کیا زیبراحلال ہے ؟

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جنوری 10, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    کیا زیبراحلال ہے ؟

    تحقیق: مقبول احمد سلفی

    برصغیر کے مسلمانوں میں زیبرا کے متعلق شبہ پایا جاتا ہے کہ یہ جنگلی گدھا ہے یا کوئی اور جانور ہے ؟ اگر کوئی اور جانور ہے تو اس کے کھانے کا کیا حکم ہے ؟ میں نے بعض علماء کو بھی اس موضوع میں مشکوک پایا ہے، اس وجہ سے مختصرا میں زیبرا کے متعلق معلومات تحریر کرکے عوام وخواص کا شبہ دور کرنا چاہتا ہوں ۔

    زیبرا(Zebra)گھوڑے سے ملتا جلتا گدھے کی نسل کا جانور ہے۔ یہ جنگلات، گھاس پھوس والے ہرے بھرے میدان، خاردار علاقے ، چٹانی وادی اور پہاڑی مقامات میں رہتا سہتا ہے۔ یہ معلوم رہے کہ گدھے کی دو ہی اقسام پائی جاتی ہیں ۔ ایک قسم گھریلو گدھا اور دوسری قسم جنگلی گدھا ہے گویا زیبرا گدھے کی دوسری قسم ہے ۔

    (1) جنگلی گدھا اسے عربی میں حمار وحشی کہتے ہیں اس کا کھانا حلال ہے ۔اس کے حلال ہونے کی دلیل ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ہے ، وہ کہتے ہیں:
    أنَّهُ كانَ معَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ ، حتى إذا كانَ ببعضِ طريقِ مكةَ ، تخَلَّفَ معَ أصحابٍ لهُ مُحْرِمِينَ ، وهوَ غَيرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وحْشِيًّا ، فاستَوى على فرسِهِ ، فسألَ أصحابَهُ أنْ يُنَاوِلُوهُ سَوطَهُ فَأَبَوا ، فسأَلَهم رُمْحَهُ فَأَبَوا ، فَأَخذَهُ ثم شَدَّ على الحمَارِ فقَتَلهُ ، فأكَلَ منهُ بعضُ أصحابِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم وأبَى بعضٌ ، فلمَّا أدْرَكوا رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ سأَلوهُ عن ذلكَ ، قالَ : إنمَا هي طُعْمَةٌ أطْعَمَكُمُوهَا اللهُ۔(صحيح البخاري:2914)
    ترجمہ: ہم آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) مکہ کے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے ، لشکر سے پیچھے رہ گئے ۔ خود قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا ۔ پھر انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور اپنے گھوڑے پر (شکار کرنے کی نیت سے) سوار ہو گئے ، اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ( جو احرام باندھے ہوئے تھے ) کہا کہ کوڑا اٹھادیں انہوں نے اس سے انکار کیا ، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا اس کے دینے سے انہوں نے انکار کیا ، آخر انہوں نے خود اسے اٹھایا اور گورخر پر جھپٹ پڑے اور اسے مارلیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض نے تو اس گورخر کا گوشت کھایا اور بعض نے اس کے کھانے سے ( احرام کے عذر کی بنا پر ) انکار کیا ۔ پھر جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو اس کے متعلق مسئلہ پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانے کی چیز تھی جو اللہ نے تمہیں عطا کی ۔

    (2) پالتو /گھریلوگدھا اسے عربی میں حمار اھلی کہتے ہیں اس کا کھانا حرام ہے ۔اس کے حرام ہونے کی دلیل ابو ثعلبہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروی یہ روایت ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:حرَّم رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لحومَ الحُمُرِ الأهليةِ(صحيح مسلم:1936)
    ترجمہ : رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے گھريلو گدھے كے گوشت كو حرام قرار ديا۔

    زیبرا کی کیفیات وخصوصیات :
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زیبرا ہی جنگلی گدھا ہے ، حدیث میں جس حمار وحشی کا ذکر ہے زیبرا وہی جانور ہے ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ جانور موجود تھا، ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ نے جس جنگلی گدھے کا شکار کیا وہ یہی زیبرا ہے ۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ زیبرا افریقی نسل ہے ، مشرقی اور جنوبی افریقہ میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ جب یورب و ایشاءکو ملانے والی مصر کی نہرسویز تعمیر نہیں ہوئی تھی تو یہ جانور جزیرۃ العرب میں بھی آیا کرتا تھا بلکہ افریقہ کے تمام جانور شیر، چیتا، ہرن ، نیل گائے وغیرہ جزیرۃ العرب میں پائے جاتے تھے ۔ بات ہے اسی ایک نہر کی جوبحیرہ روم کوبحیرہ قلزوم سے ملاتی ہے ۔ افتتاح سے دس سال پہلے ایشیا اور یورپ کے درمیان آمدورفت کی سہولت کےلئے نہر سویز(Suez canal) کامنصوبہ شروع کیا گیا ہے اور1869 میں اس نہر کی افتتاح ہوگئی ۔ اس نہر کی وجہ سے افریقہ سے حیوانات کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا ۔ تبھی سے زیبرا اور دیگر افریقی جنگلی جانورجزیرۃ العرب سے ناپید ہوگئے۔
    زیبرا پرتگالی زبان کا لفظ ہے اس کا ترجمہ حمار وحشی یعنی جنگلی گدھا ہوتا ہے ۔ اس کا رنگ سفید ہوتا ہے اور اس کے جسم پہ کالی دھاریاں ہوتی ہیں ،ان دھاریوں سے خود کو گھاس پھوس میں چھپا لیتا ہے ۔اس جانور کی بڑی خصوصیات ہیں جن کے ذکر کا یہ مقام ومحل نہیں ہے ۔ اس کے خوراک کی بات کی جائے توٹہنی ، پتے،چھال ،جھاڑی اورگھاس کھانے والا جانورہے مگر ہے حملہ آور، گروپ کےساتھ زندگی گزارتا ہے اور کوئی اس پر حملہ کرے تو سارے گروپ والے مل کر دفاع کرتے ہیں ۔ اس کے اندر وحشیت ہونے کے سبب گھریلو نہیں بنایا جاسکتا یا یوں کہیں کہ یہ انسانوں سے مانوس نہین ہوسکتا ، جو حمار اھلی ہے وہی انسانوں سے مانوس ہے اور ہمیشہ سے انسانوں کے گھریلو کام آتا رہا ہے۔
    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ زیبرا اپنی گندگی کھاتا ہے مگر یہ بات معلومات اور تجربہ کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ یہ بات نہ اس جانور کی خصوصیات بتانے والی کتاب میں درج ہے اور نہ ہی چڑیا خانوں میں اس کی خوراک فراہم کرنے والوں نے ذکر کی ہے ۔
    زیبرا ہی جنگلی گدھا (حمار وحشی) ہے اس بابت ایک مستحکم بات یہ جان لیں کہ دنیا میں زیبرا کے علاوہ اور کوئی جانور حمار وحشی نہیں ہے ۔ اسے عربی میں حمار وحشی کے علاوہ حمار زرد، حمارمخطط اور حمار عتابی بھی کہتے ہیں ۔موجودہ وقت میں اس کی تین اقسام پائی جاتی ہیں جو آپس میں رنگ اور جسامت میں تھوڑے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔
    میدانی زیبرا، گیریوی زیبرا اور پہاڑی زیبرا جنہیں انگریزی میں Plains Zebra, Grevy's Zebra, Mountain Zebra کہتے ہیں ۔

    نیل گائے اور جنگلی گدھے میں فرق:
    احادیث میں موجود لفظ الحمارالوحشی کا ترجمہ عام طور سے نیل گائے سے کیا جاتا ہے جبکہ یہ بڑی خطا ہے ۔ نیل گائے الگ جانور ہے اس کا حمار وحشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    برصغیر میں نیل گائے کے نام سے جو جانور مشہور ہے وہ جزیرۃ العرب میں بھی پایا جاتا تھا، اسے" بقروحشی" اور "المھا "بھی کہتے ہیں کیونکہ جس طرح زیبرا مشابہت میں گدھے جیسا ہے اسی طرح نیل گائے ،گائے کے مشابہ ہے ۔ گائے سے مشابہت رکھنے والے جانور کو گدھے کی نسل کیسے قرار دے سکتے ہیں اور یہ جانور جزیرۃ العرب میں موجود تھا نہر سویس کی تعمیر کے بعد ناپید ہوگیا تاہم حیوانات کی کتابوں میں اس کی تاریخ دیکھی جاسکتی ہےبلکہ انٹرنیٹ پہ اس کی تصاویر بھی بکثرت موجود ہیں ۔

    اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نیل گائے" بقروحشی " میں شمار ہوتا ہے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟
    موسوعہ فقیہ میں لکھا ہے کہ ہر وحشی جانور جس کے پاس کچلی والا دانت نہ ہو جس سے چیرپھاڑ کرتا ہے اور وہ حشرات میں بھی سے نہ ہوجیسے ہرن، وحشی گائے، وحشی گدھا، وحشی اونٹ،تو ان تمام اقسام کے جانوروں کے حلال ہونے پرتمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کیونکہ یہ پاکیزہ جانوروں میں سے ہیں ۔ (الموسوعة الفقهية:5/134)

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ زبیرا کھانا حلال ہے ، اور اسی کو جنگلی جانور یا حمار وحشی کہتے ہیں اور نیل گائے کو عربی میں بقر وحشی کہتے ہیں یہ بھی جنگلی گدھے کی طرح حلال ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,434
    جزاک اللہ خیرا بہت عمدہ اور معلوماتی مضمون!

    آج کل تو سعودیہ کے کچھ علاقوں میں ھائنا hyena کا گوشت بھی فروخت ہو رہا ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟
     
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    ضبع (لکڑ بگڑ) کا حکم

    ترجمہ : مقبول احمد سلفی

    شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ضبع (لکڑ بگڑ) کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں ۔
    (1) ضبع حرام ہے ، اور اس کے قائل امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہیں ، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ کچلی دانت والا جانور ہے اور حدیث میں ہے : (کل ذی ناب من السباع) (رواہ مسلم)
    ترجمہ: ہر کچلی دانت والا درندہ حرام ہے ۔

    (2) دوسرا مسلک یہ ہے کہ ضبع حلال ہے ۔ اس کے قائلین میں ائمہ ثلاثہ امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ ہیں ۔
    امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ ضبع بغیر کسی نکیر کے صفا و مروہ کے درمیان برابر اسے کھاتے ہیں اور بیچتے ہیں ۔
    یہی قول صحیح ہے کیونکہ اہل سنن نے روایت کی " الضبع صید" یعنی لگڑ بگڑ شکار ہے ۔
    جہاں تک امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی بات ہے تو اس کا جواب یہ دیاگیا ہے یہ درندوں میں سے نہیں ہے ۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا بہر حال ضبع امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد کے مسلک میں مباح ہے اور امام ابوحنیفہ کے مسلک میں حرام ہے ۔ اس لئے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک کچلی والے دانتوں میں سے ہے ۔ اور پہلے والوں (ائمہ ثلاثہ) نے استدلال کیا ہے کہ یہ صید ہے ، اس لئے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
    ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ (جانور) حرام کیا گیا ہے ۔
    (1) جو درندوں میں سے کچلی دانت والا ہو۔
    (2) عادی درندوں میں سے ہوجیساکہ شیر۔
    لیکن ضبع میں دو وصفوں میں سے ایک وصف پایا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ کچلی دانت والا ہے مگر عادی درندوں میں سے نہیں ہے ۔

    واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,434
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں