مولانا محمد اسحاق بھٹی اور ان کی خدمات

صادق تیمی نے 'مسلم شخصیات' میں ‏فروری 19, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    27
    صادق تیمی
    خدمت قرآن و سنت میں جن شخصیا ت کی نمایا ں خدمات سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی ان میں عظیم المرتبت شخصیت، برصغیر پاک وہند کے مشہور اہل قلم اور مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی کا نام سرفہرست آے گا ۔ بھٹی صاحب نے تصنیف وتالیف ، تاریخ، صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں ایک منفرد نام پیداکیا او رشہرت دوام حاصل کی ہے ۔وہ بلا شرکت غیر عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ، بلند پایہ مصنف او رخاکہ نویس تھے ۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ، علمی ، ثقافتی ، ادبی ، تاریخی اور سیر وسوانح پر کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر آکر لوگوں سے داد وتحسین حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کی تحریر وں میں حد درجے کی شگفتگی وشادابی ، خوش خرامی ورعنائی ، خوش نمائی وحسن اور سلاست پائی جاتی ہے ۔ان کا اسلوب نگار ش دل نشیں ہے۔ بلا شبہ بھٹی صاحب کو علم وفضل او رعمل وکردار کی بہت سی خوبیوں سے اللہ تعالیٰ نے مالاما ل کیا تھا ۔ مثلاً اخلاق وعادات ، خلوص ومحبت ، انسان دوستی ، ملنسار ی وہمدردی ، غمگساری وغمخواری ، مہمان نوازی ، سادگی او رمروت میں مثالی شخصیت تھے ۔ ان کی خوش طبعی ، بذلہ سنجی ، اور باغ وبہار شخصیت دوسرے کو متاثر کرتی تھی ۔ ساتھ ساتھ فخر وغرور ، تکبر وگھمنڈاور نخوت ورعونت سے مبرہ ومنزہ شخصیت تھی ۔ان کی خدمات مع مختصر خاکہ ذیل میں لکھی جا رہی ہے۔ملاحظہ ہو :
    نسب نامہ : محمد اسحاق بن عبدالمجید بن محمد بن دسوندھی بن منصور بن خزانہ بن جیوا ۔
    ولادت : آپ کی پیدائش ۱۵؍ مارچ ۱۹۲۵ء کو مشرقی پنجاب فرید کوٹ ریاست کے مقام کو ٹ کپورہ میں ہوئی ۔
    خاندانی پس منظر : بھٹی صاحب اپنے خود نوشت حالات میں لکھتے ہیں کہ میاں جیوامشرقی پنجاب کے سابق ریاست پٹیالہ کے ضلع برنالہ کے ایک قصبہ’’ ہنڈایا‘‘ کے رہنے والے تھے اورا پنے زمانے کے مہاراجہ پٹیالہ کے درباری تھے ۔ پھر تقسیم ملک کے بعد آپ کے خاندان کے اکثر لوگ ضلع لائل پور میں موجود ہ ( ضلع فیصل آباد) کی تحصیل ’’ جڑواں والا ‘‘ کے ایک گاؤں چک نمبر ۵۳ میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ او رباقی کچھ لوگ ’’ بورے والا‘‘ ( ضلع وہاڑی) او راوکاڑکے علاقہ میں چلے گئے تھے لیکن اکثر لوگ چک نمبر ۵۲گ، ب میں مقیم رہے ۔ مگر زیادہ تر لوگ چک نمبر ۵۳گ، ب اور گجرانوالہ شہر میں مقیم ہیں ملازمت او رکاروبار وغیرہ کے سلسلے میں البتہ متعدد گھرانے فیصل آباد اسلام پور ،لاہور او ردیگر مقامات پر سکونت پذیر ہیں ۔ لیکن ان میں بعض کی تھوڑی زرعی زمینیں اور مکانات وغیرہ چک نمبر ۵۳گ، ب میں ہیں ۔
    تحصیل علم : آپ نے پانچ سال کی عمر میں اپنے دادا محمد میاں صاحب سے ناظرہ قرآن ، دنییات او راردو پر مشتمل چند ابتدائی ونبیادی کتابیں پڑھیں او ر تختی پرلکھنے کی تدریب وتمرین او رمشق شروع کردی ۔ پھر پرائمری اسکول میں داخل ہوے جہاں آپ نے چوتھی جماعت پاس کی اس کے بعد آپ کے دادا نے آپ کو عطاء اللہ محمد حنیف بھوجیانی ( م۱۹۸۷ء) کے حلقہ درس میں داخل کیا ۔ جہاں آپ نے صرف ونحو ، منطق وفلسفہ ، تفسیر وحدیث او ر فقہ وعقائد وغیرہ جیسے علوم متداولہ کی تکمیل کی ۔ ان کے علاوہ آپ نے حافظ محمد گوندلوی (م۱۹۸۵ء) اور حضرت مولانا امحمد اسماعیل سلفی گجرانوا لہ ( م۱۹۶۸ء) جیسے علمی شخصیات کے سامنے زانواے تلمذ تہہ کیا ۔ ان کے علاوہ آپ نے سید محمد داؤد غزنوی او رمحمد حنیف ندوی ( م۱۹۸۷ء) جیسے معتبر او رجید علما سے استفادہ کیا ۔ تحصیل علم کے لیے آپ مرکز الاسلام ’’ لکھوکے ‘‘ میں بھی مولانا عطاء اللہ مرحوم کی خدمت میں رہے او ردوسال جامع مسجد گنبد فیروز پو ر میں بھی زیر تعلیم رہے ۔ ۱۹۴۰ء میں مولانا عطاء اللہ حنیف صاحب کے حکم پر گوجراں والا کا رخ کیا او ردوسال مولانا حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ او رمحمداسماعیل سلفی کی خدمت میں رہ کر بخاری ومسلم او ربعض دیگر کتب پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی ۔
    علمی خدمات: تعلیم سے فراغت کے بعد ۱۹۴۲ء میں آپ نے ایک سال ہیڈ سلیمان کی محکم فہرمیں بطور کلرک سرکاری ملازمت کی ۔ ۱۹۴۳ء میں قریب ایک سال تک ہندوستان کے مختلف شہر وں کی سیر وسیاحت کی اپریل ۱۹۴۳ء تاجولائی ۱۹۴۷ء مرکز اسلام کے جامعہ محمدیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ اسی اثناء میں ۱۹۴۵ء میں ریاست فریدکوٹ میں ایک سیاسی جماعت سیر وجامنڈل ‘‘ قائم ہوئی جس کے صدر گیانی ذیل سنگھ ( م ۱۹۹۵ء) تھے جو آزادی کے بعد ہندوستان کے منصب صدارت پر فائزہوے ۔ اسی جماعت نے آزادی کی تحریک شروع کی توبھٹی صاحب نے بھی اسی میں بھر پو رحصہ لیا او ر اپنے تیرہ مسلمان ہندو او رسکھ کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتا ر ہو ے او رفرید کوٹ جیل میں قید کردئے گئے اس سے پہلے آپ ۱۹۳۹ء میں کچھ عرصہ فیروز پو رجیل میں رہے ۔ یعنی آپ آزادی ملک کی خاطر دومرتبہ جیل بھی گئے ۔
    ۱۹ ؍ اگست ۱۹۴۹ء کو گوجراں والا سے ہفت روز ہ ’’ الاعتصام ‘‘ کا اجرا ہوا ۔ جس میں مولانا محمد حنیف ندوی مدیر تھے او ربھٹی صاحب معاون مدیر تھے اور ۔ اس کے بعد آپ نے جنوری ۱۹۵۸ء کو’’ الاعتصام ‘‘ کی ادارت سے علیحدہ ہو کر چند مخلص دوستوں واحباب کے تعاون ومدد سے لاہو ر سے سہ روزہ ’’ منہاج‘‘ جاری کیاپھر اس کے کچھ دنوں بعد ہفت روزہ ’’ توحید ‘‘ جاری کی ۔ بھٹی صاحب ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۶۵ء جو ادارہ ثقافت اسلام سے منسلک ہوگئے او ران کے بقول ادارہ ثقافت اسلامیہ ان کے لیے علاوہ غیرنہ تھا ۔یہا ں رہ کر آپ قلم وقرطاس سے والہانہ لگاؤ وتعلق او رربط ہونے کی وجہ سے آپ نے مختلف موضوعات پر خوب لکھا بطور خاص تاریخ وتذکرے اور سیر وسوانح کے باب میں برصغیر میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ۔ آپ نے گزشتہ ساٹھ برس میں سینکڑوں کتابوں پر تبصرے لکھے جو اشاعت پذیر ہوے جن کا شمار ممکن نہیں ۔ آپ نے جو تحریر کیے ۔ مختلف اخبارات ورسائل میں لاتعداد مضامین لکھے جو اشاعت پذیر ہوے جن کا شمار ممکن نہیں ۔آپ نے جوخامہ فرسائی کی اس کی شکل ونوعیت کچھ اس طرح ہے ۔ (۱) تصانیف وتراجم (۲) اخباری مضامین ومقالات (۳) اخباری ادارے اور شذرات ( ۴) کتابوں پر تبصرے (۵) بہت سی کتابوں کے مقدمات (۶) ریڈیواو رٹیلی ویژن کی ۳۴۔۳۵ سال کی تقریروں کے بے شمار صفحات او رمتعدد کتابوں کی ایڈیٹنگ ( ادارت ) بھی ۔ بھٹی صاحب نے فقط قلم وقرطاس سے ہی خدمت دین ، نصرت اسلام ، اعلاء کلمۃ اللہ کا فریضہ ادا نہیں کیا بلکہ انہو ں نے زبان وبیان سے بھی اسلامی تعلیمات ، قوانین وضوابط ، اصول ومبادی اوراحکام شرعیہ کو دوسروں تک رسائی کی ۔ آپ نہ تو بلند آہنگ خطیب تھے او رنہ شعلہ بیان مقرر، او رنہ جلئی مولوی ، بنیادی طو رپرآپ ایک لکچر رتھے ۔متانت وسنجیدگی او ر عذوبت لسان ان کا شیوہ تھا۔ آپ نہایت پیارے اسلوب او رحکیمانہ انداز تکلم سے اپنی مافی الضمیر کا اظہار بڑی خوبصورتی سے کرتے تھے ۔ آپ نے ریڈیو پاکستان لاہو ر کی فرمائش پر علامہ قاضی سلیمان منصورپوری (م۱۹۳۰ء)کی مایہ ناز کتاب رحمۃ للعالمین کی تینوں جلدوں کی تلخیص اردومیں پیش کی ۔ پھر کچھ دنو ں کے بعد یہی ملخص نسخہ پنجابی زبان میں نشر ہوا ۔ بھٹی صاحب کے قلم کی جولانی کا ایک عظیم مظہر چوتھی صدی ہجری کے نامور مؤرخ او رمحقق محمد بن اسحاق ندیم کی ضخیم تصنیف ’’ الفہرست‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کتاب میں مصنف نے چوتھی صدی ہجری تک کے تمام علوم وفنون ، شخصیات ورجال ، کتب سماویہ خصوصاً نزول قرآن ، اس کی جمع وتدوین ، قراء ، قرآن مجید دیگر علوم وفنون ، ادب انشاء فصاحت وبلاغت ، حدیث وفقہ ، علم صرف ونحو ، طب وحکمت ، کمیا گری کی صنعت ، علم عروض فن شاعری وجادو گری ، شعبدہ بازی ، ان تمام علوم کے فاضل ماہرین او ران کی تصانیف او رایجادات ، فقہاومحدثین ، مورخین او ران کے مختلف النوع کوائف کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جن کو بھٹی صاحب نے کدوکاوش ، محنت ومشقت ، جواں مردی وہمت او رباعث رضاے الٰہی سجھ کر خامہ فرسائی کی ۔ آپ کی تصنیفات میں سے ایک مشہو رکتاب ’’ فقہاے ہند‘‘ جو دس جلدوں کا احاطہ کیے ہوے ہے معرکہ آرا تصنیف ہے ۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کا متحدہ ہندستان کے علماوفقہا ،اصحاب تصوف وطریقت او ر اعاظم رجال کے حالات وکوائف ، سیر وسوانح اور ان کی علمی ، عملی ، دینی ، سیاسی او رتصنیفی وتدریسی کدوکاوش کا نہایت مؤدبانہ ومہذبانہ او رمؤرخانہ انداز میں تذکرہ کیاگیا ہے ۔ یہ وہ خدمات جلیلہ ہیں جن میں ان کا دوردور تک کوئی نظیر ومثیل او رثانی نظر نہیں آتا ۔
    آپ کے علمی کا رناموں پر تقریبات اور شیلڈ: آپ کی اس عظیم علمی خدمات کے حوالے سے آپ کے متعلق سات آٹھ مقالات پر تقریبات منعقدہوئیں جس میں آپ کی خدمات کو سراہتے ہوے آپ کو شیلڈایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ۱۲؍ اگست ۲۰۰۵ء کو گجرات کے صوفی ریسٹو رینٹ ہال میں جناب عمران سعود ( وزیر تعلیم ) پنجاب کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ۳؍ جولائی ۲۰۰۸ء کو ایک تقریب ہوئی جس میں کویتی اورکویت میں رہنے والے ہندوستانی اور پاکستانی علماے کرام نے خطاب کیا او رآپ کو تحریری خدمات کی بناپر ’’مؤرخ اہل حدیث‘‘کا خطاب دیاگیا۔ او رشیلڈ بھی پیش کی گئی ۔ ۱۴؍ جولائی ۲۰۰۷ء کو ہندستان میں ایک اور تقریب منعقد ہوئی جس میں آپ کے لیے’’ عبد الجبار فریوائی ‘‘ایوارڈ مقررکیا گیا ۔ لیکن آپ کے ہندستان نہ آنے کی وجہ سے حضرت مولانا اصغرعلی امام مہدی المدنی ( ناظم جمعیت اہل حدیث ہند) نے وصول کیا ۔(سالانہ میگزین احتساب :۱۷۔۲۰۱۶ء)
    آپ کے متعلق قلم کاروں کی آرا : آپ کی جانکاری پر بہت سارے لوگوں نے مضامین ومقالات لکھے۔ مولانا شاہ پھلواروی کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ ’’جناب محمد اسحاق ، جو دوستی میں محض او رخالی ازنفاق ہیں ، نہ خود ساختہ لیڈرو ں کی طرح صاحب طمطراق ہیں نہ کھرے وہابیوں کی طرح بدمذاق ہیں ۔ اپنے کاموں کے ماہرومشتاق ہیں اداے قرض میں چوبندہ وچاق ہیں خو دہی انفس او رخودہی آفاق ہیں ۔ یاتو نی نہ لیاق ہیں ۔ بلکہ پابند مواعید ومیثاق ہیں مسلکاً وہابی او رمزاجاً درویشوں کی طرح صاحب انفاق ہیں نہ حریص زرہیں نہ نشانہ املاق ہیں ۔ حساب وکتاب میں بھی بے باق ہیں ۔ ہرزہر کے تریاق ہیں مگر بے نیاز از عراق ہیں متوجہ إلی الخلاق ہیں ۔ متوکل علی الرزاق ہیں ۔ مختصر یہ کہ مخلص چلی الاطلاق ہیں ۔ (محمد اسحاق بھٹی : حیات وخدمات محمد رمضان یوسف سلفی ،ص:۱۲۳)۔ ایک خاتون پر وفیسر ’’ فوزیہ سحر‘‘ نے پنجاب یونیور سٹی کی طرف سے ’’ محمد اسحاق بھٹی کی خاکہ نگاری ‘‘ کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ لکھا ۔ اس طرح ابو انس سرورصاحب نے بھی ایک مقالہ’’ محمد اسحاق بھٹی فقہا ہند کے تناظر میں ‘‘ کے عنوان سے لکھا او رڈگری حاصل کی کویت کے ایک عربی زبان میں شائع ہونے والا مجلہ ’’ أمتی ‘‘ میں ۲۰۰۸ء میں صلاح الدین مقبول احمد المدنی حفظہ اللہ کامضمون ’’ أعلام العصر الحاضرالاستاذ محمد اسحاق بھٹی مؤرخ القارۃ الھندےۃ والباکستانےۃ ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ قرطاس کی تنگ دامنی کو دیکھتے ہوے میں صرف اسماے قلم کا رکودرج کردینا مناسب سمجھتا ہوں : علی ارشد چودھری مرحوم فیصل آباد ، مولانا عبدالعظیم انصاری ، آباد شاہ پوری ، صاحبزادخورشید گیلانی مرحوم ، ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری ، پروفیسرڈاکٹر سفیر اختر ، جناب عصمت اللہ قلعوی مولانا عبدالمعید عبدالجلیل ،مولانا صلاح الدین مقبول احمد ،محمد انور محمد قاسم سلفی وغیرہم۔
    وفات: شہنشاہ قلم وقرطاس ، صاحب طرزادیب ، مورخ فخر زمانہ تحقیق کا دیوانہ دانش وپینش کا خزانہ مطلع خاکہ نگاری کا آفتاب ،مصنف صحافی ،مبصر، تذکرہ نگار ،متحیر عالم ہونے کے ساتھ مخلص وفعال رہنما ۲۲؍ دسمبر بروز منگل ۲۰۱۵ء کی صبح کو عالم اسلام کو داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو لبیک کہی ۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس عظیم علمی خدمات کوشرف قبولیت فرمائے او ردخول جنت کا باعث بناے ،(آمین)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,312
    جزاک اللہ خیرا
    آمین یارب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں