم کی سزا جبری گمشدگی ہے، سو شکر کیجیے کہ وہ مر گئی، بیٹیوں کی خاموشی اور موت کے فضائل بیان کیجیے،صبر کے اجر کی تبلیغ کیجیے، بتائیے کہ بیٹی کا مرجانا کتنا ضروری ہے۔ زندہ رہتی تو ایک ایسا مسئلہ بن جاتی جس کا کوئی حل اس قوم کے عالی منصبوں کے پاس نہ ہوتا!
    #
    JusticeforFaryal#stopChildAbuse
    اصل خبر: ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی فریال کے اغوا کے بعد زیادتی کی گئی اور نیم جان بچی کو شدید سردی میں کھلے آسمان تلے سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اس حیوانیت کے مجرم ابھی تک آزاد ہیں اور ہم ایک مہذب معاشرے کے افراد جہاں اس سب کے بعد بھی معمول کی زندگی جاری ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  2. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

    امید ہے آپ خیریت سے ہونگیں۔ آپ نے کسی کو (روحی یا رسول اللہ) کے متعلق بتایا تھا۔ غالبکا سوال (یا رسول اللہ) کے متعلق تھا۔ وہ پوسٹ مجھے نہیں مل رہی افداکغالباور آپ کا جواب بھی میں بھول گیا ہوں۔ برائے مہربانی دوبارہ جواب دے دیں۔ شکریہ
    جزاک اللہ
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    اناللہ وانا الیہ راجعون.
    یہ اور اس جیسے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے.قصور کی زینب کی طرح ان تمام واقعات کی تفتیش ہونی چاھیے.اگر خوف الٰہی معاشرے میں نہیں رہا تو خوف حکومت و عدلیہ بھی نہیں! سندھ کی فتح کے بعد شاید کوئ اس جانب بھی توجہ دے.
     
    • متفق متفق x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    انا للہ وانا الیہ راجعون.
    زندگی کے معمولات سے فارغ ہو کر بندہ جب فورم پر لاگن ہوتا ہے. تو یہاں تازہ ترین پیغام میں اے بیوز abuse کیسز کی لڑیاں نظر آتی ہیں.حالانکہ یہ مسائل ذمہ دار لوگوں کے حل کرنے اور ڈیسکس کرنے کے ہوتے ہیں. عام لوگوں کے نہیں. کسی بھی فورم پر علمی و عملی شراکت، اس کے اغراض و مقاصد، و اراکین کے مزاج کے مطابق ہونی چاہیے.
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  6. sajjid

    sajjid رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2013
    پیغامات:
    13
    بالکل صحیح کہا
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    اس تحریر کے شروع میں ہی عرض کر دیا گیا ہے کہ ایسی خبروں پر کون سے دل مضطرب ہوتے ہیں
    ابن آدم کے سنگ دلانہ تبصروں سے انٹرنیٹ بھرا پڑا ہے۔
    اہل علم کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان کے لیے کیا مناسب ہے۔ وہ اپنا کام جانتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس فورم پر بہت سی مائیں، باپ اور بیٹیاں موجود ہیں۔امیچیور لوگ ایسے موضوعات سے فرار کا راستہ اپنا سکتے ہیں۔ لیکن جس کو اسی دنیا میں رہنا ہے اسے اس کو رہنے کے قابل بنانے کے عمل میں حصہ لینا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    بلکل ٹھیک!
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    ،شاید سبقت قلم کی وجہ سے پریپ لکھنا یاد نہیں رہا، امیچیور لکھ دیا. خیر کوئی بات نہیں. ماشاءاللہ آپ میچور ہیں. اس کا ہمیں ازل سے اقرار رہا ہے. وہاں رہنے والوں کے ساتھ ملکر معاشرہ کو ضرور قابل بنائیے. ہمیں کوئی اعتراض نہیں.
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جی بالکل۔ اسی کیس کے ساتھ نوشہرہ کی آٹھ سالہ مناہل کا واقعہ ہوا، جسے ظالم نے سر پر پتھر مار کرقتل کر دیا تھا۔ آج خیبر پختونخوا پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا ہے جو بچی کے والد کا دوست تھا۔ واقعی خوف خدا ختم ہو رہا ہے اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔
    https://nation.com.pk/01-Jan-2019/suspect-of-rape-murder-of-eight-year-girl-held-in-nowshera
    خدا کرے فریال کا مجرم بھی جلد پکڑا جائے۔ قصور کی بچی زینب کے والدین متمول تھے ان کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ مسجد نبوی میں اپنی بچی کے لیے دعا کر سکیں، غریب پاکستانی کی پہنچ نہ مسجد نبوی تک ہے نہ پولیس سٹیشن اور عدالتوں تک۔ یہ ملک اب بدترین نظام عدل کے حوالے ہے۔ جہاں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز بچوں کے لیے موجود نہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات، سٹریٹ چلڈرن کی دردناک زندگی ہو یا گھروں، سکولوں میں ماں باپ کے سایہ شفقت میں پلنے والے بچوں کے ہراساں، اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعات ہر معاملے میں اعدادوشمار شرم ناک حد کو چھو رہے ہیں۔
     
    Last edited: ‏جنوری 1, 2019
    • متفق متفق x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں