مادی اشیا کے ڈھیر میں زندہ دفن لوگ

عائشہ نے 'آڈیو وڈیو اور فلیش' میں ‏مارچ 2, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    انسان حقیر مادی چیزوں کی خاطر دوسرے انسان پر کتنا ظلم کرتا ہے یہ تو ہم سب دیکھتے ہیں، لیکن مادی چیزوں کی خاطر انسان اپنے اوپر کتنا ظلم کر سکتا ہے یہ مادی اشیا کے ڈھیر میں زندہ دفن ان لوگوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔
    یہ ایک قسم کی بیماری ہے جس میں لوگ چیزیں جمع کرنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ناکارہ اور فالتو اشیا کو بھی پھینک نہیں سکتے۔ یہ عام لوگوں سے کٹ کر زندگی گزارتے ہیں، کسی کو اپنے گھر آنے نہیں دیتے تاکہ کوئی ان کی حالت زار کے بارے میں نہ جان سکے، یا ان کے شوق میں مخل نہ ہو سکے۔
    اجتماعی زندگی سے کٹ کر رہنے والوں کی زندگی اکثر کسی نہ کسی وسوسے اور وہم کی قید میں گزرتی ہے۔
    اسلام انسان کو اجتماعی زندگی کی طرف بلاتا ہے۔ سلام کرنا، سلام کا جواب دینا، لوگوں سے مسکرا کر ملنا، مریض کی عیادت کرنا، دعوت دینا، دعوت قبول کرنا، ایک دوسرے سے صرف اللہ کی خاطر ملنا، پانچ وقت، جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے لیے اجتماع عام میں شریک ہونا انسانوں کو جوڑنے کے وسیلے ہیں۔ لیکن افسوس جدید دنیا کا مسلمان بجائے اپنے مذہب کے حسن کو دنیا سے متعارف کروانے کے، خود بھی مادہ پرست تہذیب کی علتوں کا شکار ہو رہا ہے۔
     
    Last edited: ‏مارچ 2, 2019
  2. Gulmeena

    Gulmeena نوآموز.

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2019
    پیغامات:
    4
    Totally agree with that. In psychological terms It's basically a psychological disorder that comes under the category of Obsessive Compulsive Disorders
    It might sometimes have a genetic basis, on the other hand some people might use hoarding as a coping mechanism to deal with certain kind of stress or any traumatic experience
    It's also important to note the difference between hoarding and collecting. Hoarding is not the same as collecting
    One of the major risk factors for developing hoarding disorder may be social isolation. Those who live alone may be more vulnerable to developing hoarding disorder. So establishing a sense of community and developing social interactions can help prevent developing this behaviour if the person is already at risk (even in the identification as well as treatment process "support groups" help alot)
    It's onset is generally in the teen age (although variations in age of onset may occur) so it is important for the parents in particular to be cognizant of their child's hoarding behavior at home and identify this condition as early as possible. Earlier the identification / diagnosis the better the prognosis
    Morever if the condition becomes chronic proper medication and/or therapy may be needed
    (the therapy in this case also focuses on helping the individual learn to discard unnecessary things, helping them overcome the "exaggerated" perceived need to hoard things)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    مجلس میں خوش آمدید
    بہت معلوماتی تبصرہ، مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ صدمے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد ٹوٹے ہوئے دلوں کو پہچان نہیں پاتے تو مدد کیسے کریں گے۔
    سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تکلیف نئی نسل پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔ اس خاتون کے بیٹے نے کہا کہ میں اپنے گھر کسی کو مدعو نہیں سکتا تھا کیونکہ گھر کی حالت خراب تھی اور دوسروں کے گھر بھی نہیں جاسکتا تھا اسی لیے میں دوست نہیں بنا سکا۔ کیسے ایک انسان خاص طور پر والدین کی نفسیاتی تکلیف سے غفلت برتی جائے، اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو آگے کئی انسان تکلیف اٹھاتے ہیں
    معاشرے میں اکیلے رہ جانے والے کئی افراد کی ایسی ہی کہانی ہے۔ اگر اولاد والدین کو اس اداسی سے نکالنے کی کوشش کرے تو وہ ناراض ہونے لگتے ہیں کہ یہ دوسروں کے گھر دیکھ کر کمتری کا شکار ہے اور اپنے والدین کا باغی ہے۔ چار چیزوں کی خاطر اپنی ہی اولاد کی نیت اور خیرخواہی پر شک کرنا ان کو مزید اذیت میں دھکیل دیتا ہے۔ دوسری طرف نفسیاتی علاج اتنا مہنگا ہے کہ ہر کوئی اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. Gulmeena

    Gulmeena نوآموز.

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2019
    پیغامات:
    4
    Bilkul drust farmaya Ma'am
    Khadshah iss baat ka bhi hai kay apni iss kaifiat ki wajah say (kay na wo kisi ko ghar bula sakta hai na khud kisi kay ghar jaa sakta hai), wo khud bhi iss kaifiat may mubtala ho
    jaey jis may uski waalidah hain
    Aur wo bhi insaano ki bajaey maadi ashiya ko apna dost aur saathi bana lay
    We as humans have a basic need to connect with people and when cannot fulfil that need through a proper channel we try other ways to fulfill our unmet needs
    And hoarding may be one of those ways
    Lihaza daikha jaa sakta hai kay kis tarha ye kaifiat aik nasal say doosri nasal may muntakil hoti jaati hai
     
    Last edited: ‏مارچ 10, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں