خطبہ حرم مدنی 15-02-2019 "مساجد کی تعمیر و ترقی اور اہمیت" از ثبیتی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏فروری 15, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    ﷽​
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 10 جمادی ثانیہ1440 کا خطبہ جمعہ " مساجد کی تعمیر و ترقی اور اہمیت" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالی اچھے کاموں میں مصروف رکھے اور اسے خیر کے لئے بارش کا پہلا قطرہ بنا دے یہ انسان کی کامیابی کی علامت ہے، اور مساجد کی تعمیر و ترقی بھی انہیں خیر کے کاموں میں شامل ہے، مساجد آباد کرنے والے کے لئے قرآن مجید اور سنت نبوی میں عظیم اجر بیان کیا گیا ہے، مساجد اللہ تعالی کی محبوب ترین جگہ ہے، ان کی آباد کاری کی توفیق بھی چنیدہ لوگوں کو ملتی ہے، مسلم معاشرے میں مساجد عبادت کے ساتھ تعلیم و تربیت کا مرکز بھی ہوتی ہیں، اسی بنا پر نبی ﷺ نے مدینہ آ کر سب سے پہلے مسجد تعمیر فرمائی، مسجدوں کی طرف اٹھنے والا ہر قدم نیکیوں میں اضافے اور گناہوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ مسجدوں کی صف بندی مسلمانوں کے منظم ہونے کا ببانگ دہل اعلان ہے، مسجدیں مسلمانوں کے لئے سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں، یہاں پر سب مسلمان ایک دوسرے کی بابت دریافت کرتے ہیں اور پھر ضرورت پڑنے پر باہمی مدد بھی کرتے ہیں، آخر میں انہوں نے سب کے لئے جامع دعا کروائی۔

    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کیلیے کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، اللہ تعالی نے مساجد کو اپنے ہاں بہترین جگہ اور محبوب ترین خطہ قرار دیا، میں اپنے رب کے لئے حمد و شکر بجا لاتا ہوں؛ کیونکہ اس کی نعمتوں کا شمار نہیں اور اس نوازشیں نہ ختم ہونے والی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، یہ گواہی میرے لیے فیصلے اور قیامت کے دن کام آئے گی، یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے راہِ الہی میں کما حقہ جہاد کیا اور ہمارے لیے خیر و بھلائی کا راستہ واضح فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب لوگ پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے اٹھیں گے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    اللہ کے بندو! تقوی الہی اپناؤ؛ کیونکہ تقوی بہترین زادِ راہ ہے، اہل دانش آخرت کی تیاری میں تقوی بطور زاد راہ رکھتے ہیں، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران: 102]

    انسان کو اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی کامیابی میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان کو اللہ تعالی اپنی اطاعت گزاری میں مشغول رکھے، اسے لوگوں کے کام آنے کے لئے تیار کر دے، اور اسے خیر و بھلائی کا آغاز کار بنا دے۔

    مساجد کی تعمیر و ترقی خیر و بھلائی کا کام ہے، اس کی توفیق اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما دے، اور اسے اللہ تعالی کے اس فرمان میں موجود شرف و فضیلت حاصل ہو جائے: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ} اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں نیز وہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ، یہ لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والے ہیں۔[التوبة: 18]

    مساجد کو اللہ تعالی کی محبت میں اولین درجہ حاصل ہے، بقیہ کسی بھی جگہ کو یہ شرف حاصل نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین جگہ مساجد ہیں، اور اللہ تعالی کے ہاں مکروہ ترین جگہ بازار ہیں۔) مساجد اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین جگہ اس لیے ہے کہ یہاں پر ذکر الہی، نماز، تلاوت قرآن، اذان اور علمی مجالس منعقد ہوتی ہیں، نیز کلمہ توحید کا پرچار ہوتا ہے۔ انہی مساجد سے ہی علم و عرفان کی قندیلیں روشن ہوتی ہیں، مسلمان مساجد سے ہی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تزکیہ نفس پاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ(36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ} ان گھروں [یعنی مساجد] کو بلند کرنے اور ان میں اللہ کے نام کا ذکر کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے وہاں صبح و شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرو۔ (36) جن لوگوں کو تجارت اور خریدو فروخت ؛اللہ کے ذکر ،نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔[النور: 36، 37]

    چنانچہ نبی ﷺ نے لوگوں کی زندگی میں مسجد کی اہمیت کو بھانپ لیا تھا، اسی لیے مدینہ آنے پر سب سے پہلے آپ نے مسجد کی تعمیر فرمائی، اور اس کے بعد آپ ﷺ کے خلفائے راشدین نے بھی مساجد کی اہمیت کا خوب خیال رکھا، اور اس کے لئے بہترین طریقہ کار اپنایا۔

    یہ قدم اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر کی جانب بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ اٹھتے ہیں، یہ قدم کتنے شرف والے ہیں! اور ان قدموں کی آہٹ کس قدر عظیم ہے! کہ ہر قدم ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور درجہ بلند کر دیتا ہے، جس قدر آپ کا گھر مسجد سے دور ہو گا تو آپ پر اتنی ہی زیادہ رحمت کی برکھا برسے گی۔

    اس لیے مسجد کی طرف جانے والے لوگو! آپ جتنے بھی قدم چل کر مسجد جائیں گے ہر قدم آپ کے لئے نیکی بن جائے گا، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ مسجدوں کی جانب بڑھنے والے یہ قدم تھک جائیں، یا سستی اور کاہلی کا شکار ہوں، اور انہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنائی دے رہا ہو کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص مسجد کی طرف صبح و شام بار بار آتا جاتا ہے تو جب بھی وہ صبح اور شام آتا اور جاتا ہے اللہ تعالی جنت میں اس کے لئے مہمانی تیار کر دیتا ہے۔) بخاری، مسلم

    پھر مسجد میں صفیں سیدھی ہو جاتی ہیں اور ان صفوں میں صاحب ثروت غریب آدمی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، آقا اپنے خادم سے جڑ کر صف بناتا ہے، صف میں سب کے کندھے برابر ہوتے ہیں، پاؤں ایک دوسرے کے پہلو میں برابر ہوتے ہیں؛ صرف اس لیے کہ مساوات اور برابری کا اعلی ترین مفہوم اور منظر سامنے آئے۔

    مسلمان مسجد میں ایک دوسرے سے مل کر مصافحہ کرتے ہیں، ایک دوسرے سے گھل مل جاتے ہیں، دل بھی آپس میں الفت محسوس کرتے ہیں، تو ایسے میں سب مسلمانوں میں الفت اور محبت کا دور دورہ ہو جاتا ہے، معاشرتی تفاوت مٹ جاتا ہے، اس طرح سب میں اسلامی اخوت مضبوط ہو جاتی ہے، مسجد میں اکٹھے نماز ادا کرنے کی یہ بہت عظیم حکمت ہے۔

    مسجد میں مسلمان اپنے بھائی اور پڑوسی کا حال بھی دریافت کرتے ہیں، مثلاً: کسی غریب کو مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرتے ہیں، کسی پریشان حال کی ڈھارس باندھ دیتے ہیں، کوئی مریض ہو تو اس کی عیادت کر کے درد بانٹے ہیں، کوئی یتیم ہو تو اس پر دست شفقت دراز کر کے اس کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں۔

    مسجد میں نمازیوں کا اجتماع یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ امت نظم و نسق کے ساتھ رہنے والی امت ہے۔

    چند رکعات معمولی جسمانی حرکتیں، شرعی الفاظ اور بول کے ساتھ منظم صفوں میں ادا کی جاتی ہیں کہ جب امام رکوع کرے تو مقتدی بھی رکوع کرتے ہیں، اور جب سجدہ کرے تو مقتدی بھی سجدہ کرتے ہیں، تمام مقتدی کسی بھی قولی یا فعلی عبادت میں آگے نہیں بڑھتے۔

    یا اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر متحد فرما دے، ہمیں تیری کتاب قرآن مجید پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور سنت نبوی سے ہمیں سنوار دے، اور ہمارے گناہوں کو بخش دے، بیشک تو ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    اللہ تعالی کے لئے بے حد و حساب حمد و ثنا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے بندے ،چنیدہ اور برگزیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل ،صحابہ کرام اور تمام متبعین سنت پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

    مسجد کی آباد کاری جس طرح مضبوط عمارت بنانے سے ہوتی ہے اسی طرح وہاں پابندی کے ساتھ دلوں کی ایمانی آبیاری سے بھی مسجدیں آباد ہوتی ہیں۔

    اللہ کے بندو!

    رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

    اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

    یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا ہمارے ملک کے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے، یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

    یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

    یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم تجھ سے دائمی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں جن میں کبھی تبدیلی یا کمی تک نہیں آئے گی۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

    یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرما اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

    یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

    یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، ہماری زبان کو صحیح سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما۔

    یا اللہ! توں ہی معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔

    یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے وہ سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔

    یا اللہ! مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! ہمارے سب معاملات خود ہی سنبھال لے، یا اللہ! ہمارے والدین کی مغفرت فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے!

    یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم ناتوانی، سستی، بزدلی، بخیلی ، بڑھاپے، قرضوں کے بوجھ، اور لوگوں کے دباؤ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

    یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

    {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}[البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

    تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. اظہر عطاء

    اظہر عطاء رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 2, 2016
    پیغامات:
    10
    ماشاء اللہ اللہ تعالی آپ کے علم و عمل میں برکت فرمائے اللہ آپ سے اپنے دین کی خدمت اور زیادہلیں
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    آمین۔ جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    550
    ماشاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    آمین، جزاکم اللہ خیرا
     
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    بارک اللہ فیکم، شکریہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں