زکوٰۃ کے مسائل

Mahpara Tariq Khan نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏فروری 28, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Mahpara Tariq Khan

    Mahpara Tariq Khan نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2019
    پیغامات:
    5
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
    کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے کسی ضرورت مند (زکوٰۃ کے حقدار) کی فیس ادا کی جا سکتی ہے؟
    اگر ہاں... تو کیا یہ ممکن ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے والا اُن کو بتائے بِناء اُن کی فیس زکوٰۃ کے پیسووں سے ادا کر سکتا ہے؟ (پریشانی/اُن کو بُرا محسوس نہ ہو سے بچنے کے لیے)
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جی ہاں، زکوۃ کے مال سے کسی طالب علم یا طالبہ کی فیس ادا کی جا سکتی ہے۔
    اگر ابھی فیس کی ادائیگی کا وقت باقی ہے تو مال طالب علم کے حوالے کردیا جائے تا کہ وہ تملیک کے بعد اپنی فیس ادا کر دے۔ (اس سے پہلے آپ نے اس صورت کے متعلق سوال کیا تھا)۔
    اگر فیس کی ادائیگی کا وقت گزر چکا ہے تو اب یہ طالب علم پر قرض ہے۔ زکوۃ ادا کرنے والا خود بھی یہ فیس ادا کر سکتا ہے۔ اس صورت میں اسے صرف طالب علم کی اجازت درکار ہے۔
    بتائے بنا نہیں ان کی اجازت سے ایسا ہونا چاہیے۔ ضرورت کے وقت زکوۃ وصول کرنے میں کوئی عار کی بات نہیں۔ شریعت کا مقصد ہماری زندگی میں آسانی کرنا ہے اور ایسی آسانی جب اللہ نے دی ہے تو انسان کو بخوشی قبول کرنی چاہیے کیوں کہ ہم ہر حال میں مالک کی رحمت کے محتاج ہی ہیں۔
     
    Last edited: ‏فروری 28, 2019
  3. Mahpara Tariq Khan

    Mahpara Tariq Khan نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2019
    پیغامات:
    5
    جزاك اللہ خیر...!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    وایاک۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں