ماہ رجب

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 5, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,102
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اللہ‌تعالٰی‌ نے‌ ابتدائے ‌آفرینش سے ہی مہینوں کی تعداد تعداد بارہ مقرر کی ہے ۔
    ارشاد باری تعالی ہے
    “زمین اور آسمان کی پیدائش کے روز سے ہی مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے ، جن میں سے چار مہینے حرمت والےہیں‌“سورہ توبہ 36

    اور حرمت والے مہینے ۔ رجب ، ذیقعدہ ، ذالحجہ اور محرم ہیں ۔ اور ان مہینوں کو حرمت والے اس لیے کہا جاتا ہے ان میں لڑائی کرنا حرام تھا تاکہ علاقے میں امن ہو اور لوگ بآسانی حج کیلئے آ جا سکیں۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے ، یعنی ضرورت پڑنے پر ان مہینوں میں‌ جہاد کیا جا سکتا ہے ، لیکن گناہوں اوراللہ کی نافرمانیوں سے دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ اجتناب کرنا چاہئیے
    (لطائف المعارف )

    رجب کا معنی؟
    عربی زبان میں ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں اور ماہ رجب کی وجہ تسمیہ بھی یہ ہے کہ عرب اس کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس مہینے میں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے ، جنہیں “عتیرہ“کہا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا تو اس نے یہ رسم ختم کر دی
    (متفق علیہ )

    جہاں تک اس مہینے میں مخصوص عبادات ، روزے اور نوافل جیسا کہ صلاۃ الرغائب اور شب معراج کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی بلکہ اس قسم کی تمام روایات انتہائی ضعیف یا من گھڑت ہیں ۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    “ماہ رجب کے روزوں اور نوافل کے بارے میں کوئی صحیح‌حدیث وارد نہیں ہے “

    اور امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    “رجب کے روزوں کی فضیلت کے بارے میں‌ جتنی روایات ہیں یا منکر ہیں یا موضوع (من گھڑت )ہیں
    (الشماریخ فی علم التاریخ ص 40 )

    علی بن ابرہیم العطار رحمہ اللہ کہتے ہیں

    “رجب کے مخصوص روزوں کے بارے میں وارد شدہ روایات من گھڑت اوربے اصل ہیں‌“
    (الفوائد المجموعہ 440 )

    اور اسی طرح امام ابن جوزی ، شیخ الاسلام ابن تیمہ ، ابن القیم رحمہ اللہ اور دیگر متاخرین کی رائے ہے کہ خصوصی طور پر ماہ رجب کے قیام و صیام کے فضائل میں‌کوئی حدیث ثابت نہیں‌۔ لہذا ایک اسلام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ، اپنی طرف سے نئی نئی عبادات ایجاد کرنا اور نئے نئے طریقے نکالنا کلمہ گومسلمان کے لائق نہیں بلکہ اس مہینے میں بھی عاما عادت کے مطابق نمازتہجد، پیرو جمعرات اور ایام بیض (13،14،15) کے روزے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہیں انہی کو معمول بنانا چاہیے

    مولانا عبد الخالق محمد صادق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ڈان

    ڈان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 28, 2007
    پیغامات:
    11,683
    جزاکم اللہ خیر ۔
     
  3. yashaka

    yashaka -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    26
    جزاک اللہ
     
  4. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    عکاشہ صاحب ؛اللہ تعالیٰ آپ کو بے تحاشا برکتوں سے نوازے ایمان پرور موضوع ارسال فرمایا ہے
     
  5. عادل سہیل

    عادل سہیل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 29, 2008
    پیغامات:
    48
    السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
    جزاکم اللہ خیرا
     
  6. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
    جزاک اللہ خیرا ۔ عکاشہ بھائی ۔
     
  7. ہما

    ہما -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 23, 2007
    پیغامات:
    1,694
    جزاک اللہ خیر برادر ۔۔۔۔۔۔! خوش رہیئے
     
  8. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,102
    وعلیکم السلام !
    ہم نے ان میں سے کسی چیز کا بھی انکار نہیں‌کیا ۔ بس آپ سے یہ سوال ضرور ہے کہ حرمت سے آپ کیا مراد لیتے ہیں‌؟
    کیا آپ ایسی کوئی صحیح‌ حدیث لا کر دکھا سکتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کے مہینے میں کوئی خاص نفلی عبادت کی ہو یا کرنے کا حکم دیا ؟
     
  10. kashifbilal

    kashifbilal -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2009
    پیغامات:
    50
    السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ

    اس بات کا آسان جواب یھ ھے کھ روزہ رکھنا یا نفل پڑھنا بدعت نھیں بلکھ رجب میں روزھ کا ثواب یا طریقھ مخصوص کرنا بدعت ھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں