پیٹیم کا کیش بیک شرعی نقطہ نظر سے

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 26, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    754
    پیٹیم کا کیش بیک شرعی نقطہ نظر سے
    تحریر:مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

    انٹرنیٹ کے زمانے میں اکثر تجارت اسی سے جڑ گئی ہیں ، لین دین کا انحصارتو اب سوفیصداس پرہوگیا ہے اور خریدوفروخت کے میدان میں انٹرنیٹ نے کافی سہولیات فراہم کردی ہے ۔ گھر بیٹھے مرضی کا سامان دستیاب ہوجاتا ہے اور آمدورفت کی مشکلات واخراجات بچنے لگے ۔

    انٹرنیٹ سے جڑے موبائل کا ایک اپلیکیشن پیٹیم (Paytm) اس وقت بڑی مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔ پیٹیم نہ کوئی بنک ہے ، نہ تجارتی کمپنی ہے اور نہ ہی مالیاتی ادارہ ہے، یہ محض ایک اپلیکیشن ہے۔ اس کے بنانے والے نے اس ایپ کو مختلف بنکوں، تجارتی اداروں، آن لائن خریدوفروخت اورلینڈلائن،موبائل ، ریجارچ،بجلی ، ٹکٹ(ٹرین، بس،جہاز)، ٹی وی،سنیما، فیشن، ہوٹل، گیس،دوا،علاج،انٹرٹینمنٹ،گیم،بیمہ، چیریٹی آفس وغیرہ سے مربوط کرکے ان کاموں کو اس ایک ایپ سے کرنا آسان کردیا ہے ۔ حقیقت میں اس ایپ سے ہزاروں قسم کے مالیاتی، تجارتی اور معاملاتی ادارے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، ان میں کتنے غیرشرعی ادارے اور غیرشرعی عوامل موجود ہیں ۔

    یہاں سوال یہ ہے کہ پیٹیم اپنے ایپ سے ٹرانجیکشن کرنے پر کیش بیک یعنی کچھ پیسہ واپس دیتا ہے۔ اس پیسے کا حاصل کرنا یا لیکر استعمال کرنا شرعا کیسا ہے ؟

    ہوتا اس طرح ہے کہ کسی نے اس ایپ کے ذریعہ کوئی موبائل پچاس روپئے کا ریچارج کیا ، یہ ریچارچ موبائل کمپنی سے ہوا ، موبائل کمپنی سے لین دین پچاس روہئے کا ہوا۔ یہاں پر پیٹیم کی جانب سے تیس روپئے کا کیش بیک ملتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پیٹیم موبائل کمپنی نہیں ہے تو کیش بیک کیوں اور کہاں سے دیتا ہے ؟

    جب اس سوال کی حقیقت جانتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح گوگل کمپنی بلاگ ، ویب سائٹ اور یوٹیوب پہ کمپنیوں کی تشہیر کرکے اس کا کچھ منافع ان سماجی روابط کے استعمال کنندہ کوبھی دیتا ہے اسی طرح کا معاملہ پیٹیم ایپ میں بھی ہے ۔

    میں نے اس سے پہلے یوٹیوب پہ ویڈیو اپ لوڈ کرکے اس سے پیسے کمانے کے متعلق نوجوانوں کو آگاہ کیا تھا آج پیٹیم کے متعلق عرض کرنا چاہتاہوں کہ اگر اس ایپ کے محض استعمال سےیعنی اس کے ذریعہ موبائل ریچارج یا کسی قسم کے بل کی ادائیگی پہ کیش بیک ملتا ہے تو اس کے لینے میں رکاوٹ نہیں ہوتی مگر میرے سامنے اس ایپ میں کئی رکاوٹیں ہیں ۔

    (1) یہ ایپ بیمہ ، فلم ، انٹرٹینمنٹ اور فیشن وغیرہ کی بھی تشہیر کرتا ہےاوربہت ساری آئن لائن تجارتی اشیاء کی برہنہ تصاویر کے ساتھ اشتہار موجود ہے ۔

    (2) ٹرانجیکشن پہ کیش بیک اشتہار پہ تعاون کے عوض ہے اور اوپر ہم نے جانا کہ اشتہار بازی میں کئی ساری شرعی خامیا ں ہیں ۔

    (3) اس ایپ میں کئی قسم کی آئن لائن تجارت بھی ہے جس کے متعلق دجل وفریب کا بھی امکان ہےنیز آن لائن خریدوفروخت میں سامان پہ قبضہ کئے بغیر اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنا عام ہے جوشرعا ناجائز ہےاور اگراس تجارت میں حرام چیزوں کی تجارت بھی ہو تو اس حرام چیزکی تشہیر میں معاون بننا بھی حرام ہے۔

    (4) اس ایپ کو شیئر کرنے پر اس کا کوئی ساتھی موبائل ریچارج کرتا ہے یا بل جمع کرتا ہے تو شیئر کرنے والےسے پچاس روپئے ملنے کا وعدہ ہے ۔ جس نے یہ ایپ شیئر کیا ہے اس کی وجہ سے کوئی اس ایپ سے فلم کا ٹکٹ خریدتا ہے یا بیمہ کرواتا یا اس کا پریمیم جمع کرواتا ہے تو اس گناہ کا ذمہ دار شیئرکرنے والا بھی ہوگا ۔اسی طرح آن لائن تجارت میں کوئی کمپنی فراڈی ہویا قبضہ کرنے سے پہلے سامان بیچنے والی ہوتو انوائٹ کرنے والا بھی گنہگار ہوگا۔ ایپ شیئر کرنے سے عریاں تصاویر کا گناہ بھی اس پہ آئے گا۔

    (5) چونکہ اس ایپ میں سیکڑوں پروگرام موجود ہیں جن میں سے چند کا میں نے ذکر کرہی دیا کہ یہ غیرشرعی ہیں مزید اور کتنے غیرشرعی کام اس میں موجود ہیں کون مسلمان اس کی تصدیق کرے گا ؟ جب معاملہ مشکوک ہے تو چند پیسوں کے لئے کیوں اپنا ایمان ضائع کریں ؟

    (6) خود ريچارج کرنے پر تیس روپئےجبکہ انوائٹ کرنے پہ پچاس روپئے کیش بیک کے طور پر ملتے ہیں اور ایپ والے نے ہر نئے دوست کے ٹرانجیکشن پہ پچاس روپئے کہہ کر روزانہ ایک ہزار روپئے کمانے کا لالچ دیا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے ہزار روپئے کی فکر میں جس جس کو بھی یہ ایپ بھیجا جائے گا اس ایپ کے اندر موجود غیرشرعی امور کا گناہ بھیجنے والے کے سر بھی جائے گا۔

    (7) نٹورک مارکٹنگ کی طرح اس میں بھی بڑا بڑا لالچ دیا گیا ہے ، اوپر ایک لالچ گزرا کہ روزانہ ایک ہزار کمائیں، دوسرا لالچ یہ ہے کہ ہر گھنٹہ دو سو آدمی سوفیصد کیش بیک پاتا ہے اور تیسرا سب سے بڑا لالچ لکھ پتی بننے کا ہے ، وہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ ریچارج یا بل کی ادائیگی پر ایک لاکھ کا لکی ڈرا سے نکالا گیا کیش بیک پانے کا موقع ملے گا ۔تیسرا لالچ اس ایپ کا سب سے بڑا جھانسہ ہے۔

    (8) اس ایپ میں بڑی تعداد میں آن لائن شاپنگ کی اشیاء نظر آتی ہیں ، ان پہ کئی کئی ہزار کا کیش بیک لکھا ہوا ہے مجھے لگتا ہےکہ سامان پہ بڑی قیمت کا کیش بیک بس دکھاوا ہے ، اصل قیمت میں اضافہ کرکےاس کا نام کیش بیک رکھ دیا گیاہے۔

    ان چند باتوں کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ اس ایپ سے پیسہ کمانا شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس ایپ میں دھوکہ کا امکان بھی ہے، غیرشرعی تجارت بھی ہے اور حرام کام پہ تعاون بھی ہے ۔اگر صرف ریچارج یا بل کی ادائیگی پہ کیش بیک ہوتا اور کسی قسم کی غیرشرعی چیز کی تشہیر نہ ہوتی تو پھر جواز کی گنجائش تھی مگر ریچارج یا بل کی ادائیگی پہ کیش بیک اصل میں اس ایپ میں موجود مختلف تجارتی اداروں کی تشہیر اور ان سے معاملات کے عوض ہے جن میں غیرشرعی امور بھی پائے گئے ہیں ۔

    اس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے ذریعہ کمائی کررہے ہیں مجھے ان کے پیسوں سے حسد نہیں ہے تاہم ان کی کمائی کے غلط رخ سے ضرور تکلیف ہےاس بناپر یہ تحریر قلم بند کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔ ایسے تمام مسلم بھائیوں کی خدمت میں عاصی بصداحترام یہ پیغام پیش کرتا ہے کہ لین دین کا جو بھی معاملہ کریں ادارے کی اصل آفس سے یا ان کی ذاتی ویب سائٹ سے کریں مثلا موبائل ریچارج کرنا ہو قدم قدم پہ دوکان موجود ہے وہاں سے ریچارج کریں ، بجلی بل ادا کرنا ہے اس کی آفس جائیں یا اس کی ذاتی ویب سے پیمنٹ کریں ، اسی طرح بنک کا کوئی کام کرنا ہے ،اسی بنک سے کام کریں ۔ آن لائن کوئی سامان خریدنا ہو تو براہ راست کمپنی کی ویب سائٹ استعمال کریں اور پہلےاس کےمتعلق اطمینان کرلیں پھر خریداری کریں۔

    میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ معاملات اپنی جگہ اور کمائی اپنی جگہ ۔ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں ۔ معاملات کو معاملات ہی رہنے دیں اور ڈھنگ سے معاملات کریں جو محفوظ ترین طریقہ ہو اور کمائی کو ایک الگ ذریعہ رہنے دیں اور حلال طریقے سے محنت ومشقت کے ساتھ روزی کمائیں ۔حلال طریقے سے کمائی گئی کم روزی میں بھی اللہ برکت دے گا اور بغیر محنت کی حرام روزی میں کبھی برکت نہیں ہوتی ۔

    اللہ تعالی ہمیں حلال طریقے سے روزی کمانے کی توفیق دے اور اپنے فضل سے ہمیں خوشحال بنادے ۔آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    شیخ آپکا نقطہ نظر احتراماً اپنی جگہ اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔

    جیسا کہ "پے ٹیم" انڈیا میں ہے ایسی ویبز اور بھی ممالک میں ہونگی جیسے انگلینڈ میں "پے پال" ہے۔
    اگر کوئی ڈائریکٹ شاپس سے یا کسی ادارہ کی ویب سائٹ سے پیمنٹ کرتا ہے تو اس میں ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ سے چوری بہت آسانی سے ہوتی ہے اور چوری کی شکل میں کسی کے بینک میں پڑی رقم یا کریڈٹ کارڈ میں جتنی کریڈٹ لیمٹس ہے وہ ساری چوری ہو سکتی ہے اور ہوتی بھی ہیں، میرے ساتھ اور بچوں کے کارڈ سے بھی ایسا اکثر ہوتا رہا ہے۔

    اگر پے پال سے ہم جو بھی ادائیگی کریں گے تو اس میں چوری کا صفر فیصد بھی کوئی چانس نہیں، دوسرا یہاں سے کی گئی ہر رقم اگر غلطی سے کہیں آپ بھیج دیں یا آپ کو کسی کی سروس اچھی نہیں لگی، یا کچھ لیٹ ہو گیا ہے تو آپ کے ایک میسج پر اپنی ساری رقم واپس مل جاتی ہے 100 فیصد منیبیک گارنٹی ہے۔

    پے پال کیسے کام کرتی ہے: جو بھی یہاں رجسٹرڈ ہوتا ہے ان کا سارا بینک اور کریڈٹ کارڈ ریکارڈ ان کے پاس سیو ہوتا ہے۔ میں نے جہاں بھی پیمنٹس کرنی ہیں پے پال سے ان کے اکاؤنٹس میں رقم ٹرانسفر ہو گی جس پر نہ تو اس کو میرا بینک ریکارڈ ملے گا اور نہ مجھے، بس ٹرانژکشن نمبر اور ادارہ کا نام ہو گا جس کو پیمنٹس ٹرانسفر ہوئی ہے۔ اب مجھے اگر اپنی رقم واپس لینی ہے تو وہاں کچھ آپشن ہیں ان سے ایک منتخب کر کے دو حروفی وجہ لکھوں گا اور رقم واپسی پر ریکوئیسٹ کروں گا، پے پال اس کمپنی یا ادارہ کو فوراً میسج ارسال کرے گا اور مجھے بھی میسج کے ذریعے بتائے گا کہ ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے۔ اگلے دن رقم میرے پے پال اکاؤنٹس میں آئے گی اور پے پال وہ رقم میرے بیینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کار اکاؤنٹ میں منتقل کر دے گا۔ ایسا ہی "پے ٹیم" ہے۔ یہاں رقم سیف ٹرانسفر ہوتی ہے اور ڈائریکٹ کارڈ سے چوری کا خدشہ ہوتا ہے، جس سے رقم چوری بھی ہوتی ہیں۔

    رہی بات کیش بیک کی تو آپ نے جتنا لکھا اتنا نہیں ہوتا، 1 روپے پر 1 سے 5 پیسے ہوتے ہیں۔ زیادہ کیس بیک کہاں ہے، مثال سے ایک کمپنی 10 ی چیز 20 میں بیچ رہی ہے تو ان کی کیش بیک آفر زیادہ ہوتی ہے، اس پر اگر کوئی چاہے تو کیش بیک رقم ڈونیٹ کر سکتا ہے، میں نے اپنے تمام کارڈ پر کارڈ کمپنی میں ہی شروع سے کنٹریکٹ میں یہ آپشن کھا ہوا ہے کہ یہ رقم افریکہ کو ڈونٹ کر دی جائے۔ اگر کوئی نہ مانے تو اس کا ثبوت بھی سٹیٹمنٹس اٹیچ کر کے دے سکتا ہوں۔

    والسلام
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    754
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کوئی بات نہیں، آپ کے اضافہ سے بہت ساری چیزیں سامنے آئی ہیں اور جب بھی کسی تھریڈ پہ اس قسم کا حسن اضافہ کیا جائے تو مضمون کا خدوخال مزید واضح ہوجاتا ہے۔اس کے لئے میں آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں ۔

    ایک معلوماتی چیز کی طرف آپ نے رہنمائی کی ہےکہ دائریکٹ کوئی بل ادا کرنےسے چوری کا امکان ہے لیکن پے پال سے کرتے ہیں تو نہ چوری کا امکان ہے بلکہ ٹرانجکشن میں کچھ گڑبڑی ہوجائے تو سوفیصد منی بیک ہے ۔ میرے پاس بھی انڈیا اور سعودی عرب کے اے ٹی ایم کارڈز ہیں ، میں بھی بجلی بل وغیرہ اپنے اے ٹی ایم سے کرتا ہوں بلکہ سعودی عرب میں حکومت کی ساری کاروائی بنک اکاؤنٹ سے ہے ۔ آپ جب اپنے اکاؤنٹ سے کوئی بل پے کرتے ہیں اس میں بل کی قیمت لکھی ہوتی ہے اور ٹرانجکشن میں بس اتنی ہی رقم کاٹی جاتی ہے ، کچھ غلطی ہوجانے پر روپئے واپس لے سکتے ہیں اور یہ تو بنک کا حساب وکتاب ہے نا ، اس میں چوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بنک ٹرانجکشن کا سارا دیٹا پائی پائی کے ساتھ بنک سے حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہ میں اپنی ذاتی تجربات سے کہہ رہاہوں ۔
    جہاں تک ہیکروں کی بات ہے تو یہ جرم کی دنیا ہے یہاں کیا کچھ ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔

    پے پال کا مجھے تجربہ اور علم نہیں ہے ، چونکہ آپ نے اسے استعمال کیا ہے اس کے متعلق آپ کو زیادہ معلومات ہوگی ۔

    پے ٹی ایم کے متعلق میں نے کیش بیک کی جو معلومات لکھی ہے وہ اس ایپ کا خود کا اعلان ہے اور اس ایپ میں موجودہے۔ یہاں معاملہ صرف پے ٹی ایم استعمال کرنے کا نہیں ہے بلکہ اس کے کیش بیک کا ہے ۔
    پے ٹی ایم کے ذریعہ ہر ٹرانجکشن پہ جو کیش بیک ملتا ہے وہ اس ایپ میں موجود دیگر تجارتی اشتہار کے ذریعہ کمائی کے منافع سے ملتا ہے اور ہمیں یقین سے معلوم ہے کہ اس ایپ میں فلم کا ٹکٹ، فلم کا پرچار، انٹرٹینمنٹ، موسیقی، حیاسوز تصویریں، انشورنس وغیرہ کا پرچار بھی ہے۔ ان چیزوں کی کمائی کا منافع کسی مسلمان کے لئے لینا ہرگزجائز نہیں ہے ۔

    رہا معاملہ سودی بنک کے اے ٹی ایم کے استعمال کا تو اے ٹی ایم سے ہم حرام پیسہ نہیں نکالتے بلکہ اپنے اکاونٹ کا ذاتی پیسہ نکالتے ہیں ۔ اور یہ بھی اضطراری حالت میں بنک سے لین دین جائز ہے ، ضرورت نہ ہو تو پھر سودی بنک سے بھی ہر قسم کا تعامل ناجائز ہے جبکہ پے ٹی ایم اضطراری نہیں ہے بلکہ اختیاری ہے اور پیسہ کمانے کی غرض سے ہے۔

    میں نے ذکر کیا ہے کہ اگر پے ٹی ایم سے بل ادا کرنا ہو یا موبائل ریچارج کرنا ہو تو یہ محض یہ عمل اپنی جگہ درست ہے اور اس عمل پہ یہ ایپ والا اپنی جیب سے کیش بیک دے تب بھی جائز ہے مگر کون انسان کسی کو اپنی جیب سے کیش بیک دےگا؟ یہاں جو کیش بیک ہے وہ اشتہار بازی سے ایپ کو حاصل شدہ منافع کا کچھ حصہ ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 27, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    جزاک اللہ خیرا شیخ .
    انتہائی مفید.
     
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    754
    آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ ۔
     
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    754
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    754
    اللہ تعالی ہم سب بھائیوں میں اخوت ومحبت قائم رکھے اور خالص توحید پر خاتمہ نصیب فرمائے ۔آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    شکریہ شیخ. کافی مفید و معلوماتی پوسٹ ہے.
     
  11. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ

    محترم شیخ! یوٹیوب یا کسی انٹرٹینمنٹس پر تو مجھے علم نہیں اس کے علاوہ آن لائن یا دوسرے طریقوں سے کی گئی خریداری پر کیش بیک، ڈسکاونٹس، یا کسی بھی قسم کی چھوٹ یہ آپ کی اصل قیمت کے حصہ سے آپکو ملتا ہے۔ کوئی بھی کاروباری جب کوئی چیز بیچتا ہے تو وہ منافع پر بیچی جاتی ہے، ہر ایک پر تفصیل بیان کرنے کے لئے وقت چاہئے اس لئے مختصر کوشش کرتا ہوں۔

    مینوفیکچر، ہول سیلر، ڈسٹریبیوٹر،ٹریڈر، شاپ، شو روم، لوکل، نیشنل، امپورٹڈ، میٹیریل کوالٹی (اے، بی، سی لوکل و کنٹری وائیز)
    ٹریڈ مارک پر کوئی کیش بیک یا ڈسکاونٹ نہیں ملتا کیونکہ اس میں پرافٹ مارجن نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، اس میں ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ اگر سیلز مین یا کاروباری شخصیت کے سات آپکے اچھے مراسم ہوں تو وہ اس پروڈکٹس کو ڈیمج میں ڈال کر آپکو کیش بیک یا اچھی ڈسکاونٹس دے سکتا ہے اس کا خسارہ مینوفیکچرر کو ہو گا مگر یہ شائد شریعت کی رو سے درست نہیں۔

    اس کے علاوہ کچھ دکاندار ہول سیلر سے خریدتے ہیں اور کچھ مینوفیکچرر سے اور کچھ دکانداروں کو لوگ جا کر بھی مال فروخت کرتے ہیں جس پر گریڈ بہت نیچا ہوتا ہےاس میں کوانٹٹی اور گریڈ میں فرق پڑتا ہے مال ناقص ہوتا ہے۔
    آن لائن پر خریداری پر مختلف قسم کے سیلر موجود ہوتے ہیں۔

    ایک ڈائریکٹ کمپنی جو ان کی کوئی پروڈکٹس پیکنگ کھلنے کے بعد واپس کی جاتی ہے تو یہ اسے اصل قیمت سے کافی حد تک قیمت کم کر کے لگا دیتے ہیں اس کی دو شکلیں ہیں ایک قسطوں پر اور دوسرا کیش پر۔

    دوسری قسم عام سیلر جو فیکٹریوں سے فیل شدہ مال خریدتے ہیں جو سکریپ کی قیمت پر انہیں ملتا ہے اور اس پر معمولی مرکت کر کے اسے ریفربش نام دے کر کم قیمت میں لگا دیتے ہیں۔

    تیسری قسم ہے جو اپنی ہی اشیا جو استعمال میں ہوتی ہیں انہیں استعمال آئٹم کا نام دے کر لگا دیتے ہیں مگر ان کی کنڈیشن اچھی ہوتی ہے اور قیمت بھی بہت کم۔

    چوتھی قسم ہے جو ہر وقت ان ویب سائٹوں پر رہتے ہیں جہاں آن لائن چیزیں سیل ہوتی ہیں اور جہاں کوئی چیز پر کم قیمت لگی ہو تو وہ اسے خرید کر اسی چیز کو آگے سیل میں لگا دیتے ہیں۔ اس میں دونوں کو کیش بیک کی شکل میں فائدہ ملتا ہے۔ سمجھنے کے لئے اتنی ہی کافی ہیں۔

    مثال سے آپ کسی برانڈ کا موبائل فون سعودی عرب سے خریدیں اور انڈیا جا کر وہی برانڈ کا مارکیٹ سے چیک کر لیں، دونوں چائینہ سے بنے ہونگے مگر دونوں کی کوالٹی اور رزلٹ میں بہت فرق ہو گا۔ یہی برانڈ کا موبائل فون سعودی عرب اور برطانیہ سے چیک کر لیں، یہ بھی چائنہ سے بے ہونگے مگر دونوں کی کوالٹی میٹیریل اور رزلٹ میں بہت فرق ہو گا۔

    خریدار کے لئے یہی مشکل ہے کہ اس نے ہمیشہ ٹریڈنگ پرائس چیک کرنی ہے اس کے بعد اس نے آن لائن میں آنا ہے جس پر اسے کیش بیک کی شکل میں منافع ہی نظر آئے گا، اس لئے کیش بیک یا منافع آپکی اصل رقم کا ہی کچھ حصہ ہوتا ہے جو سیلر پروڈکٹس یا مال میں خامی کی شکل میں آپکو ادا کرتا ہے۔

    والسلام
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں