نیک اعمال پر چونا

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 25, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    469
    ’’نیک اعمال پر چونا ‘‘

    چونا کھایا بھی جاتا ہے اور لگایا بھی جاتا ہے۔
    لیکن اسے کھانے سے زیادہ لگانے کے کام میں استعمال کیا جاتا ہے۔
    پان پر چونا لگا کر کھایا اور کھلایا جاتا ہے جو کہ پیار و محبت کی نشانی ہے۔
    جبکہ کسی کو نقصان پہنچا کر خوش ہونے کو بھی چونا لگانے سے تعبیر کیا جاتا اور آج کل زیادہ تر لوگ لوگوں کو اسی طرح چونا لگاتے ہیں۔
    یہ ہیں آج کے مسلمان جو دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

    "چُونا لگا دیا‘‘۔

    کاش! اِن چونا لگانے والوں کو معلوم ہوتا کہ انہوں نے کسی کو چونا لگانے کے ساتھ ساتھ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے نیک اعمال پر چونا پھیر دیا ہے۔

    یہ دوسروں کو چونا لگا کر خوش ہونے والے ایمان اور اسلام سے دور ہیں۔
    ان چونا لگانے والوں میں مغرور و متکبر نام نہاد مسلمان بھی ہیں اور اپنی تقویٰ اور پرہیزگاری کے آگے دوسروں کو حقیر سمجھنے والے مسلمان بھی ہیں۔ اِن چونا لگانے والوں کے دلوں میں خوفِ الٰہی کا رنگ نہیں چڑھتا کیونکہ ان کے دلوں پر غرور، گھمنڈ اور تکبر کا چُوںا لگا ہوتا ہے، اسی لئے دوسروں کو چُونا لگاتے ہوئے اِن کے قلوب خوفِ الٰہی سے نہیں کانپتے۔ ایسے لوگ دنیا کی تھوڑی سی فائدے کیلئے اپنی چالاکی اور عیاری سے دوسروں کو چُونا لگاتے ہیں اور اگر کوئی کمزور ہو تو اسے چُونا لگانے اور ستانے کے ساتھ ساتھ اسکی عزت کو ملیا میٹ کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اِن چُونا لگانے والوں کو اپنی اِس گھناونی کرتوت پر کوئی پشیمانی نہیں ہوتی بلکہ اس پر وہ خوش ہو کر دوسروں سے کہتے پھرتے ہیں کہ فلاں کو ’’چُونا لگا دیا‘‘۔ اُن کے دوست احباب بھی ان کی اس حرکت پر ان کی خوشی میں شامل ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں:

    ’’کتنے کا چُونا لگایا‘‘

    کیا ایسے لوگوں کی پرورش کسی مسلم معاشرے میں نہیں ہوئی یا انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ کسی مسلمان کو نقصان پہچانا حرام ہے؟

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے۔ کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو‘‘۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2044)

    ایک مسلمان کیلئے کسی مسلمان کو نقصان پہچانا تو دور کی بات ہے، اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا بھی جائز نہیں۔

    کاش ایسے لوگوں تک رسولِ کریم ﷺ کی یہ وعید بھی پہنچی ہوتی:
    ’’ جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا“۔(ابی داود، ترمذی، مسند احمد، قال الشيخ الألباني: حسن)

    کسی مسلمان کو چُونا لگانے یعنی نقصان پہچانے اور ستانے پر دوہرا عذاب ہے، (1) ایک جہنم کا عذاب اور پھر (2) آگ میں جلنے کا عذاب جیسا کہ درج ذیل کی آیت سے واضح ہے:

    إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (10) سورة البروج

    ’’ بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ستایا یا اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لئے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے‘‘

    دین اسلام تو ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی کسی بھی مخلوق کو نقصان پہچانے سے روکتا ہے لیکن افسوس کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ان سخت وعید کے باوجود آج مسلم معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے جو نا صرف کسی مسلمان کو بلکہ پورے ملک و ملت کو چُونا لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    جبکہ رسول اللہ ﷺ نے تو ہم مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہوئے فرمایا ہے:
    ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔‘‘ حدیث نمبر: 2442 بخاری

    لہذا جو لوگ دوسروں کو چونا لگانے کے درپے ہوتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے اس کرتوت پر پشیمان ہوں اور اللہ کے حضور توبہ کریں۔ جنہیں وہ نقصان پہچا چکے ہیں ان کی تلافی کریں اور ان سے معافی مانگیں تاکہ آخرت کے دوہرے عذاب سے بچ سکیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو قرآن اور سنت کا علم سیکھنے والا اور ان پر عمل کرنے والا بنائے۔ اے اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھنا کہ ہم کسی پر ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے۔ آمین۔

    آپ کی دعاؤں کا طالب: محمد اجمل خان
    ہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں