داعیات دین کے ساتھ انتہاپسند نوجوانوں کی بدسلوکی

عائشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 9, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    ام جمال الدین حفظہا اللہ ایک نو مسلمہ بہن ہیں جو گیارہ ستمبر کے واقعات کے وقت بھی مغربی ٹی وی چینل پر اسلام کا دفاع کرتی نظر آئیں۔ بہت باوقار انداز میں مکمل شرعی حجاب مع نقاب کرتی ہیں۔مجھے کبھی ان کی آنکھیں نظر نہیں آئیں۔ میں نے یورپی علمائے کرام کی اگلی نسلوں کو حجاب کو خیرباد کہتے دیکھا ہے اس لیے ان کی استقامت پر رشک آتا ہے۔ مزید خوبی یہ کہ گوشہ نشینی کا آسان راستہ ختیار کرنے کی بجائے کھل کر دعوت وتبلیغ اور دفاع اسلام میں متحرک ہیں۔ کفار کی جانب سے تندوتیز تنقید کا سامنے بڑے تحمل اور حکمت سے کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بعض مسلم جاہل ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
    پچھلے دنوں ایک انتہا پسند نوجوان نے ان کی یوٹیوب وڈیو پر تبصرہ کیا کہ بہت اچھا کام ہے لیکن آپ اپنی آنکھیں بھی چھپائیں۔
    اس پر انہوں نے تبصرہ کیا کہ: کیا خیال ہے اگر تم اپنی نیچی رکھو؟
    اس پر ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ بس اب یہ فرمائش باقی ہے کہ بہن آپ غائب ہو جائیں۔
    ایک غیر سنجیدہ انسان کو یقینا ایسا ہی جواب ملنا چاہیے۔ جسے اتنی خبر نہیں کہ پردے میں آنکھیں کھلی رکھنا عورت کا حق ہے جو اسے اسلام نے دیا ہے۔
    اس کے بعد انہوں نے فیس بک پیج پر لکھا کہ
    بعض اوقات آپ کے بیٹوں سے بھی کم عمر نوجوان آپ کو یہ بتانے آتے ہیں کہ آپ کو اپنی آنکھیں چھپانی چاہئیں۔
    خواتین نے ان کے دکھ کو محسوس کیا، ان کو حوصلہ دینے کے لیے کچھ تبصرے کیے۔ ایک تبصرہ میرا بھی تھا جس میں میں نے یقین دلایا کہ ان کا باوقار حجاب دیکھ کر مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہوتا ہے۔ لیکن اسی وقت کچھ مزید انتہا پسند وہاں تشریف لے آئے اور انہیں بتانے لگے کہ عورتوں کو تصویر نہیں بنوانی چاہیے۔ میرے تبصرے پر بھی کچھ فتوے پوسٹ کیے گئے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ جوابا میں نے ان حضرت سے کہا کہ آپ نامحرم خاتون سے بات کیوں کررہے ہیں؟
    اگر کسی کے دماغ میں بھوسا نہ بھرا ہو تو اسے سمجھ آجاتی چاہیے کہ جیسے نامحرم سے بات کرنا کچھ شروط و آداب کے ساتھ جائز ہے، ویسے ہی خواتین کا تصویر بنوانا یا دعوتی سرگرمیاں کچھ شروط و آداب کے ساتھ جائز ہیں۔ لیکن میری توقع کے عین مطابق ان صاحب کے دماغ میں بھوسا ہی ہے اسی لیے وہ ام جمال الدین کے صفحے پر مسلسل ٹرولنگ کر رہے ہیں۔
    مجھے ایسے انتہاپسند نوجوانوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ نجانے یہ کہاں سے اسلام سیکھتے ہیں کہ کوئی ادب نہیں جانتے۔ نہ آداب اختلاف، نہ گفتگو کا سلیقہ، نہ حالات کا احساس۔ ان کا یہ غلو ایک نہ ایک دن انہیں توڑ ڈالتا ہے۔ میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو بعد میں بدعملی یا مکمل الحاد میں مبتلا ہوتے دیکھا ہے۔کاش کہ یہ لوگ باقاعدہ علم حاصل رکیں اور کسی باعمل استاد سے تربیت لیں۔
    ہماری امت میں ایسے لڑکوں کی کثرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ مائیں بیٹیوں کی تربیت بہت محنت سے کرتی ہیں مگر بیٹوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ بے ادب بیٹے اب داعیات دین سے بدسلوکی کر کے انہیں دکھ پہنچا رہے ہیں اور کفر کی مدد کر رہے ہیں۔ اکثر داعیات بہنیں ذاتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر دعوت کا کام کرتی ہیں اور ان کے پاس کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں ہوتی جو ایسے ٹرولز کا مقابلہ کر سکے، وہ چندے مانگ مانگ کر بہت ساپیسہ جمع کر کے کوئی دعوتی ادارہ شروع کرنے کی بجائے اپنے محدود وسائل میں رہ کر دعوت دین میں مصروف ہیں۔ اس پر یہ امت ان سے یہ سلوک کرتی ہے۔ اندازہ کیجے کہ ایک خاتون دن بھر کے کام کاج کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے دعوتی صفحے پر اتنے نفرت بھرے تبصرے دیکھتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے؟ اسی لیے کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔
    ام جمال الدین کا ایک کلپ
     
    Last edited: ‏فروری 9, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. سیما

    سیما نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 7, 2017
    پیغامات:
    2
    بہترین۔ بالخصوص آخری بات کہ لڑکوں کی تربیت میں ماؤں کا کردار سب سے اہم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    تبصرے کے لیے شکریہ سیما۔ مجھے لگتا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو ایسے معاملات پر آواز بلند کرنی چاہیے تا کہ ایسے لوگوں کو جواب ملے۔ یہ مسائل خواتین کے ہیں تو خواتین کو ہی اس کا حل نکالنا ہو گا۔ ذاتی طور پر میری موجودگی میں کسی بھی داعیہ پر فضول تنقید ہو تو میں خاموش نہیں رہتی۔
    ایک زمانے میں اردو مجلس پر حجاب کے متعلق عام سوالات کے جوابات پوسٹ کیے تھے تا کہ ایسے لوگوں کو تنبیہ ہو سکے۔ اس میں ان سب سوالات کا شافی جواب موجود ہے کہ خواتین نقاب میں آنکھیں کھلی رکھیں یا نہیں، کس قسم یا رنگ کا عبایا پہنیں وغیرہ
    http://www.urdumajlis.net/threads/10603
    علمائے کرام نے واضح طور پر لکھا ہے

    "سوال:كيا عورت كے ليے غير محرم اور اجنبى مردوں كے سامنے اپنى آنكھيں ننگى ركھنا جائز ہيں ؟
    الحمد للہ: جى ہاں عورت كے ليے اپنى آنكھيں ننگى ركھنا جائز ہيں، تا كہ وہ ديكھ سكے، اور مردوں كے ليے عورت كى آنكھوں كى جانب ديكھنا جائز نہيں."


    ایسے کچھ سوالات پر بحث یہاں ہوئی تھی
    http://www.urdumajlis.net/threads/32708/page-2
     
    Last edited: ‏فروری 11, 2019
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,471
    اللہ ام جمال الدین کو استقامت عطا فرمائے.دعوت دین کے کام میں باتیں سننا اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنا بھی سنت نبوی ہے.
    اللہ اس امت کے بگڑے ہوئے طبقہ کو شعور و عقل کے ساتھ ہدایت نصیب فرمائے.اس پرفتن دور میں جو لوگ شرعی تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے میدان عمل میں ہیں وہ لائق تحسین ہیں نہ کہ تنقید.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    ایسے واقعات کا سب سے برا اثر چھوٹی لڑکیوں پر پڑتا ہے جو خوفزدہ ہو کر یا تو گوشی نشینی اختیار کر لیتی ہیں یا پھر یہ سمجھتی ہیں کہ اسلام واقعی اتنا سخت ہے کہ آج کل کوئی بھی اس کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔
    اگر انسان کو اہل کفر یا برے لوگ تنقید کا نشانہ بنائیں تو ایمان بڑھتا ہے، لیکن جب بظاہر مذہبی حلیے والا شخص بد تہذیبی کرے تو یقینا انسان دہل جاتا ہے۔
    کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم چاہتے ہیں کم عمر لڑکیاں اپنی ہم عمر لڑکیوں میں دعوت کا کام کریں لیکن ایسے شبہات ان کو روک دیتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ کتنی باصلاحیت لڑکیاں خاموش تماشائی بن گئیں حالاں کہ ان کے پاس اتنا علم تھا کہ وہ جہالت کے اندھیرے مٹا دیتیں۔
    میرے ساتھ اگر میرے والد محترم رحمہ اللہ نہ ہوتے جو ہر لمحہ ایسے شبہات کا شافی جواب دے کر ہمت بندھانے تھے تو شاید آج میں بھی پڑھا لکھا سب بھول چکی ہوتی۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے امت میں داعیات کی تعداد ضرورت سے انتہائی کم ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں