ہماری آنکھ کا دریا

صدف شاہد نے 'شعری مجلس' میں ‏مارچ 11, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    ہماری آنکھ کا دریا
    کبھی حد میں نہیں رہتا
    ذرا سی بات ہو جائے
    ذرا سی ٹھیس لگ جائے
    کوئی رستہ بدل جائے
    کوئی الزام دے جائے
    یہ لمحے بھر میں آنکھوں میں
    بڑی طغیانی لاتا ہے
    کنارے بھیگ جاتے ہیں
    کنارے ٹوٹ جاتے ہیں
    بہت ہم کو رُلاتے ہیں
    کوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب جھوٹ بولے تو
    کوئی اپنی شرائط پر ہماری ذات تولے تو
    کوئی جب اپنے دامن پر پڑے دھبے نہیں دیکھے
    کوئی کیچڑ اُچھالے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
    سو گہری سانس لیتے ہیں
    لبوں کو بھی دباتے ہیں
    تسلی دے کے ہم خود کو
    ذرا سا تھپتھپاتے ہیں
    کبھی پلکیں جھپکتے ہیں
    کبھی نظریں چراتے ہیں
    مگر سب رائیگاں ہو کر
    بہت بے چین کرتا ہے
    کنارے بھیگ جاتے ہیں
    کنارے ٹوٹ جاتے ہیں
    بہت ہم کو رُلاتے ہیں
    ہمارے آنکھ کا دریا
    جبھی حد میں نہیں رہتا
    کبھی حد میں نہیں رہتا

    منزہ اعجاز
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,444
    بہت عمدہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    بہت عمدہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    548
    بہت خوب جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں