خطبہ حرم مکی ہر موقع کو غنیمت جانو از فضلیۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد معیقلی ۔۔۔ 08 فروری 2019

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏فروری 17, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    496
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضلیۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد معیقلی
    جمعۃ المبارک 3 جمادیٰ الآخرۃ 1440ھ بمطابق 8 فروری 2019
    عنوان: ہر موقعے کو غنیمت جانو!
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    بشکریہ: عمر وزیر

    پہلا خطبہ:

    الحمد للہ۔ یہ اسی کی نعمت ہے کہ بندوں کی نیکیاں قبول ہوتی ہیں، انہیں بار بار خیر وبرکت کے مواقع ملتے ہیں، تاکہ ان کے درجات بلند ہو جائیں اور ان کے گناہ مٹ جائیں۔ درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ پر، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شرح صدر عطا فرمایا، آپ کے بوجھ کو ہلکا کیا اور آپ کا ذکر بلند فرمایا۔ اللہ کی رحمتیں، سلامتیاں اور برکتیں ہوں آپ ﷺ پر، نیک اہل بیت پر، پاکیزہ صحابہ کرام پر اور جب تک دن اور رات کا سلسلہ جاری ہے، ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

    بعد ازاں! اے مؤمنو!
    اللہ تعالیٰ نے اگلوں اور پچھلوں کو یہی نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے بلند وبالا الٰہ سے ڈرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پرہیزگاری ہی عزت، کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ جو اس پر قائم رہتا ہے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا اور جو اسے چھوڑ دیتا ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

    ’’اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی‘‘
    (المائدہ: 100)

    اے امت اسلام!

    اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو پیدا فرمایا۔ انہیں زمین کو آباد کرنے اور اسے بہتر بنانے کا حکم دیا۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘
    (ہود: 61)

    بسانے میں ہر نفع بخش اور فائدہ مند چیز کی فراہمی شامل ہے، چاہے وہ چیز افراد کے لیے مفید ہو یا گروہوں کے لیے۔ جیسے زراعت، صناعت، عمارتیں بنانا اور گھر تعمیر کرنا، دفاعی اسباب اور طاقت کے ذرائع اپنانا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ہر وہ چیز فراہم کی ہے جو زمین میں بسنے کے لیے ضروری ہے۔ اس نے لوگوں کو اپنی ظاہر اور پوشیدہ نعمتیں کھول کر عطا فرمائی ہیں۔ کامیابی اور نجات کے مواقع عطا فرمائے ہیں۔ صاحب توفیق وہی ہے، جو ان مواقع کو غنیمت جانتا ہے، ان سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدگی اور محنت دکھاتا ہے، اپنا بھی بھلا کرتا ہے اور اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ بھی ڈالتا ہے اور اپنی امت کو سربلند بھی کرتا ہے۔

    اللہ کے بندو!
    یہ مواقع قربِ الٰہی اور فرمان برداری کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، ایسے کاموں کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں جن کا فائدہ سب کے لیے عام ہو، ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ ڈالنے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، اعلیٰ مرتبے پانے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، جنہیں معاشرے اور ملک کی خدمت کے لیے وقف کیا جا سکتا ہو یا اسلام اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود میں لگایا جا سکتا ہو۔

    بلند ہمت والا وہی ہے جو اپنے لیے خود مواقع پیدا کرتا ہے۔ وہ ان کے انتظار میں نہیں بیٹھا رہتا کہ کب وہ اس کے دروازے پر دستک دیں گے۔ بلکہ وہ انہیں پانے میں خود پیش قدمی کرتا ہے۔ چاہے یہ مواقع دنیاوی اعتبار سے فائدہ مند ہوں یا آخرت کے حوالے سے۔

    مُصَنَّف ابن ابی شیبہ میں ابن مسعود ﷜ کی روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اس نکمے شخص کو سخت نا پسند کرتا ہوں جو نہ دنیا کے لیے کچھ کرتا ہے اور نہ آخرت کے لیے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسولوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے‘‘
    (الانبیاء: 90)

    یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور کسی ایسے نیک کام کو نہیں چھوڑتے تھے جسے وہ کرنے پر قادر ہوں۔ وہ ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

    یہ ہیں اللہ کے نبی موسی ﷤۔ جب رب العالمین کے ساتھ ہم کلام ہونے کے بعد انہیں شرح صدر نصیب ہو گیا اور وہ جان گئے کہ جس کے ساتھ وہ مخاطب ہیں وہ رب الارباب ہے۔ تو انہوں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ دعا کی کہ:
    ’’پروردگار، میرا سینہ کھول دے (25) اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے (26) اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے (27) تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں (28) اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے (29) ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے (30) اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر (31) اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے‘‘
    (طٰہٰ: 25-32)
    تو اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا۔
    ’’فرمایا “دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ‘‘
    (طٰہٰ: 36)

    جب زکریا مریم کے پاس گئے تو وہ عبادت کے لیے تنہائی میں بیٹھی تھیں۔ ان کا نہ کوئی کمائی کا ذریعہ تھا اور نہ ہی کوئی تجارت تھی۔ اس کے باوجود ان کے پاس بے موسم پھل موجود تھا۔
    پوچھا کہ ’’مریم! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ اس نے جواب دیا اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے‘‘
    (آل عمران: 37)
    جب انہوں نے اللہ کے فضل اور رحمت الٰہی کا اثر دیکھا تو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں نیک بیٹا عطا فرمائے کیونکہ جو مریم کو ذریعۂ کمائی کے بغیر بھی رزق دے سکتا ہے وہ بوڑھے انسان کو بیٹے سے بھی نواز سکتا ہے۔

    ’’یہ حال دیکھ کر زکریاؑ نے اپنے رب کو پکارا پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے (38) جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ اللہ تجھے یحییٰؑ کی خوش خبری دیتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے و الا بن کر آئے گا اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہو گی، کمال درجہ کا ضابط ہو گا نبوت سے سرفراز ہو گا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا‘‘
    (آل عمران: 38-39)

    ایک تیسرا موقع، جو کہ بڑا ہی عجیب ہے، اللہ کے نبی سلیمان ﷤کا قصہ ہے۔ جب گھوڑوں کی وجہ سے وہ ذکرِ اور شام کی نماز سے غافل ہو گئے تو انہیں سخت ندامت ہوئی اور انہوں نے تقرب الٰہی کے لیے وہی چیز کی قربانی دے دی جس نے انہیں غافل کیا تھا۔ آپ نے ان سب گھوڑوں کو قربان کرنے کا اور ان کا گوشت صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ آپ نے ندامت وتوبہ کے اس موقعے کے ساتھ ساتھ رحمت الٰہی کے نزول کو بھی غنیمت جانا۔ دعا کی کہ:
    ’’اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو ہی اصل داتا ہے‘‘
    (صٰ: 35)
    اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں بہتر نعم البدل نصیب فرمایا۔
    ارشادِ ربانی ہے:

    ’’تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا (36) اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور (37) اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے (38) یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں (39) یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے‘‘
    (صٰ: 36-40)

    رہی بات ہمارے نبی کی، اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ تو مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بہترین نمونہ تھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور موقع ملا تو فورًا ہی ذمہ داریوں کو تقسیم کر دیا۔ خصوصی قابلیت اور صلاحیتوں کے مالک کو آگے کیا اور ان کے لیے مواقع پیدا کیے، بلال ﷜کو اذان کی ذمہ داری سونپی، خالد بن ولید ﷜ کو تلوار سے دین کی مدد میں لگایا، شعر وادب سے دین کی نصرت میں حسان کا کردار زیادہ رہا۔ اللہ تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جائے۔

    ایک روز رسول اللہ ﷺمدینہ کے بازار سے گزرے۔ لوگ خرید و فروخت میں مصروف تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے مناسب سمجھا کہ لوگوں کے لیے دنیا کی حیثیت واضح کی جائے۔ ناقص خلقت والے بکری کے مردہ میمنے کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اٹھایا اور اس کا کان پکڑ کر فرمایا کہ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں خرید لے۔ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں خرید لے۔ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں خرید لے۔ لوگوں نے کہا ہم تو اسے مفت بھی نہ لیں۔ یہ ہمارے کس کام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ مفت میں آپ کا ہو؟ لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو بھی یہ عیب والا تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں۔ اب تو یہ مردہ بھی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جتنا آپ کو یہ بے حیثیت لگ رہا ہے، اللہ کے ہاں دنیا کی اتنی حیثیت بھی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! جتنا آپ کو یہ بے حیثیت لگ رہا ہے، اللہ کے ہاں دنیا کی اتنی حیثیت بھی نہیں ہے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

    مسند امام احمد میں ہے کہ ایک روز سیدنا ابن مسعود ﷜ درخت پر چڑھے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک مسواک توڑ کر لے آئیں۔ آپ کی ٹانگیں کمزور سی تھیں اور جب ہوا چلی تو وہ دائیں بائیں ہلنے لگے۔ یہ دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کس چیز پر ہنس رہے ہو؟ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! ان کی ٹانگوں کی کمزوری پر۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہی ٹانگیں میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔

    یہاں رسول اللہ ﷺ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے لوگوں کو یہ بتا دیا کہ قیامت کے دن لوگ اپنی شکلوں اور جسامت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بہتر نہیں بنیں گے بلکہ اپنی نیکی اور اپنے اعمال کی بدولت ہی وہ بہتر بن سکیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ شکلوں، رنگوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔

    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو ہو گا تو بڑا موٹا تازہ اور جسیم مگر اللہ سے یہاں اسے مکھی کے پَر سے بھی کم حیثیت حاصل ہو گی۔ پھر فرمایا کہ یہ آیت پڑھو:
    ’’قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے‘‘
    (الکہف: 105)

    موقع کو غنیمت جاننے کی ایک مثال وہ بھی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس ﷠کی روایت میں آتی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ ستر ہزار لوگ بغیر کسی حساب یا عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ تو عُکّاشَہ بن مِحْصِن ﷜ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں شامل فرما دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اسے اُن میں شامل فرما دے۔ پھر ایک اور انصاری صحابی اٹھے اور انہوں نے بھی کہا کہ اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کردے۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: عکاشہ سبقت لے گیا۔ عکاشہ سبقت لے گیا۔

    اے میرے با برکت بھائی! ذراغور کر کہ عکاشہ ﷜ نے کس طرح پیش قدمی کی اور موقع کو غنیمت جانا۔ پھر ایک ہی لمحے میں، جی ہاں! ایک ہی لمحے میں وہ جنت کو بغیر حساب اور عذاب کے پانے میں کامیاب ہوگئے۔

    اے مسلمانو!
    نیکی کا ہر موقع غنیمت ہے۔ چاہے وہ بہت چھوٹا اور بظاہر بے وزن ہی کیوں نہ ہو؟ آگ سے بچنے کی کوشش کرو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے۔ جسے یہ بھی نہ ملے وہ لوگوں نے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے۔

    صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص جنت کی نعمتوں میں مزے کر رہا ہے، صرف اس لئے کہ اس نے ایک ایسے درخت کو راستے سے ہٹا دیا تھا جو ہر آتے جاتے مسلمان کو اذیت دیتا تھا۔

    اے مومن بھائیو!

    یاد رکھو کہ کچھ مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا دوبارہ میسر آنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ان میں سے ایک موقع والدین کی زندگی ہے۔ والدین کی زندگی ۔ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ اگر چاہو تو اس دروازے کی حفاظت کرو اگر چاہو تو یہ موقع بھی گنوا دوں۔

    صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ذلیل و رسوا ہو! پھر ذلیل و رسوا ہوا! پھر ذلیل و رسوا ہوا۔ کہا گیا: کون؟ اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: جسے بڑھاپے کی حالت میں دونوں والدین مل جائیں یا دونوں میں سے ایک مل جائے اور پھر بھی وہ جنت میں نہ جا سکے۔

    افسوس ہے اس شخص پر کہ جس نے والدین کی موجودگی کو غنیمت نہیں جانا اور اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اب اس کے والدین اس کے پاس نہیں رہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کی خوشنودی والدین کی خوشنودی میں ہے اور اس کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے۔

    میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔
    ’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی (133) جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں‘‘
    (آل عمران: 133-134)

    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے۔ اس میں آنے والی آیات الذکر حکیم سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالی سے اپنے لئے اور آپ کے لئے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:

    ہر طرح کی حمد و ثنا اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ خطبہ کی حمد و ثنا اللہ تعالی ہی کے لئے ہے جو پروردگار عالم ہے۔
    ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا، تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی‘‘
    (الملک: 2)

    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺاللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے اللہ کی یوں عبادت کی جیسے عبادت کرنے کا حق تھا، یہاں تک کہ آپ کی رخصتی کا وقت آگیا۔ اللہ کی رحمت، برکت اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

    بعد ازاں! اے مومنو!
    انسان کی زندگی ہی اس کے لیے سب سے بڑا موقع ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ دیکھے، اگر وہ نیک عمل کر رہا ہے تو وہ مزید نیک عمل کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ گناہ کررہاہے تو توبہ کر لے اور اللہ کی طرف رجوع کر لے۔

    مستدرک امام حاکم میں صحیح سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت اور تندرستی کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقر و فاقہ سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

    انسان اپنی زندگی میں جتنا سنجیدہ ہو گا، جتنا اپنی خواہشات اور شہوات سے دور ہو گا اتنا ہی وہ موقع سے فائدہ اٹھانے والا ہوگا اور اس طرح وہ دوسروں سے آگے نکل جائے گا۔
    فرمان الہٰی ہے:
    ’’اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں (10) وہی تو مقرب لوگ ہیں (11) نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے‘‘
    (الواقعہ: 10-13)

    یہ اللہ تعالی کی مہربانی ہے کہ اس نے زندگی کے آخری لمحے تک مواقع موجود رکھے ہیں۔

    مسند امام احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اگر وہ اٹھنے سے پہلے اسے لگا سکے تو لگا کر ہی اٹھے۔

    تو اے اللہ کے بندے! اے اللہ کے بندے! مواقع ختم ہونے سے پہلے ان سے فائدہ اٹھا لو۔ یاد رکھو کہ مواقع نعمتیں ہیں اور نعمتیں، اگر چھین لی جائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ پھر کبھی نہ دی جائیں۔ ابن القیم ﷫ فرماتے ہیں:

    جس شخص کو اللہ تعالی نیکی کا کوئی موقع عطا فرمائے اور پھر وہ اس کا فائدہ نہ اٹھائے تو اللہ تعالی اسے یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے دل اور ارادے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے ارادے کا مالک نہیں رہتا۔

    ’’جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے‘‘
    (الانفال: 24)
    جو اپنی سستی اور کاہلی کو اپنائے رکھتا ہے اور خود مواقع ضائع کرتا جاتا ہے تو اسے ایسے وقت میں ندامت کا سامنا ہوگا جس وقت اسے ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

    ’’اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟ (23) وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا!‘‘
    (الفجر: 23-24)

    تو اے میرے بھائی! موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو اور اسے ضائع مت کرو۔ کیوں کہ عزت اسی میں ہے کہ مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ عمر کے پہلے حصے کو غنیمت جان کراس سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ جب یہ بڑھاپے کے ساتھ بڑھتی جائے گی تو کم ہوتی جائے گی۔

    اے مومنو!
    یاد رکھو کہ اللہ تعالی نے آپ کو ایک عظیم حکم دیا ہے۔ جس میں پہلے اس نے اپنا ذکر کیا ہے۔ فرمایا:
    ’’ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
    (الاحزاب: 56)

    اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

    اے اللہ! خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا۔ تمام صحابہ اور تابعین سے اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ شرک اور مشرک و رسوا فرما۔ دین کے مرکز کی حفاظت فرما! ہمارے ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرما۔

    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما۔

    اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملے کا دارومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہماری کمائی ہے۔ اور ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے بچنے کا سبب بنا۔

    اے اللہ! زوال نعمت سے، عافیت کے خاتمے سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

    اے اللہ! اے زندہ جاوید! اے زندہ جاوید! سرزمین حرمین کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس کی حفاظت فرما اور اس کی نگہبانی کرنا۔ اے اللہ! اس کی امن و سلامتی اور اس کا سکون و چین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم فرما۔

    اے اللہ! اے قوت اور طاقت والے! اے رب ذو الجلال! جو سرزمین حرمین کے خلاف کوئی چال چلے، اسے اپنی ہی تدبیر و میں ہلا ک کر دے۔

    اے اللہ! خادم حرمین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہو تا ہے۔ اسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرما۔ اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے جن میں ملک و قوم کی فلاح و بہبود۔

    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے تمام مسلمان حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی ہوتا ہے۔

    اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے سرحدوں پر تعینات فوجیوں کو نصرت عطا فرما۔ اے اللہ! سرحدوں پر تعینات فوجیوں کو نصرت عطا فرما۔ اے اللہ! سرحدوں پر تعینات فوجیوں کو نصرت عطا فرما۔

    اے اللہ! اے پروردگار عالم! اپنی رحمت سے زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور عورتوں اور مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما!

    ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے‘‘
    (الحشر: 10)

    ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘
    (الاعراف: 23)

    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘
    (البقرۃ: 201)

    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں (180) اور سلام ہے مرسلین پر (181) اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘
    (الصافات: 180-182)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,448
    جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں