ترک رفع یدین حضرت علی ؓ

زبیراحمد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 5, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,447
    ’’امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ روایت کرتے ہیں کہ ان سے وکیع بن الجراح نے اور ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی نے اور ان سے عاصم بن کلیب نے اور ان سے ان کے والد (کلیب بن شہاب) روایت کرتے ہیں کہ بےشک حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز کی پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے اس کے بعد (پھر) رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔ (الكتاب المصنف فی الأحاديث والآثار المؤلف: أبو بكر بن أبی شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستی العبسی[المتوفى: ۲۳۵ھ]، بابمَنْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِی أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَا يَعُودُ، كِتَابُ الصَّلَوات، جلدنمبر۱، صفحہ نمبر۲۱۳، رقم الحدیث۲۴۴۱)(المعانی الآثارللطحاوی: ج۱، ص۲۲۵) (نصب الرایۃ: ج۱، ص۴۰۶)
    [​IMG]

    عبداﷲسے روایت ہے، انہوں نے کہاکیا میں تم کو رسول اﷲﷺکی نمازبتاؤں۔ پھروہ کھڑے ہوئےانہوں نےدونوں ہاتھ اٹھائےپہلی بارمیں (یعنی جب نماز شروع کی)پھر نہ اٹھائے‘‘۔ (المعانی الآثارأبو جعفر الطحاوی: جلد نمبر۱، بَابُ التَّكْبِيرِ لِلرُّكُوعِ وَالتَّكْبِيرِ لِلسُّجُودِ وَالرَّفْعِ مِنْ الرُّكُوعِ هَلْ مَعَ ذَلِكَ رَفْعٌ أَمْ لاَ)
    بخاری نے کہا: اور ابوبکرالنہشلی نے عاصم بن کلیب عن ابیہ (کی سند) سے روایت کیاکہ بے شک علیؓ نے تکبیرکے شروع میں رفع یدین کیا پھراس کے بعد اعادہ نہیں کیا۔ اور عبیداللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ ساتھ اس کے کلیب کی اس حدیث میں رفع یدین کو یاد نہیں رکھا گیا اور عبیداللہ کی حدیث گواہ ہے‘‘۔(جزءِرفع الیدین للبخاری: ص۱۱)
    [​IMG]

    دعاء قنوت میں رفع یدین کرنا صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے چنانچہ اسود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعائے قنوت میں سینہ تک اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے تھے اور ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں ہمارے ساتھ دعاءِ قنوت پڑھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں بازو ظاہر ہو جاتے اور خلاص سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس کو دیکھا کہ نماز فجر کی دعاء ِقنوت میں اپنے بازو آسمان کی طرف لمبے کرتے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ماہِ رمضان میں دعاءِ قنوت کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے اور ابو قلابہ اور مکحول بھی رمضان شریف کے قنوت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اورابراہیم سے قنوت وتر سے مروی ہے کہ وہ قرأۃ سے فارغ ہوکر تکبیر کہتے اور ہاتھ اٹھاتے پھر دعائے قنوت پڑھتے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرتے اور روایت ہے وکیع سے وہ روایت کرتا ہے محل سے وہ ابراہیم سے کہ ابراہیم نے محل کو کہا کہ قنوت وتر میں یوں کہا کرو اور وکیع نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے قریب تک اٹھا کربتلایا اور کہا کہ پھر چھوڑ دیوے ہاتھ اپنے عمر بن عبدالعزیز نے نماز صبح میں دعاءِ قنوت کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور سفیان سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کو دوست رکھتے تھے کہ وتر کی تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھ کر پھر تکبیر کہے اوردونوں ہاتھ اٹھاوے پھر دعائے قنوت پڑھے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قنوت میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاوے کہا ہاں مجھے یہ پسند آتا ہے۔ ابوداؤد نے کہا کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا اسی طرح شیخ احمد بن علی المقریزے کی کتاب مختصر قیام اللیل میں ہے اور ابو مسعود اور ابوہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی ان قاریوں کے بارے میں جو معونہ کے کنوئیں میں مارے گئے قنوت وتر میں دونوں ہاتھوں کااٹھانا مروی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تحقیق میں نے رسول اللہﷺ کو ان لوگوں پر جنہوں نے قاریوں کو قتل کیا تھا ہاتھ اٹھا کر بد دعاء کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسے ہی بیہقی کی کتاب مسمیٰ معرفت میں ہے۔ حررہ عبدالجبار الغزنوی عفی عنہ (فتاویٰ غزنویہ: ص ۵۱) (فتاویٰ علمائے حدیث: جلد ۴،ص ۲۸۳)
    [​IMG]

    سلفی شیخ الکل نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں رفع یدین نہ کرنا کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور امام ابن حزم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور امام ترمذی نے حسن کہا ۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد اول
    صفحہ444)
    [​IMG]
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,281
    آپ سے پہلے گزارش کی گئی تھی ۔ مجلس و دیگر فورمز پر اس طرح کے اختلافات کی کئی بحثیں ،مناقشے موجود ہیں ۔ مزید ان کو کاپی پیسٹ کرکے اپنا یا دوسروں کا وقت ضائع ناکریں۔ طرفین کے دلائل کا مطالعہ کرکے حق تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/21166/
    http://www.urdumajlis.net/threads/39479/
     
    • متفق متفق x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں