کردار کے غازیوں کی گفتار

ابو حسن نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏مارچ 18, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    یہ تھریڈ محدث فورم پر شروع کیا گیا تھا اور پہلا درج ذیل اقتباس " محترم خضر حیات " نے لکھا ہے اور اس تھریڈ میں راقم کو بھی حصہ لینے کا موقع ملا ،الحمدللہ

    شروع سے ہی گزارش ہے کہ یہ تھریڈ بالکل جذباتی ہوگا ، کیونکہ آج ہمارے احساسات مردہ اور جذبات ماند ہوچکے ہیں ، کبھی کردار کی باتیں ہوتی تھیں ، آج ہماری گفتار اور سوچ بھی شکست خوردہ ہے ۔

    دنیا کے سیم و زر سے والہانہ محبت ، جان سے اس قدر پیار کہ گویا ازل تا ابد یہاں رہنا ہے ۔ دینی دنیاوی کوئی بھی مرحلہ ہو ، سب سے پہلے جان کی پرواہ اور دنیاوی آسائشوں کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔

    ہماری حالت یہ ہوچکی ہے کہ ’ فکر و دانش ‘ اور ’ مصلحت کیشی ‘ کے اس دور میں ہمیں یہ باتیں بالکل عجیب سے لگنا شروع ہوگئی ہیں کہ ہمارا تعلق اس قوم سے جن کی ٹھوکر سے درایا صحرا اور ہیبت سے پہاڑ کپکپاتے تھے ، ہماری پست ہمتی اور بزدلانہ ذہنیت نے ہمیں یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ ہمیں ان باتوں پر مومنانہ ایمان و یقین تو ہے کہ فرد واحد سے شروع ہونے والی اسلام کی اکائی ، جب دہائیوں اور چند سیکڑوں تک پہنچی ، تو اس نے ہزاروں کا مقابلہ کیا تھا ، مد مقابل لاکھوں میں بھی آگیا تو ہم ہزاروں میں ہی اس کے سامنے ڈٹ گئے ، جی ان باتوں کا ہمیں یقین تو ہے ، لیکن ساتھ ہماری دانش ہمیں یہ بھی باور کرواتی ہے کہ یہ اس دور کے قصے کہانیاں تھے ، جب فرشتے مدد کو اترا کرتے تھے آج کے دور میں اس طرح کی باتیں کرنا سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں ۔

    ہمارے حالات یہی رہے تو کوئی بعید نہیں کہ ہماری غلامانہ ذہنیت اور بزدلانہ پستی کی ترقی ان جرات و بہادری کی داستانوں کے انکار پر منتج ہو ۔

    تاریخ سے دوری ، سلف صالحین کے واقعات سے ناگواری ، اسلامی غزوات کے تابناک کرداروں سے لاشعوری زہد کو کم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ ہم قرآن وسنت ، احکام و مسائل کےساتھ ساتھ سیرت نبوی ، سیرت صحابہ و تابعین ، اسلامی جنگوں کے واقعات کو باقاعدگی سے پڑھیں ، ایک دوسرے کو سنائیں ، ان پر غور و فکر کریں ، ان کی جرات و بہادری ، ان کی جنگجویانہ حکمت عملی سمجھیں ، پھر کبھی امید رکھی جاسکتی ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی کھوئی ہوئی عزت و سطوت اور قدر ومنزلت مل سکتی ہے ۔

    وہ امت جس کا کچھ ’ طاؤس و رباب ‘ میں مست ہے ، کچھ جو اس میں غرق ہوکر ہلاکت کے دھانے پر ہے ، کچھ جو ابھی اس رنگ رلیوں کی حسرت میں دن رات ایک کرر ہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے انہیں ’ شمشیر و سناں ‘ کی سمت سفر شروع کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔
    اس تھریڈ میں ہم نے نہ تو کسی جگہ حملہ پلان کرنا ہے ، نہ کسی حکمران کے کشتے کے پشتے لگانے ہیں ، کسی بندوق بردار کی حمایت کرنی ہے نہ اس کی سرکوبی کی دہائی دینے والے کو یہاں جگہ دینی ہے ۔

    الغرض یہاں ’ عملی بات ‘ کوئی نہیں ہوگی ، یہاں صرف ’ جذبات ‘ گرمائے جائیں گے ، یہاں مجاہدین اسلام کی مختلف غزوات ، اور جنگوں میں ، معرکہ کے دوران ، یا معرکہ سے پہلے یا بعد کی تقریروں کے اقتباس نقل کیے جائیں گے ، تاکہ ہمیں ان کی سوچ و فکر کا انداز معلوم ہو ، اورایمان کا کم ترین درجہ یہ ہے کہ اگر کچھ کر نہیں سکتے تو سوچ تو درست رہنی چاہیے ۔

    غزوہ موتہ (8ھ) کے موقعہ پر جب مسلمان کی تعداد تین ہزار تھی ، جبکہ مد مقابل رومی لشکر ایک لاکھ تھا ، تو حضرت عبد اللہ بن رواحۃ رضی اللہ عنہ نے اس وقت تقریر فرمائی :

    وَاَللهِ مَا كُنّا نُقَاتِلُ النّاسَ بِكَثْرَةِ عَدَدٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ سِلَاحٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ خُيُولٍ، إلّا بِهَذَا الدّينِ الّذِي أَكْرَمْنَا اللهُ بِهِ. انْطَلِقُوا!وَاَللهِ لقد رأيتنا يوم بدر ما معنا إلّا فرسان، ويوم أحد فرس وَاحِدٌ، وَإِنّمَا هِيَ إحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إمّا ظُهُورٌ عَلَيْهِمْ فَذَلِكَ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَوَعَدَنَا نَبِيّنَا، وَلَيْسَ لِوَعْدِهِ خُلْفٌ، وَإِمّا الشّهَادَةُ فَنَلْحَقُ بِالْإِخْوَانِ نُرَافِقُهُمْ فِي الْجِنَانِ! مغازي الواقدي (2/ 760) ،إمتاع الأسماع للمقریزی (1/ 339)

    اللہ کی قسم ہماری قتال کی بنیاد نہ کبھی کثرت تعداد رہی ، نہ اسلحہ اور گھوڑوں کی فراونی ، ہماری طاقت یہی دین رہا جس کی نعمت سے اللہ تعالی نے ہمیں نوازا ، آگے بڑھو ! بدر کے دن ہمارے پاس صرف دوگھوڑے تھے ، احد میں صرف ایک تھا ، ہمارے لیے دو میں سے ایک خوشخبری ہے ، یا دشمن پر غلبہ ، جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے وعدہ کیا ہے ، یا پھر شہادت کی موت پاکر ہم اللہ کی جنتوں میں اپنے بھائیوں کے رفیق جا بنیں گے ۔
     
    Last edited: ‏مارچ 18, 2019
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    فتح فلسطین پر عمر رضی اللہ عنہ کا تاریخی جملہ

    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )
    سن 15 ہجری میں نبی کریم ﷺ کی پیشنگوئی پوری ہوگئی۔ مسلمان فلسطین میں داخل ہوگئے اور وہاں کے لوگوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی چابیاں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو نہ دینگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صفات بھی ہماری کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔

    پھر ایک تاریخی سفر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے شام چلے گئے۔ بڑی عزت سے بیت المقدس کی چابیاں وصول کیں۔ اور ایسی تاریخ رقم کی کہ جسے نور کی روشنائی سے لکھنا چاہیے

    آپ المکبر پہاڑی پر چڑھے، سارے بیت المقدس کو دیکھا، اللہ اکبر کی آواز بلند کی اور ساتھ مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی آوازیں بلند کرنا شروع کر دیں۔ پھر آپ نے اپنا وہ مشہور جملہ بولا

    نحن قومٌ أعزَّنَا الله بالإسلام، فمهمَا ابتغَيتُم العِزَّةَ بغيرِه أذلَّكُم الله

    ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے،
    اسے چھوڑ کر ہم جس چیز میں بھی عزت تلاش کریں گے اللہ ہمیں رسوا ہی کرے گا

    اسلام کی عزت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے اور یہ عظیم جملہ بولتے ہوئے اسے فتح کیا

    آپ نے مسجد اقصیٰ میں قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کی، پھر اس پتھر کے متعلق پوچھا جس سے براق کو باندھا گیا تھا۔ وہ پتھر گندگی اور کوڑے کے ڈھیر کے نیچے آ چکا تھا۔ آپ نے اپنی چادر سے گندگی ہٹانا شروع کی اور پھر لوگوں نے بھی مدد کرنا شروع کر دی یہاں تک کہ ساری جگہ بالکل پاک ہو گئی۔

    پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اہل علاقہ کے لیے سلامتی اور حفاظت کا معاہدہ لکھا، تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق محفوظ کیے۔ کسی کو اپنی عبادت کرنے سے نہیں روکا، کسی راہب کی عبادت گاہ نہ توڑی یہاں تک کہ دین کے نام پر اگر کوئی دیوار بھی بنی تھی تو اسے بھی نہ چھیڑا۔ نہ کسی رہائشی کو اپنے گھر سے نکالا، نہ کسی کا گھر گرایا، نہ کسی کی عبادت گاہ توڑی اور نہ کسی کی رہائش گاہ کو خراب کیا۔
     
    Last edited: ‏مارچ 18, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    معرکۃ بدر کے تاریخی جملے جنکو سن کر سیدالاولین و الاخرین ﷺ سرشار ہوگئے

    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )
    ادھر کفار مکہ اسلحہ سے لیس اپنے 1000 جنگجو لیے بدر میں آن پہنچے ادھر سیدالاولین و الاخرین ﷺ کے ساتھ وہ جانباز تھے کہ جن پر اللہ تعالی نے سکینت نازل فرمائی اور جنکی مدد کیلئے جبرائیل علیہ السلام 1000 فرشتوں کا لشکر لیے پہنچ گئے


    جب کفار کے لشکر کی خبر سیدالاولین و الاخرین ﷺ کو ہوئی تو آپ نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے شوریٰ کا اجلاس طلب کیا اور قائدین نے بہت عمدہ الفاظ کہے جن میں سرفہرست سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہ الفاظ کہے کہ ایک حرف مبارک و متبرک تھا ( اللہ تعالی انکو اپنے ہاں سے بہتر بدلہ عطا فرمائے کہ جنکے جملے سن کر سیدالاولین و الاخرین ﷺ سرشار ہوگئے)

    وقال المقداد: لا نقول لك كما قال قوم موسى لموسى: فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ، ولكننا نقاتل عن يمينك وعن شمالك، ومن بين يديك ومن خلفك

    حضرت مقداد نے عرض کیا:

    ” ہم موسیٰ کی امت کی طرح نہیں کہیں گے کہ جنہوں نے موسیٰ سے کہا کہ سو تو اور تیرا رب جائے اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھیں ہیں بلکہ ہم آپ ﷺ کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے آپ ﷺ کے ساتھ لڑیں گے“

    آپ ﷺ اس بات سے خوش ہوگئے اور آپ ﷺ نے ان کے حق میں کلمہ خیر ارشاد فرمایا اور دعا دی


    وقفہ، وقفہ کے بعد تین چار مرتبہ صحابہ سے فرمایا : اَشِیْرُوْا عَلیٰ ہٰذَا اَیُّہَا النَّاس لوگو مجھے مشورہ دو


    آپ ﷺ کا مطمع نظریہ تھا کہ انصار کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔ جس کی مؤرخین نے یہ توجیہ بیان کی ہے کہ بیعت عقبہ کے موقع پر یہ بات طے پائی تھی کہ آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئیں اگر کوئی آپ ﷺ پر حملہ آور ہوا تو انصار اس کا دفاع کریں گے۔ اس لیے آپ ﷺ نے مناسب جانا کہ انصار بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ جونہی انصار نے آپ ﷺ کا نقطہ نظر جانا تو وہ تڑپ گئے۔

    ان کے نمائندے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ( اللہ تعالی انکو اپنے ہاں سے بہتر بدلہ عطا فرمائے کہ جنکے جملے سن کر سیدالاولین و الاخرین ﷺ سرشار ہوگئے) نے اٹھ کر عرض کی کہ

    بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ کا رُوئے سخن ہماری طرف ہے۔

    آپﷺ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا! "ہم تو آپﷺ پر ایمان لے کر آئے ہیں ، آپ ﷺ کی تصدیق کی ہے اور یہ گواہی دی ہے کہ آپﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب حق ہے اور اس پر ہم نے آپﷺ کو اپنی سمع و طاعت کا عہد و میثاق دیا ہے۔

    لہذا اے اللہ کے رسولﷺ! آپ ﷺ کا جو ارادہ ہے ا س کے لیے پیش قدمی فرمائیے

    اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپﷺ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں کُودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپﷺ کے ساتھ کُود پڑیں گے ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔

    ہمیں قطعا کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ کل
    آپ ﷺ ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جوانمرد ہیں اور ممکن ہے اللہ آپﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس آپ ﷺ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں۔ اللہ برکت دے۔"
    ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ غالباً آپﷺ کو اندیشہ ہے کہ انصار اپنا یہ فرض سمجھتے ہیں کہ وہ آپﷺ کی مدد محض اپنے دیار میں کریں اس لیے میں انصار کی طرف سے بول رہا ہوں اور ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں عرض ہے کہ آپﷺ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں جس سے چاہیں تعلق استوار کریں اور جس سے چاہیں تعلق کاٹ لیں۔

    ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دے دیں۔ اور جو آپﷺ لے لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا جسے آپﷺ چھوڑ دیں گے۔ اور اس معاملے میں آپ ﷺ کا جو بھی فیصلہ ہو گا ہمارا فیصلہ بہرحال اس کے تابع ہو گا۔ اللہ کی قسم اگر آپ ﷺ ہمیں لے کر اس سمندر میں کُودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کُود جائیں گے۔

    فأشرق وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم بما سمع، وقال: سيروا وأبْشِروا، فإن الله قد وعدني إحدى الطائفتين، وإني قد رأيت مصارع القوم

    حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر رسول اللہﷺ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ ﷺ پر نشاط طاری ہو گئی۔ آپﷺ نے فرمایا "چلو اور خوشی خوشی چلو۔ اللہ نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ اس وقت گویا میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں"
     
    Last edited: ‏مارچ 24, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    اچھا سلسلہ ہے..لیکن عنوان تبدیل کر لیں. بہتر ہے.
     
  5. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    عنوان تو بہت اچھا ہے، الحمدللہ
    اور عنوان پر ہی تو مضون نقل کر رہا ہوں ، باقی کسی اور عنوان کی رائے دی جاسکتی ہے
     
  6. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    معرکۃ خیبر کا تاریخی جملہ "میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام "

    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )



    سیدالاولین و الاخرین ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تھے اور یہاں حق و باطل کا سامنا تھا خیبر کا سردار مرحب بھی تیاری کا ساتھ نکلا ، لڑائی کا ماہر جسامت میں بھی اچھے خاصے جثہ کا مالک اور اسے اپنی بہادری و لڑائی کا ماہر ہونے پر کافی غرور بھی تھا اور پھر اس نے رجزیہ اشعار اور دعوت مبازرت کہنا شروع کی
    وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ

    خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے


    اور پھر سابقون الاولون میں سے وہ نکلے جن کے دو بیٹے جنت کے نوجوانوں کے سردار اور جنکی اہلیہ کو جنت کی عورتوں کی سرداری کا شرف حاصل ہے ، انکے اپنے بہت سے فضائل و مناقب ہیں جنکی یہاں پر تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ اتنا ہی کافی ہے اب اس جملے اور انکی لڑائی کی طرف آتا ہوں جو خون مسلم کو گرما دے اور ہمیں خبر رہے کہ ہم " ایروں غیروں " کے نقشہ قدم پر چلنے والے نہیں بلکہ ہم ان اسلاف کی پیروی کرنے والے جو آپس میں رحمدل اور کفار کیلئے شدت اور غیض و غضب والے تھے

    اور پھر اس للکار کا جواب دینے والے نے اپنی آواز بلند کی اور کہا


    فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ کَلَيْثِ غَابَاتٍ کَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ کَيْلَ السَّنْدَرَهْ

    تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرح جو جنگلوں میں ڈراؤنی صورت ہوتا ہے۔ میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں

    اور پھر ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوا اور ایک دوسرے کو نظروں سے تولا گیا اور پھر وار ہوا

    حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا ، اللہ اکبر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بہت عمدہ اور ایمان افروز واقعات کا سلسلہ ہے، مزید کا انتظار رہے گا، جزاک اللہ خیرا!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  8. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    وایاکم
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں