فضل اللہ چشتی صاحب کے بہتان کا جواب

عمر اثری نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏بوقت جنوری 14, 2019 5:15 شام کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    459
    فضل اللہ چشتی صاحب کے بہتان کا جواب

    تحریر: عمر اثری سنابلی

    ایک ویڈیو بھیج کر اس کا جواب طلب کیا گیا ہے جسمیں ایک بریلوی عالم فضل اللہ چشتی صاحب نے اہل حدیثوں پر تحریف جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ آئیے اس ویڈیو میں کئے گئے اعتراضات پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    پہلا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ:
    ”امام صابونی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”عقیدۃ السلف“ (جس میں انہوں نے اسلام کے شروع کے تین سو سال کے بزرگوں کے عقائد درج کئے ہیں) میں لکھتے ہیں:
    باب زيارة قبور النبي صلى الله عليه وسلم
    یعنی انھوں نے نبی ﷺ کی قبر مبارک پر جانے کے متعلق باب باندھا ہے۔ (چشتی صاحب آگے کہتے ہیں) اور یہی ہمارا عقیدہ ہے اور دلیل میں حدیث «من زار قبري، وجبت له شفاعتي» پیش کی اور کہا کہ امام بزار نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ اس کے بعد چشتی صاحب نے کہا کہ اہل حدیثوں نے ”دار السلام“ سے جب اس کتاب کو چھاپا تو اس میں ”قبر“ کی جگہ ”مسجد“ کا لفظ داخل کر دیا۔“
    جواب: مجھ کو اب تک ”عقیدۃ السلف للصابونی“ مطبوعہ دار السلام نہیں مل سکی۔ اور ان صاحب نے خود اپنی کتاب ”تحریفات“ میں جو اسکین اميج لگایا ہے وہ ”دار السلام“ کا نہیں ہے بلکہ ان کے بقول (کیونکہ اسکین میں طباعت کا ذکر نہیں ہے) وہ ”دار التوحید، کویت“ کی طبع ہے۔ میں اس طبع کو تلاش کے باوجود حاصل نہیں کرسکا لہذا کتاب کی طباعت اور محقق کے متعلق زیادہ علم نہیں، البتہ:
    ممکن ہے کہ محقق کتاب کو کسی مخطوطہ میں ”مسجد“ کا لفظ مل گیا ہو۔
    یہی کتاب دوسرے علماء کی تحقیق سے بھی چھپی ہے لیکن ان میں ”مسجد“ کا لفظ نہیں ہے بلکہ ”قبر“ کا لفظ ہے۔ لہذا کسی ایک کے عمل سے تمام اہل حدیثوں کو مطعون کرنا اور ان پر تحریف کا الزام لگانا چہ معنی دارد؟ خاص طور سے جس طباعت میں لفظ ”مسجد“ ہے وہ قدیم ہے اس کے بعد تمام طباعتوں میں ”قبر“ کا لفظ ہے۔
    ہمارا عقیدہ
    «لاَ تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى»
    ”نہ ‌باندھو ‌تم ‌كجاووں ‌كو (یعنی ‌سفر ‌نہ ‌كرو) ‌مگر ‌تین ‌مسجدوں ‌كی ‌طرف ‌ایک ‌میری ‌یہ ‌مسجد ‌اور ‌دوسری ‌مسجد الحرام ‌اور ‌تیسری ‌مسجد ‌اقصی۔“
    (صحيح مسلم حديث نمبر: 728)
    جیسے نصوص پر مشتمل ہے کسی کے عمل یا تحریف پر نہیں۔

    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام صابونی رحمہ اللہ نے لفظ ”قبر“ کیوں ذکر کیا ہے کیا ان کا یہی عقیدہ ہے؟ یا یہ کہ پہلی تین صدی کے علماء کا یہی عقیدہ ہے جیسا کہ چشتی صاحب نے کہا؟
    اس کے جواب میں عرض ہے کہ:
    امام صابونی رحمہ اللہ نے کسی کا عقیدہ نہیں ذکر کیا ہے اور نہ ہی کوئی باب باندھا ہے بلکہ سبب تالیف میں اس بات کو انھوں نے ذکر کیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
    «فإني لما وردت آمد طبرستان وبلاد جيلان متوجها إلى بيت الله الحرام وزيارة قبر نبيه محمد صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه الكرام»
    ”جب میں بیت اللہ اور قبر نبوی ﷺ کی زیارت کے قصد سے (راستہ میں) طبرستان کے شہر آمل اور جیلان آیا۔“
    (عقیدۃ السلف واصحاب الحدیث ط دار العصامۃ: 158)

    ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ بعض علماء قبر رسول (ﷺ) کی زیارت بول کر مسجد نبوی کی زیارت مراد لیتے تھے۔
    (مجموع الفتاوی: 27/246)
    البتہ اس طرح کہنے کو بھی علماء نے ناپسند کیا ہے۔
    (مجموع الفتاوی: 27/245)

    اب یہاں قادری صاحب سے میرا سوال ہے کہ اپنے عقیدے کے اثبات کے لئے جو زور آپ لگا رہے ہیں کیا اس طرح کا زور آپ امام صابونی رحمہ اللہ کی کتاب میں موجود دوسرے عقائد (جیسے ایمان کی تعریف، اس میں کمی و زیادتی اور اسی طرح استواء علی العرش) کو اختیار کرنے میں لگا رہے ہیں؟ امام صابونی رحمہ اللہ نے اپنا ایک عمل ذکر کیا تو آپ نے اس کو پہلی تین صدی ہجری کے علماء کا عقیدہ قرار دے کر اس کو اپنا عقیدہ کہا لیکن علمائے سلف کے جو عقائد انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کئے ہیں ان سے آپ کوسوں دور نظر آتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟

    اور جو حدیث چشتی صاحب نے نبی اکرم ﷺ کی قبر کی زیارت کے لئے بطور دلیل پیش کی ہے وہ بایں الفاظ مروی ہے:
    مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
    ”جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“
    (سنن الدارقطني ط الرسالۃ: 3/334، حدیث نمبر: 2695، شعب الإيمان للبيهقي ط الرشد: 6/51، حدیث نمبر: 3862)

    ❀ تبصرہ: اس کی سند ”ضعیف“ ہے، اس پر درج ذیل محدثین نے کلام کیا ہے:
    امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    «فإن فى القلب منه…………….أنا أبرا من عهدة هذا الخبر»
    ”میرے دل میں اس کے بارے میں خلش ہے…………میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔“
    (لسان الميزان لابن حجر ط مکتب المطبوعات الاسلامیۃ: 228/8)

    نیز اس روایت کو امام صاحب نے ”منکر“ بھی قرار دیا ہے۔
    (حوالہ سابق)

    ◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    «وهو فى صحيح ابن خزيمة وأشار الى تضعيفه»
    ”یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے، اور امام صاحب (ابن خزیمہ) نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔“
    (المقاصد الحسنة فى بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة ط دار الکتاب العربی: 1/647، حدیث نمبر: 1125)

    امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فيها لين
    ”اس میں کمزوری ہے۔“
    (الضعفاء الكبير للعقیلی ط دار الکتب العلمیۃ: 170/4)

    امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    «فهو منكر»
    ”یہ روایت منکر ہے۔“
    (شعب الإيمان للبيهقي ط الرشد: 6/51)

    حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    «وهو حديث منكر»
    ”یہ حدیث منکر ہے۔“
    (تاريخ الاسلام للذھبی ط دار الغرب الاسلامی: 4/663)

    حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    «وهو مع هذا حديث غير صحيح ولا ثابت، بل هو حديث منكر عند أئمة هذا الشأن ضعيف الاسناد عندهم، لايقوم بمثله حجة، ولا يعتمد على مثله عند الاحتجاج الا الضعفاء في هذا العلم»
    ”اس کے ساتھ ساتھ یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ ثابت۔ بلکہ یہ تو فن حدیث کے ائمہ کے نزديک منکر اور ضعیف الاسناد روایت ہے۔ اس جیسی روایت دلیل بننے کے لائق نہیں ہوتی۔ علم حدیث میں ناپختہ کار لوگ ہی ایسی روایات کو اپنی دلیل بناتے ہیں۔“
    (الصارم المنكي فى الرد على السبكي ط الریان: 1/21)

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    «ولا يصح فى هذا الباب شیء»
    ”اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں۔“
    (التلخيص الحبير ط العلمیۃ: 569/2)

    اب رہا مسئلہ امام بزار کی تصحیح کا تو مجھے ان کی تصحیح نہیں مل سکی اور اگر انہوں نے صحیح کہا بھی ہو تو اتنے سارے محدثین کے مقابلہ میں ان کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔

    دوسرا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ:
    ”اہل حدیثوں نے سنن ترمذی کا انگریزی نسخہ جو ”دار السلام“ سے چھاپا ہے اس میں تحریف کر دی اور چونکہ ان کو عربی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا لہذا انہوں نے ترجمہ میں گڑبڑ کردی۔ اصل ترجمہ تھا:
    ”قبر سے سورہ ملک پڑھنے کی آواز آئی“
    لیکن انہوں نے اس کو بدل دیا اور ترجمہ کیا:
    ”صحابی نے خیمہ لگا کر سورہ ملک پڑھی“
    جواب: جس روایت کی طرف چشتی صاحب نے اشارہ کیا ہے وہ ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:
    «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ ، وَهُوَ لَا يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ ، فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ ، وَأَنَا لَا أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»
    ”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورہ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورہ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورہ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورہ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے۔“
    (سنن ترمذی: 2890، قال الشيخ الألباني: ضعيف، وإنما يصح منه قوله: هي المانعة..... ، الصحيحة: 1140، ضعيف الجامع الصغير: 6101، المشكاة: 2154)
    اس حدیث کے انگریزی ترجمہ میں تحریف کا الزام درحقیقت چشتی صاحب کے متعصب ہونے کی دلیل ہے اور ان کے اس بودے اعتراض پر عرض ہے کہ:
    ترمذی کی زیر بحث روایت ”ضعیف“ ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ”یحیی بن عمرو“ ضعیف راوی ہیں۔ چنانچہ کئی علماء نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ البتہ اس روایت کا آخری ٹکڑا (هي المانعة) شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
    خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ لہذا ”دار السلام“ والوں کو اس میں تحریف کی کیا ضرورت پیش آگئی۔
    اگر ”دار السلام“ والوں کو تحریف کرنی ہی تھی تو صرف انگریزی ترجمہ میں ہی کیوں کی؟ عربی الفاظ میں تحریف کیوں نہیں کی؟ چلئے عربی چھوڑیں ”دار السلام“ سے مطبوع اردو ترجمہ میں تحریف کیوں نہیں ہے؟ ان سب باتوں کا چشتی صاحب کے پاس یقینا کوئی جواب نہیں ہے کیوں کہ وہ بس دشمنی میں اول فول بک رہے ہیں۔

    تیسرا اعتراض: اس کے بعد چشتی صاحب نے ”القول البدیع“ میں بھی ایک تحریف کا الزام لگایا ہے۔
    جواب: ہم اس پر کچھ تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ یہ تحریف کی گاج چشتی صاحب نے دیوبندیوں پر گرائی ہے کہ انھوں نے تحریف کی ہے۔ (جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ”تحریفات“ میں ذکر کیا ہے) البتہ ہم ان کی پیش کردہ روایت کے متعلق گفتگو کریں گے۔ امام سخاوی رحمہ اللہ نے روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:
    «عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فشكا إليه الفقر وضيق العيش او المعاش فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا دخلت منزلك فسلم إن كان فيه أحد أو لم يكن فيه أحد ثم سلم علي واقرأ «قل هو الله أحد» مرة واحدة ففعل الرجل فأدر الله عليه الرزق حتى أفاض على جيرانه وقراباته»
    ”سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور فقر و فاقہ اور زندگی یا معاش کی تنگی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور گھر میں کوئی ہو یا نا ہو تو سلام کرو، پھر مجھ پر سلام بھیجو اور ایک مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھو ، پس اس آدمی نے ایسا ہی کیا تو اللہ ﷻ نے اس کے رزق میں زیادتی پیدا کر دی یہاں تک کہ ان کے پڑوسی اور اقرباء تک کو شامل کردیا۔“
    (القول البدیع ت محمد عوامہ: 273، حدیث نمبر: 37)

    روایت پر تبصرہ: اس روایت پر میں کیا تبصرہ کروں خود امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
    «رواه أبو موسى المديني بسند ضعيف»
    ”اس روایت کو ابو موسی المدینی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔“

    چوتھا اعتراض: چشتی صاحب کہتے ہیں کہ:
    ”غیر مقلدین نے سنن نسائی کی سجدوں میں رفع الیدین والی حدیث کی سند میں تحریف کی اور جب ”دار السلام“ سے اس کتاب کو چھاپا تو ”شعبہ“ کے بجائے ”سعید“ کر دیا۔ مزید کہتے ہیں کہ غیر مقلدین کے محدث البانی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔"
    جواب: درحقیقت یہ اعتراض کم علمی اور تعصب کی بنا پر کیا جا رہا ہے ”شعبہ“ کے بجائے ”سعید“ ذکر کرنا تحریف نہیں تحقیق ہے۔ اور اگر ان کے نزدیک یہ تحریف ہے تو ان کے مطابق مندرجہ ذیل محدثین بھی تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں:
    ابن ابی عدی سے یہی روایت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔
    (مسند احمد ط الرسالۃ حدیث نمبر: 15600، 15604)

    ابن ابی عدی سے محمد بن المثنی کی روایت امام مسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔
    (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 391)

    یہی روایت اسی سند و متن کے ساتھ امام نسائی کی ”السنن الکبری“ میں «سعید عن قتادہ» کی سند سے موجود ہے۔
    (سنن الکبری للنسائی ط الرسالۃ: 1/343، حدیث نمبر: 676)

    یہ اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ ”سنن نسائی“ میں ناشر یا کاتب کی غلطی کی وجہ سے «سعید عن قتادہ» کے بجائے «شعبہ عن قتادہ» ہوگیا۔

    ابن حزم نے ”المحلی“ میں اپنی سند کے ساتھ امام نسائی رحمہ اللہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس میں «سعید بن ابی عروبہ» کا نام ہے۔
    (المحلی بالآثار ط دار الفکر: 3/8)

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”فتح الباری“ میں یہ روایت نسائی سے «سعید بن ابی عروبہ» کی صراحت سے نقل کی ہے۔
    (فتح الباری لابن حجر ط دار المعرفۃ: 2/223)

    امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے یہی روایت امام نسائی رحمہ اللہ سے ”سعید“ کی سند سے نقل کی ہے۔
    (مشکل الآثار ط الرسالۃ: 15/57، حدیث نمبر: 5837)

    امام بیہقی رحمہ اللہ نے ”محمد بن المثنی“ والی روایت ”سعید“ کی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
    (السنن الکبری للبیہقی ط دار الکتب العلمیۃ: 2/39، حدیث نمبر: 2307)

    تنبیہ: یہ روایت سجدوں کے رفع الیدین کے ذکر کے ساتھ شاذ ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں مسند احمد ط الرسالۃ۔

    آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ انسان کو تعصب میں اس قدر نہیں بڑھ جانا چاہئے کہ فریق مخالف پر بلا وجہ تحریف جیسے الزامات لگائے اور اس میں اتنا بڑھ جائے کہ جھوٹ، بہتان اور تدلیس کا سہارا لینے لگے۔ آپ اس تحریر میں چشتی صاحب کی عادت دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے جھوٹ اور تدلیس کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ ہم کو کہتے ہیں کہ غیر مقلدین کو عربی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا حالانکہ چشتی صاحب خود عربی عبارت تک نہیں پڑھ پاتے اور حد تو یہ ہے کہ حدیث پڑھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ اگر میں انکی ان حرکتوں پر کچھ لکھنے بیٹھوں گا تو پھر بات لمبی چل نکلے گی۔ لہذا بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ حق بات کہنے، سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں