اقتصادی بحران کے سبب 8 ہزار ایرانی شہری ترکی میں گھر اور جائیداد خریدنے پر مجبور

زبیراحمد نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏جنوری 10, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    [​IMG]

    ترکی میں شماریات کے ادارے (TÜİK)نے انکشاف کیا ہے کہ آخری دس ماہ کے دوران ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں 8 ہزار ایرانیوں نے گھر اور جائیدادیں خریدیں۔

    ادارے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ترکی آنے والے ایرانی باشندے جن شہروں میں قیام کو ترجیح دیتے ہیں ان میں استنبول، انقرہ اور ازمیر سرفہرست ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق ایران میں 4 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے ایرانی سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بتایا گیا تھا کہ 2018 کے اوائل میں ایران کے شہروں میں بے روزگاری کی شرح 60% تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ وزیر داخلہ عبدالرضا فضلی کے اعلان کے مطابق ایران میں بے روزگاری کی اوسط شرح 12% ہو گئی ہے تاہم غربت نے ملک کی تقریبا آدھی آبادی یعنی 4 کروڑ افراد کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان میں سے 1.1 کروڑ افراد پسماندہ علاقوں میں بستے ہیں۔ ان کے علاوہ 15 لاکھ منشیات کے عادی ہیں اور 6 لاکھ کے قریب مختلف جرائم (زیادہ تر چوری اور لوٹ مار) کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود ہیں۔

    ترکی کے شہر ازمیر میں چیمبر آف بروکرز کے چیئرمین مسعود گولر اوگلو کے مطابق شہر میں نئی جائیدادوں کی فروخت میں بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "جائیدادوں کے لیے فنانسنگ میں شرح سود 1.98 سے کم نہیں ہے ،،، اس وجہ سے نئی جائیدادوں کی مارکیٹ کو حقیقی بحران کا سامنا ہے۔ جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور ہم یہ چیز 1994 ،2001 اور 2004 کے اقتصادی بحران میں دیکھ چکے ہیں"۔

    واضح رہے کہ ترکی نے چند ماہ قبل اُن جائیدادوں کی قیمت میں بڑی حد تک کمی کر دی تھی جو غیر ملکیوں کو ترک شہریت کے حصول کے لیے فروخت کی جا رہی ہیں۔ لہذا اب کوئی بھی غیر ملکی باشندہ 2.5 کروڑ ڈالر مالیت کی جائیداد خرید کر ترکی کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ اس جائیداد کو تین برس تک دوبارہ فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل غیر ملکیوں کے لیے شہریت کی غرض سے خریدی جانے والی جائیداد کی کم از کم قیمت 10 لاکھ ڈالر تھی۔

    یاد رہے کہ ترکی کے ادارہ شماریات نے گزشتہ برس اکتوبر میں انکشاف کیا تھا کہ ترکی میں جائیداد خریدنے والے غیر ملکیوں میں عراق اور ایران کے شہری سرفہرست ہیں۔

    اکتوبر 2018 کے دوران غیر ملکی شہریوں میں 1439 عراقیوں، 557 ایرانیوں، 378 کویتیوں، 341 جرمن اور 336 روسی باشندوں نے ترکی میں جائیدادیں خریدیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2019/01/10/اقتصادی-بحران-کے-سبب-8-ہزار-ایرانی-شہری-ترکی-میں-گھر-اور-جائیداد-خریدنے-پر-مجبور.html
    .........
    ایران میں اقتصادی بحران آیا ہوا ہے، نیا نہیں۔ وہاں پے درپے بحران آرہے ہیں۔ اسباب بھی کئی برس سے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سب سے اہم سبب ملاﺅں کی تخریبی حکمت عملی اور زبردست انتظامی و مالیاتی بدعنوانی ہے۔ علاوہ ازیں اقتصادی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایران میں انارکی کا ماحول پھیلا ہوا ہے۔ ایرانی حکمراں دہشتگردی اور گھٹیا بے معنی جنگوں کی فنڈنگ کرکے اقتصادی بحران گہرے سے گہرے کرتے چلے جارہے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ خامنہ ای نظام کی پہلی ترجیح دہشتگردی کی مسلسل سرپرستی ، خانہ جنگیوں کی فنڈنگ اورعرب ممالک کے امور میں مداخلت پر مداخلت ہے۔ جہاں تک ایرانی عوام کے دکھ درد کا تعلق ہے تو یہ انکی نظر میں ثانوی درجے کے مسائل ہیں۔ دوسری جانب خامنہ ای کے ماتحت پاسداران انقلاب سرکاری خزانوں پر اژدھے کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔ خود مرشد اعلیٰ ریاستی اداروں کو قابو ہوئے ہیں اور 90ارب ڈالر تک کی نقد رقم اپنے قبضے میں کئے ہوئے ہیں۔
    ایران کے اقتصادی بحرانوں نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد نئی شکل اختیار کرلی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنا اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنا ایرانی معیشت کی تباہی کے اصل اسباب نہیں۔ یہ دونوں فیصلے تو حال ہی میں ہوئے ہیں۔ ایران کی معاشی بدحالی کی ذمہ داری ایرانیوں کی دہشتگردی اور تخریب کاریوں کا نتیجہ ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں