حج پالیسی 2019 شدید تنقید کی زد میں

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏فروری 3, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    حکومت نیا پاکستان نے نئے چاند چڑھانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے حج پالیسی 2019 کا اعلان فرما دیا ہے اور اس کے اٹھائے گئے کئی نامبارک اقدامات کی طرح یہ پالیسی بھی شدید تنقید کی زد میں ہے افسوس اس بات کا ہے کہ تصوف اور چلوں کے زور پر آنے والی جس حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں سینما اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو فروغ دینے کے وعدے کیے، اسی حکومت کے وزیر اطلاعات نے حج پر سبسڈی ختم کرنے کی یہ دلیل دی کہ حج صاحب استطاعت ہی پر فرض ہے یعنی انٹرٹینمنٹ تو ہر کسی پر فرض ہے اور سینما پر سبسڈی ضروری ہے، لیکن حج صاحب استطاعت پر ہی فرض ہے اس لئے حج کی سبسڈی ختم کرکے حج اخراجات میں تقریبا 63 سے 64 فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے سکھوں کے لیے باڈر کھولتے ہوئے یہ فضائل بیان کئے کہ یہ سکھوں کا مکہ مدینہ ہے، یہ بہت خوش ہوں گے اور اسی "دردمند" حکمران نے نے مسلمانوں کا مکہ مدینہ جانا تریسٹھ فی صد مہنگا کردیا ہے۔ یہ ہے وہ ریاست مدینہ سے انسپائر حکمران جس کی رنگین مزاجی تصوف کے لبادے میں لپیٹنے کے باوجود عیاں ہے!
    بعض لوگ جو اس حکومت کے کسی اقدام پر کی گئی تنقید کو سننے کو تیار نہیں رنگ برنگی دلیلیں لا رہے ہیں لیکن حج پالیسی 2019 پر وہ لوگ بھی چیخ پڑے ہیں جو انقلاب کی انتہاپسندانہ امید میں پہلے حزب التحریر شامل ہوئے تھے اور وہاں سے نکلتے ہی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ عمران خان آتے ہی عافیہ صدیقی کو پاکستان لے آئے گا، جنہوں نے مزار کی چوکھٹ پر سجدہ بھی یہ کہہ کر ہضم کر لیا کہ عقیدہ پکا ہے۔ امید ہے اب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مزاروں پہ جانے والے مسجدیں آباد نہیں کرتے نہ انہیں حجاج کی خدمت کا کوئی شوق ہوتا ہے۔
    مجھے صرف اس بات پر اطمینان ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن نے متفقہ طور پر حج پالیسی کو مسترد کردیا ہے اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نیشنل اسمبلی میں بھی اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے کا وعدہ کیا ہے یعنی آخرکار آپ کے کام وہی تجربہ کار سیاست دان آرہے ہیں جنہیں کرپٹ ملک دشمن اسلام دشمن غدار گستاخ ختم نبوت کے غدار اور انڈیا میں فیکٹریاں لگانے والے قرار دیتے آپ کی زبان نہیں تھکتی تھی۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ جب حکمران کرپٹ ہو تو مہنگائی ہوتی ہے افسوس جن لوگوں کو آپ نے جیل میں ڈال دیا ان کے زمانے میں حج کچھ سستا تھا۔ اس ے پتہ چلا کہ کنٹینر پر ناچ ناچ کر انقلاب لانے والے ناچ ہی کو فروغ دیتے ہیں، حج جیسی پاکیزہ عبادت کو فروغ دینے کی نہ ان کی نیت ہے نہ توفیق۔ شرم اور حیا نام کی کوئی چیز اگر حکومت کے اس اقدام کی حمایت کرنے والوں کے اندر پائی جاتی تو وہ معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے، پڑوسی ملک میں جنونی ہندوؤں کی پارٹی نے اقتدار میں آکر حج کی سبسڈی کو نہیں چھیڑا۔ افسوس اگر ابھی بھی کچھ لوگوں کو ہوش نہیں آیا تو پتہ نہیں اگلے چند سالوں میں اس ملک کا کیا نقشہ ہونے والا ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 3, 2019
    • متفق متفق x 1
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    پچھلے سال پرائیویٹ حج آپریٹرز اور جج حضرات کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے عازمین حج کئی ماہ انتظار کی سولی پر لٹکتے رہے تھے کہ پرائیویٹ حج مافیا اس ملک میں بہت طاقتور ہے ۔کئی جانکاروں سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ایک اوسط پرائیویٹ آپریٹر حج پر کم از کم فی حاجی ایک لاکھ روپے کماتا ہے اگر وہ منسٹری کی حدود و قیود کے اندر رہتا ہو یعنی منسٹری کی کہی ہوئی سہولیات فراہم کرے، اور اگر وہ اس میں بھی 'بچت' کا سوچے تو خالص منافع ایک لاکھ فی حاجی سے بھی کہیں زیادہ تجاوز کر جاتا ہے۔ خورشید شاہ جو کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مذہبی امور کے وزیر رہے ہیں ان کے مطابق پرائیویٹ حج آپریٹرز انہیں رشوت کی پیشکش بھی کر چکے ہیں اس ضمن میں، سردار یوسف سابقہ وزیر مذہبی امور اپنی بھرپور کوشش کے باوجود سرکاری کوٹہ زیادہ نہیں کروا سکے تھے اور بابا رحمتے نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔

    اب اگر ہم سرکاری سکیم کے تحت عازمین کی بات کریں تو پچھلے سال تک پرائیویٹ حج سے سرکاری حج کہیں سستا تھا اور عام طور پر جو لوگ سرکاری سکیم کے تحت حج ادا کر کے آئے ہیں وہ بہت خوش ہیں، ہاں البتہ یہ جو منسٹری کے ملازم موجیں لوٹتے ہیں اور ہر سال حج پر پہنچے ہوتے ہیں ان کے بار ے میں کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ ان کا وہاں قیام و طعام کس مد میں ہوتا ہے، نیز ہر منسٹری عازمین حج کے پیسوں سے فکسڈ سود کھاتی ہے جن کو انہوں نے شریعہ کمپلائنٹ کا نام دیا ہوا ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے میں منسٹری آف مذہبی امور میں بیٹھا ہوا عملہ اور افسران ہی اکثر مسائل کے ذمہ دار ہیں، اگر سوال ہو کہ وہ کیسے تو اس کا جواب ہے کہ جو بڑے بڑے حج آپریٹرز ہیں ان کے ساتھ منسٹری والوں کے پہلے سے ہی روابط ہیں کہ وہ کوٹا الاٹ ہونے سے پہلے ہی بکنگ کر لیتے ہیں، یعنی ان کو یقین ہوتا ہے کہ مجھے اتنے افراد کا کوٹا ہر صورت میں الاٹ ہو کے رہے گا۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز منسٹری والوں کو خصوصی فیورز بھی دیتے ہیں۔ نیز عوام کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے حج کے لیے جمع کروائے گئے پیسے کا منسٹری کس ضمن میں استعمال کرتی ہے کتنی تنخواہیں دیتی ہے اور کتنے لوگ معاونین بن کر منسٹری کے ملازمین میں سے حجاز مقدس جاتے ہیں اور حج کی 'سعادت' پاتے ہیں۔

    عمرانی گورنمنٹ کی preferences میں حج کہیں پر بھی شامل نہیں ہے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان نے ادھر ایک سیاسی سٹنٹ کی خاطر حج پر جانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اگر صرف عمران خان صاحب ذاتی انٹرسٹ لیں تو ابھی بھی بغیر سبسڈی دئیے حج کے اخراجات ساڑھے تین لاکھ کے قریب لائے جا سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے حامیوں کے بیانات پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ حج کوئی ثواب نہیں بلکہ سراسر دکھاوا ہے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ کوئی تو آئے جو پرائیویٹ حج کی بے قاعدگیوں کو دور کرے لیکن ادھر تو سرکاری حج ہی عوام کی پہنچ سے باہر کر دیا گیا۔

    اللہ ہمیں اچھے حکمران نصیب فرمائے، آمین!
     
    • مفید مفید x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل نہ تو حکومت کی ترجیحات میں حج کو فروغ دینا شامل ہے بلکہ اس فضول اقدام کے بعد ان کے حامیوں نے جو دلائل تراشنا شروع کیے ہیں ان میں حج کا مذاق اور حج کے فریضے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہی مجوسی فلسفہ دہرا رہے ہیں کہ حج تو کاروبار بن گیا ہے حج تو مذہبی پکنک بن گیا ہےیا یہ کہ حج کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ کسی کو کھانا کھلا دیں۔ ان سب باتوں کا ذکر یہاں ہوا تھا http://www.urdumajlis.net/threads/36365/
    یہ دراصل دینی بد عملی کو فروغ دینے کے بہانے ہیں۔ کہ مسلمان جو تھوڑا بہت دین پر عمل کرتے ہیں اس کی اہمیت کو بھی ان کے دلوں میں کم کردیا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,475
    بیت اللہ وہ مرکز و محور ہے جس کے گرد پوری امت مسلمہ آج بھی متحد نظر آتی ہے.بلا تفریق رنگ و بو فرقہ ومسلک ..اور یہ چیز دشمن کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے..مجھے حالیہ فیصلوں کے بعد کچھ کچھ یقین ہو چلا ہے کہ ..یہودی ایجنڈا پہ آہستہ آہستہ عمل جاری ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جس کا بھی ایجنڈا ہے حج بیت اللہ پر بھاری منافع کمانے کا خواب دیکھنے والوں کو ٹھیک ہونا پڑے گا ۔
    ایکطرف نااہل حکومت کی ناجائز منافع خوری کی حد ہے دوسری طرف اس کے بے وقوف سیاسی حامی جو کہ فون کارڈ کے پندرہ فی صد ٹیکس پر شور مچاتے تھے، بجلی گیس کے بل جلانے کی باتیں کرتے تھے آج حج کے تریسٹھ فی صد مہنگا ہونے کی حمایت میں دلائل گھڑ رہے ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں