غیبت :ایک مرغوب غذا

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏بوقت مارچ 14, 2019 7:47 شام کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    433
    کبھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا ہے۔
    آئنیے میں چہرہ تو ہم روز ہی دیکھتے ہیں۔
    لیکن پھر بھی لوگ طعنہ دیتے ہوئے آئینے کو درمیان میں لاتے ہیں۔
    کتنے بُرے ہیں ایسے لوگ جو آئینہ کو درمیان میں لاتے ہیں کیا انہیں معلوم ہے کہ ان سے آئینہ ہزار درجہ بہتر ہے۔
    اور کیوں نہ بہتر ہو کہ یہ ہمیں ہمارا چہرہ تو دکھاتا ہے لیکن کبھی طعنہ نہیں دیتا۔ یہ ہمارے چہرے کا داغ دھبے تو ہمیں دکھاتا ہے لیکن کسی دوسرے سے ہمارے اِن عیوب کا تذکرہ نہیں کرتا، کسی کے سامنے ہماری غیبت نہیں کرتا۔بس چپکے سے ہمیں ہمارے عیوب بتا دیتا ہے تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں-
    آئینہ ہمارا اتنا پیارا ساتھی ہے کہ جب ہم روتے ہیں تو یہ خود بھی روتا ہے اور جب ہم ہنستے ہیں تو یہ بھی ہنستا ہے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم روتے ہوں اور آئینہ ہمیں دیکھ کر ہنستا ہو۔ آئینے کی ان خوبیوں کی وجہ کر امید ہے کہ آپ بھی آئینہ کو اپنا پیارا ساتھی سمجھتے ہوں گے۔
    بے شک آئینہ ہم سب کا نہایت ہی پیارا ساتھی ہے، اسی لئے تو ہر کوئی آئینے کے سامنے کھڑا ہونا پسند کرتا ہے اور اپنی عیوب اسے دکھاتا ہے اور اس کی نگاہوں سے میں اپنے عیوب خود بھی دیکھتا ہے۔
    لیکن کیا ہم کبھی سوچا کہ ہم بھی آئینے جیسا کردار اپنا لیں تاکہ ہمیں بھی ہر کوئی پسند کرے، ہمیں اپنا بہترین ساتھی سمجھے، اپنا دُکھ درد ہم سے بیان کرے اور اپنے عیوب کا تذکرہ کرے، اپنا عکس وہ ہم میں دیکھے اور ہم اپنا عکس ان میں دیکھیں۔ نہ ہم کسی کی غیبت کریں اور نہ کوئی ہماری غیبت کرے۔
    ہمیں تعلیم تو یہی دی گئی ہے، لیکن افسوس کہ ہم اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھلا بیٹھے ہیں۔
    پیارے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ " مومن ، مومن کا آئینہ ہے" -
    لہذا ہمیں بهی آئینہ کی طرح ہونا چاہئے اور اپنے مومن بهائی کی کمزوریاں نہایت خاموشی اور رازداری سے صرف اسے ہی بتانا چاہئے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔ ان عیوب کی تشہیر کرکے یا کسی دوسرے کے سامنے بیان کرکے ہمیں اپنے مومن بھائی/بہن کو بدنام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا غیبت میں شمار ہوگا اور غیبت کے بارے میں قرآن میں ہے
    وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (۱۲) سورة الحجر
    ’’ اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ‘‘
    اس آیت میں بہت واضح ہے کہ اللہ تعالی نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔
    ایک اور مقام پر آتا ہے:
    وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (۱) سورة الهمزة
    ’’بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے والا ہو‘‘
    اس سے بڑی خرابی اور کیا ہوگی کہ غیبت کرنے والے کا سارا نیک اعمال ضائع ہوجاتا اور بالآخر وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے ۔۔
    غیبت کی تعریف بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے ، کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر وہ عیب واقعی اس بھائی میں ہو جو میں بیان کر رہا ہوں ، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو وہ تبھی تو غیبت ہے اگر اس میں نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
    غیبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے اور غیبت کا سننا بھی کبیرہ گناہ ہے جو کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو سخت ناپسند ہے۔
    لیکن افسوس کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو مقدم رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت اب غیبت کرنا نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ غیبت ہر محفل کی زینت بنی ہوئی ہے۔ کوئی ایسا محفل نہیں سجتا جہاں غیبت ایک مرغوب غذا نہ ہو۔ یہ محفل چاہے گھر کی چار دیواری میں ہو یا پھر ہوٹل یا بازار میں یا پھر میڈیا کی پلیٹ فارم پر ہو۔ آج مسلم ملک و معاشرے میں ہر طرف لوگ اپنے ہی بھائیوں کے گوشت کھاتے نظر آتے ہیں۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب مجھے معراج کرائی گئی ، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے ، میں نے پوچھا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا : یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے “ ۔ (ابوداؤد: 4878)۔
    غیبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے اور غیبت کا سننا بھی کبیرہ گناہ ہے۔
    غیبت کرنے اور سننے کے بے شمار دینی، دنیاوی اور آخرت کے نقصانات ہیں جن کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن اصل بات یہ ہے ہم سب غیبت کو ایک کبیرہ گناہ سمجھیں اور کسی کی غیبت کرنے سے بچیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سماجی و اخلاقی بیماری سے بچائے اور اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    تحریر: محمد اجمل خان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    309
    ما شاء اللہ زبردست اصلاحی تحریر
    ہر انسان اپنی حقیقت سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور اپنے حالات و واقعات سے بھی ۔اگرآپ کا ضمیر مطمئن ہو اور نیت صاف تو دوسروں کی رائے آپ کے اندر کے سکون کو کبھی برباد نہیں ہونے دیتی۔ بسا اوقات آپ صحیح بھی ہوتے ہیں لیکن ساری شہادتیں آپ کے خلاف ہوتیں ہیں اور آپ غلط ثابت ہو جاتے ہیں اُس وقت اپنا آپ مجرم سا محسوس ہونے لگتا ہے اور سامنے یہی سوال ہوتا ہے ۔۔۔میں ہی کیوں ؟ یا میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟
    بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں یہ فیز ضرور آتا ہے۔ خیرخواہ ،بدخواہ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایسی صورتِ حال میں انسان کیا کرے صرف اِک رازدار نظر آتا ہے اور مشکل کشا بھی وہ ہے اللہ کی پاک ذات وہ وہاں سے سبب بنا دیتا ہے جہاں تک انسان کی سوچ کی پہنچ بھی ممکن نہیں ہوتی ۔۔
    کیا صاف گوئی اور غیبت ایک ہی چیز ہیں ؟
    اِس سوال کو یوں سمجھئیے گا اِک گھر کا ماحول خراب ہوتے نظر آئے گھر کے سربراہ کو آگاہ کیا جائے اس نیت سے وہ سارے کمزور پہلوؤں پر بروقت توجہ دے مناسب حکمتِ حملی سے تاکہ سب ایک صحتمند ماحول میں پنپتے رہیں تو کیا یہ غیبت کے زمرے میں آئے گا ؟
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں