انڈیا میں دوسرے ممالک کی اقلیتوں کو پناہ دینے سے متعلق بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏جنوری 8, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    انڈیا کی حکومت نے پڑوسی ملکوں میں مذہبی تفریق اور مظالم کا شکار ہونے والے ہندوؤں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو ملک میں پناہ اور شہریت دینے کا ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

    لوک سبھا یعنی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں شہریت کا ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی تفریق اور مظالم سے بچ کر انڈیا میں پناہ لینے والے ہندوؤں، سکھوں، جین، پارسیوں، بودھ اور مسیحیوں کو شہریت حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

    راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بنگلہ دیش اور افغانستان میں اقلیتوں کے لیے حالات پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو مذہبی تفریق اور مظالم کا سامنا ہے۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-46798002

    ....................

    گیان دیو آہاجو راجستھان کے ایم ایل اے کہتے ہیں کہ ”جواہر لال نہرو“ پنڈت نہیں تھے، گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ جو شخص گائے اورخنزیر (سور) کا گوشت کھائے وہ پنڈت نہیں ہو سکتا، یہ کانگریس ہے جس نے ان کے نام کے آگے پنڈت کا لفظ بڑھایا“۔ آہوجا کا تعلق بی جے پی (بھاجپا) سے ہے اور یہ رام گڑھ (الور) سے رُکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ کانگریس نے پنڈت کا لفظ نہرو کے آگے لگایا ہے تو بی جے پی کو بھی چاہیے کہ وہ مودی کے نام کے آگے ”مودھ گھانچی“ (تیلی) کا اضافہ کردیں تاکہ کام برابر ہو جائے اور لوگ پنڈت اور مودھ گھانچی دونوں کو پرکھ سکیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 9, 2019

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں