تیسرا دن شروع ہونے والا ہے

محمد ظہیر اقبال نے 'گپ شپ' میں ‏جنوری 1, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد ظہیر اقبال

    محمد ظہیر اقبال نوآموز

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2018
    پیغامات:
    2
    دجال سے متعلق ضروری معلومات
    حدیث مبارک میں آتا ہے کہ دجال زمین پر کُل چالیس دن رہے گا۔
    جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ حدیث پاک کی رو سے دجال دنیا میں کُل چالیس دن رہے گا ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چالیس دنوں کی نوعیت کیا ہے؟ کیونکہ حدیث مبارک میں یہ بھی آتا ہے کہ شروع کے تین دن بلکل مختلف ہیں۔یعنی۔۔۔
    پہلا دن ایک سال کے برابرہو گا۔جبکہ دوسرا دن ایک ماہ کے برابر ہو گا۔اور تیسرا دن ایک ہفتہ یعنی سات دنوں کے برابر ہو گا۔باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہم شروع کے ان دنوں کو کیسے سمجھیں ۔اس بارے انتہائی ذمہ داری سے میری رائے یہ ہے جو بڑی عرق ریزی کے بعد دی جا رہی ہے کیونکہ یہ قرآن و حدیث سے مطابقت بھی رکھتی ہے اور زمانے کے اعدادو شمار کے حساب سے بھی قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔جو کچھ یوں ہے۔​

    The British domination Monarchy pre-dates early as 910-918 AD.According to Islam ONE heavenly year is about ONE THOUSAND years on earth. Now 910-918 AD + 1000 (One thousand year) So the calculation reaches to years 1910- 1918 AD.As we know in 1918 AD End of the first world war leaving United states as the ruling state of the world. Now using same time scale a month would be ..1000/12 = 83 years. Now be carefully 1918 AD+83 years = 2001 AD (September 2001 AD) Attack on twin towers and The War On Terror Begins…
    2002 AD Afghanistan gets invaded… 2003 AD Iraq gets invaded...

    آسان زبان میں یوں سمجھ لیں کے جب برطانیہ کی دنیا پر حکومت تھی اور پونڈ پوری دنیا میں سب سے طاقتور کرنسی تھی اس وقت دجال کا ہیڈ کواٹر برطانیہ تھا یعنی دنیا برطانوی دجالی نظام کے زیر تسلط تھی ۔پھر برطانیہ سے طاقت کا توازن امریکا کی جانب چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی دنیا پر امریکی دجالی دور کا آغاز ہو گیا تھا جو آج دن تک جاری ہے۔لیکن اب جبکہ امریکی ڈالر بھی اپنی قدر کھو رہا ہے لہذا اب طاقت کو اسرائیل کی جانب منتقل کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ ٹرنپ کا حالیہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی تھی۔یہ اعلان وقتی طور پر روک دیا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ضرور بر ضرور کیا جائے گا ۔یہ عمل درآمد اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تیسرا دن جو ایک ہفتہ کے برابر ہے اس کی شروعات ہو جائے گی۔مطلب برطانوی دور حکومت دجال کا پہلا دن تھا۔امریکی دور جو اب اپنے اختطام کے قریب تر ہے یہ دجال کا دوسرا دن تھا جو ایک ماہ کے برابر ہے ۔اور اب اسرائیل یعنی یروشلم میں طاقت کے منتقل ہوتے ہی تیسرے دن کا آغاز ہو جائے گا جو کہ ایک ہفتہ کے برابر ہو گا۔یہاں ایک بات ذہن نشین رہے کہ ان شروع کے تین دنوں میں دجال ہمارے وقت میں داخل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ابھی ہماری نظروں سے اُجھل ہے ۔خروج دجال کا حقیقی وقت عام دنوں کے ساتھ مشروط ہے یعنی عام دنوں کے شروع ہونے پر دجال ظاہری طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا اور دنیا میں فتنہ و فساد کرے گا۔
    نوٹ:-
    اس وقت ہم جس دور میں داخل ہیں وہ دوسرے دن کا آخیر اور تیسرے دن کی شروعات ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اس فتنہ سے محفوظ رکھے ۔امین

    تحریر : محمد ظہیر اقبال (جلال)


     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,833
    برطانیہ کی کرنسی اب بھی طاقتور ہے 1£ کے پاکستانی 175 روپے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,274
    اور یہ کس حدیث سے ثابت ہے کہ دجال طاقت ور کرنسی ہو گا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,274
    جناب اسے ہم حدیث کی رو سے سمجھیں گے۔ چالیس دن کی جو تفسیر آپ کر رہے ہیں وہ بے اصل ہے۔ اس بار ے حدیث کے الفاظ کچھ اسطرح ہیں۔
    اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس دن ہم کو ایک ہی دن کی نماز کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اندازہ کر لینا اس دن میں بقدر اس کے یعنی جتنی دیر کے بعد ان دنوں میں نماز پڑھتے ہو اسی طرح اس دن بھی اندازہ کر کے پڑھ لینا .“

    یعنی جسطرح تم عام دنوں میں نماز پڑھتے ہو اسی طرح کا وقت کا حساب لگا کر نمازیں پڑھتے رہنا۔ اور یہ دن حقیقت میں ایک سال کے برابر ہوگا۔

    آپ کی راۓ انتہائ غیر ذمہ داری سے قائم کی گئ ہے۔ اور احادیث سے متعارض ہے۔ اس لیے آپ سے التماس ہے کہ پہلے قران و حدیث کا مطالعہ کریں اور پھر کوئ راۓ قائم فرمائیں۔
    شکریہ
     
    • متفق متفق x 3
    • مفید مفید x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    372
    محترم آپکی تحریر نے تو آنکھیں کھول کے رکھ دیں ،ماشاءاللہ آپ سنجیدہ بات پر بھی اچھا خاصہ مذاق کرلیتے ہیں

    ویسے اگر تحریر کے آخر میں لکھ دیتے کہ " کیسا رہا ؟ " تو اکثر کو یہ بات سمجھنے میں آسانی رہتی کہ آپ کی تحریر مزاح سے بھرپور ہے


    اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ

    آپ کی عرق ریزی نے انتہائی غیر ذمہ داری سے ایسی غلط رائے قائم کی ہے جوقرآن و حدیث سے ذرہ برابر بھی مطابقت نہی رکھتی ہے اور نہ ہی زمانے کے اعدادو شمار کے حساب سے قرین قیاس معلوم ہوتی ہے

    اور اس بات کو اپنانے کی کوشش کریں جو بابر تنویر بھائی نے آپ کیلئے تجویز کی ہے
    تفاسیر اور شروحات کا مطالعہ کریں اور پھر قران و حدیث کے فہم کو اسی طرح اپنائیں جس طرح سلف و صالحین نے اپنایا

    شکریہ
     
    Last edited: ‏جنوری 2, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں