خطبہ حرم مکی مسلم نوجوان کا کردار اور اس کی اہمیت

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 2, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    21

    خطبہ جمعہ مسجد حرام
    خطیب : معالی الشیخ عبدالرحمن السدیس (حفظہ اللہ تعالی)
    تاریخ: 22 رجب 1440ھ بمطابق29 مارچ 2019
    موضوع: مسلم نوجوان کا کردار اور معاشرے میں اس کی اہمیت۔
    مترجم: فرہاد احمد سالم
    پہلا خطبہ۔
    بےشک تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں۔ ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ، اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اللہ سبحانہ کی حمد بیان کرتے ہیں کہ اس کا احسان ظاہر و باطن میں جاری ہے۔ ہر قسم کی دائمی تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں ۔ میرے لئے اللہ کافی ہے کہ بس وہ ہی رب ہے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے ہمیں ایسے دین سے نوازا جو جوانوں کو پاکیزگی عطا کرتا ، اور اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار بناتا ہے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ نے گمراہی کے اندھیروں کو منتشر کر دیا کہ ہدایت کی روشنی پھیل گئیں۔
    اللہ تعالی آپ ﷺ پر آپ کی آل ، صحابہ کرام ، تابعین اور قیامت تک اچھے طریقے سے آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    اللہ کے بندو تقوی اختیار کرو، وقت کو غنیمت جانتے ہوئے نیکیاں کما لو اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے۔
    { فَاتَّقُوا اللَّهَ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: 100]
    پس اللہ سے ڈرو اے عقلوں والو! تاکہ تم فلاح پاؤ۔
    رحمن کا تقوی اختیار کرنے والے کو کشادگی ڈھانپ لے گی۔،اس کا معاملہ آسان ہو جائے گا اور تنگی کا ڈر نہ ہو گا۔
    اے متقی آدمی کامیابی سے لطف اٹھا کہ تو خوش گوار زندگی کا مستحق ہے۔
    مومنوں کی جماعت!
    تہذیبوں کی تاریخ ، قوموں اور معاشرے کی صورت حال پر نظر رکھنے والا، نیز مفکرین اور نامور اہل علم کے احوال پر غور و فکر کرنے والا بلا مشقت اس عظیم اور حیرانی پر ابھارنے والی حقیقت کا سراغ پا لے گا؛ وہ یہ ہے کہ ان تمام کے پیچھے منتخب افراد، روشن ستارے، اور شاندار جماعت ہوتی ہے۔ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے یہ نوجوانوں کی جماعت ہوتی ہے۔
    ان تمام میں نوجوان ہی رکن رکین اور قیمتی خزانہ ہوتے ہیں۔ اور یہ ہی پھیلی خوشبو ، مضبوط بازو، روشن امید اور ماتھے کا جھومر ہیں۔
    آزاد نوجوان کو سلام پیش کریں جسے امید زندہ رکھتی ہے۔ جس کے کارناموں نے تاریخ کو فخر سے منور کیا۔
    نوجوان ہی اپنے ساتھیوں کی مدد سے مستقبل بناتے ہیں۔ اور کامل فخریہ زندگی کی امید جگاتے ہیں۔
    اسلامی بھائیو !
    اسلام نے نوجوانوں پر مکمل توجہ کا اہتمام کیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی ولادت سے پہلے ہی ۔جیسے کہ میاں بیوی کو وصیت کی گئی ہے کہ وہ اپنے لئے بہتر شریک حیات منتخب کریں۔ پھر ماں کے پیٹ میں جب وہ جنین ہو ، پھر جب وہ شیر خوار ہو، پھر جب وہ بچہ ہو ، پھر جب وہ با شعور بچہ ہو۔ پھر جب بالغ جوان ہو ہر مرحلے میں اس پر توجہ دی گئی ہے،
    نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ۔ قیامت کے دن جب سایۂ عرش الہی کے علاوہ کوئی بھی سایہ نہ ہو گا ۔ اس دن جن سات قسم کے اشخاص کو اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہو گا ، ان میں سے ایک:
    وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، ۔
    وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں پروان چڑھے۔
    نبی ﷺ نے فرمایا:
    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ۔
    رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”نوجوانو! جو کوئی تم میں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ نکاح کا عمل آنکھ کوبہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔
    اسے بخاری اور مسلم نے ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے۔
    اس عظیم توجہ کے نتیجے میں نوجوانوں کے روشن نمونے نکلے۔ جنہوں نے اقدار و روایات کو بلند کرنے۔ فضائل کو مضبوطی سے پکڑنے اور اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے میں سبقت حاصل کی۔
    یہاں تک کہ لوگ اچھے اخلاق ،ممتاز بہادری اور بلند و روشن کارناموں کو دیکھتے ہوئے فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔
    میں جوانوں کو عزت بھرا سلام پیش کرتا ہوں۔ وہ ہمارا قیمتی خزانہ اور راز فخر ہیں۔
    نبی ﷺ کے صحابہ بھی نوجوان اور بلند افکار کے مالک تھے۔
    چنانچہ بدر کے دن جھنڈا اٹھانے والے علی بن طالب (رضی اللہ عنہ) کی عمر کیا تھی؟
    اسامہ بن زید نے جب لشکر کی قیادت کی تو ان کی عمر کیا تھی؟
    نبی ﷺ کی وفات کی وقت حبر امۃ عبداللہ بن عباس کی عمر کیا تھی؟
    اسی طرح کاتب وحی زید بن ثابت، سفیر اسلام مصعب بن امیر ،جنت میں نوجوانوں کے سردار حسن اور حسین ، اور معاذ (رضی اللہ عنہم) کہ جب نبی ﷺ نے ان کو یمن کی طرف قاضی اور مفتی بنا کر بھیجا، اور عمر بن عبد العزیز کہ جب ان کو امیر المومنین بنایا گیا، اور امام شافعی جب کہ انہوں نے مؤطا حفظ کی اور فتوی کی کرسی پر بیٹھے، یہ سب کے سب نوجوان تھے! اور ان کے علاوہ بھی ہزاروں بلکہ لاکھوں نوجوان تاریخ میں موجود ہیں۔
    اسی طرح اسلام نے قوم کے نوجوانوں کو افضل اور مخلص بنایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے میں عظیم ترین عمل والوں کی تابع داری اختیار کی نہ کہ جرت مند نگاہ والوں کی۔
    امت مسلمہ۔
    جوانی کا مرحلہ عقیدے کی تقویت اور فکرو منہج کی سلامتی کا مرحلہ ہے۔ اسی مرحلے میں انسان اپنے نفس اپنی ذات ، ہدف، اور مقصد کو مضبوط کرتا ہے۔
    اس لئے زیادہ اہمیت اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مرحلے کی طاقت کو بڑے کارناموں کی طرف موڑا جائے۔ اور اسے برائی اور مفاسد دے بچایا جائے۔
    یہ بات چند چیزوں سے حاصل ہو سکتی ہے ان میں اہم چیز علم شرعی کے ذریعے ان کے گرد حفاظتی حصار بنائیں ۔
    اس لئے کہ علم شرعی سے حرمتوں اور دینی حدود کی حفاظت ہوتی ہے۔ اسی علم شرعی کے ذریعے انسان دنیا و آخرت میں سیادت کی طرف سبقت سے ہمکنار ہوتا ہے۔
    چنانچہ جب شریعت ہادی اور مرشد ہو گی، تو نو جوانوں پر ان کے جذبات کی حکمرانی نہ ہو گی، اور نہ ہی ان کی شدت و تیزی ان کی قائد ہو گی۔
    بلکہ نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے ثقہ علماء اور کبار شیوخ کی رہنمائی میں ہدایت کے راستے پر چلیں جن کے پاس وسیع علم اور نفع بخش تجربات ہیں۔ تاکہ ان کی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے مشوروں پر عمل کریں۔ اور امید ہے کہ اس کے بعد وہ اپنی امت اور دین کے لئے زیادہ نفع بخش ثابت ہوں گے۔ اور ان لوگوں سے زیادہ دین کے محافظ ہوں گے جو نوجوانوں کو حق کے پیغام سے پھیرتے ہیں۔
    {وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} [النساء: 83]
    اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکم دینے والوں کی طرف لوٹاتے تو وہ لوگ اسے ضرور جان لیتے۔
    توجہ طلب باتوں میں یہ بھی ہے کہ ۔ نوجوانوں کی حفاظت کی جائے ۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں ان سے حسن ظن رکھتے ہوئے انہیں یہ بتایا جائے کہ وطن کی نسبت صرف ولولہ سے سرشار جذبہ ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ ساری کا احساس اور واجب حقوق کی ادائیگی بھی لازمی ہے۔
    اپنے ملک کے لئے مفید شہری ہونے کی حقیقی صورت یہ ہے کہ ملک کے تمام سپوت ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ مل کر چیلنجز سے مقابلہ کریں اور کامیابیاں سمیٹیں، نیز حقوق و واجبات ادا کریں۔
    اس وطن میں ہماری مثال ایک جسم کی سی ہے۔ وطن کی تعمیر و ترقی زمین پر خلافت اور اس کی آباد کاری کا مظہر ہے۔
    {هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا} [هود: 61]
    اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تم سے اس کی آبادکاری کا مطالبہ کیا۔۔
    اور یہ کام مستقبل کے اہداف ، طویل المدت منصوبہ بندی، ترقی کے لئے سرمایہ کاری اور ٹیکنیکل اداروں سمیت دیگر مثبت اقدامات سے ہو گا۔
    وطن کی تعمیر ور ترقی کا بڑا بوجھ جوانوں کے کندھوں پر عائد ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ ہی مؤثر طاقت ، مفکر عقل اور ہنر مند ہیں۔
    مومنوں کی جماعت!
    مسلم معاشرے کو دوسرے معاشروں سے ممتاز کرنے والی چیز یہ کہ مسلم معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو حق بات اور صبر کی وصیت کرتے ، اور بھلائی اور تقوی کے معاملے میں باہمی تعاون کرتے ہیں۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے۔
    كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ۔
    تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اپنی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی۔ متفق علیہ
    تو ہماری روشن شریعت علیحدگی اور جمود کو نہیں جانتی بلکہ دنیا میں رونما ہونے والی نت نئی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنا اور ان کے متعلق رہنمائی دینا جانتی ہے۔ ساتھ ہی شرعی مسلمہ اصول و ضوابط کی حفاظت بھی کرتی ہے۔
    اس لئے اے جوانو: اس ذمہ داری کی قدر کرو اور اس کی ابتدا اپنے نفس ، اور ساتھ ساتھ اپنے اعضاء، بدن، روح ، عقل، علم ، عمل، عبادات اور معاملات سے کرو۔
    نوجوانو ! تم پر دین ، معاشرے ، امت ، اور وطن کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اور یہ قول و عمل میں اخلاص کے ساتھ ہی ممکن ہے۔
    اسی طرح نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح وہ اپنے بدن اور ظاہر پر دھیان دیتے ہیں ، اسی طرح اپنے دل اور نفس کی سلامتی پر دھیان دیں ۔ اپنے نفس، روح اور فکر پر شہوتوں کے دروازے نہ کھولیں۔ نہ ہی شبہات ، فتنوں اور گناہوں کی جگہوں پر انہیں دھکیلے۔
    انہیں چاہیے کہ جاہل کو سکھائیں ، گمراہ کو راستہ دکھائیں۔ اور لوگوں کو خیر و ہدایت کی طرف بلائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین غالب نہ ہوا، اور لوگوں نے انبیاء کی شریعتوں کو نہیں مانا مگر اللہ کے فضل اور پھر نیک جوانوں کی وجہ سے کہ وہ ہی نقیب و حواری اور انصار و مہاجر ہیں، اور وہ ہی عالم با عمل اور معلمین اور اصلاح کرنے والے تھے۔
    اللہ تعالی نے اصحاب کہف کے بارے میں فرمایا:
    { إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى} [الكهف: 13]
    بے شک وہ چند جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں ہدایت میں زیادہ کر دیا۔
    مسلم نوجوانو! آدمی جب اپنے دین کے لئے کام کرنے میں مخلص ہوتا ہے تو اس کے لیے دین کی طرف نسبت کرنا ناز ہوتا ہے۔ اور یہ ہی وہ چیز ہے جس کو نوجوان نسل کو اپنی زندگی میں سمجھنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی نسبت اسلام کی طرف اور اس پر عمل کو اپنے لئے فخر و ناز کا سر چشمہ بنا لیں۔ جس طرح وہ ہمت و عظیمت کا سر چشمہ ہیں۔
    مسلم نو جوان !
    زبان ، لباس اور وضع قطع میں غیروں کی اندھی تقلید نہ کرو۔ بلکہ انبیاء اور صالحین کے طریقے کو اسوہ بنا لو۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے؛
    { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ } [الأحزاب: 21]
    تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے۔
    ہماری دینی ، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہم میں سے ہر فرد اور بطور خاص جوانوں پر واجب کرتی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ تاکہ فساد پھیلانے والوں اور دین و وطن کی حرمت پامال کرنے والوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوں۔ اور سازشی افواہوں، جھوٹی خبروں ، غلط دعووں، منحرف جماعتوں، گمراہ گروہوں، اور دین سے بر گزشتہ جماعتوں کا مقابلہ کریں۔ جو فتنہ و پریشانی، اور بغض و حسد پھیلانے کی انتھک کوشش کرتی ہیں۔ تاکہ ہم امن و استقرار سے لطف اندوز ہو سکیں اور دینی وحدت اور قومی یکجہتی کی حفاظت کر سکیں۔
    یہ محبت بھری دعوت ان کے لیے ہے جن پر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جیسے ماں باپ، اساتذہ، تربیت کار، لکھاری، اور صحافی حضرات ؛ ان سب کو چاہیے کہ امت کے نو جوانوں اور اپنی ذمہ داریوں کے لئے اللہ سے ڈریں، ان کے دلوں کو کتاب و سنت اور منہج سلف سے سیراب کریں۔ انہیں شرک و بدعات ، بھڑکانے اور دور کرنے والے خطابات ، امتیازی سلوک، نفرت ، تعصب، گروہ بندی، انتہا پسندی، اور دہشت گردی کے کاموں سے دور رہنا سکھائیں؛ کیونکہ دہشت گردی کا نہ کوئی دین ہے نہ وطن۔
    ان کی تربیت افراط و تفریط کے بغیر میانہ روی ، اعتدال ، بقائے باہمی، تسامح، اور حکمت و توازن پر کریں۔
    انہیں بیرونی غلط افکار اور کمزور مناہج سے دور کریں۔ انہیں ان تمام چیزوں پر ابھاریں جو صلاحیتیں پیدا کرتی اور عزائم کو مضبوط کرتیں اور انہیں دین کی خدمت اور وطن کی ترقی کے قابل بنا تی ہیں ۔
    ان کو ان لوگوں سے ڈرائیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں اپنا نشانہ بناتے ، مثالی لوگوں کی تنقیص کرتے ہیں، ثقہ اور معتمد لوگوں کے متعلق بد اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔
    تاروں پر کمندیں ڈالنے کا ارادہ رکھنے والے یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ ناکارہ و ناکام ، ناامید و مایوس لوگ تو بہت ہیں ۔ جو نمایاں کارکردگی اور ایجادات کے دشمن ہیں ۔ جو ہر ایک پیش رفت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور ہر پر اعتماد ، کامیاب انسان کا راستہ کاٹتے ہیں ، ان کو راستے کی پکڈنڈیوں پر توجہ نہیں صرف کرنی چاہیے ۔بلکہ اللہ پر بھروسہ اور اس سے مدد طلب کرتے ہوئے ، ہمت سے کام لے کر بلندی پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان سچ ہے:
    { فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: 148]
    تم نیک کاموں میں پیش قدمی کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر لائے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
    اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت دے، اور نبی ﷺ کے طریقے سے نفع پہنچائے۔
    میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ، اپنے لئے ، آپ سب کے لئے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرتا ہوں ، آپ بھی اس ہی سے استغفار اور توبہ کریں ، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا اور بہت معاف کرنے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں۔ ایسی حمد جو سینوں کی سانسوں ، اور پلکوں کے تکرار کے ساتھ جھپکنے کی طرح جاری ہے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہ بہت زیادہ کرم کرنے والا اور بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ ہماری نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے ، رسول اور شکر گزار بندے ہیں۔
    اللہ تعالی آپ ﷺ پر آپ کی آل ، صحابہ کرام اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
    اما بعد!
    اللہ کے بندو: کما حقہ اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ کیونکہ یہ ہی ذخیرہ سب سے زیادہ باقی رہنے والا، اور عظیم سعادت ہے جس سے اعلی کوئی مقام نہیں۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى } [البقرة: 197]
    اور زاد راہ ساتھ لے لیا کرو اور (سفر حج میں) بہتر زاد راہ تو پرہیزگاری ہے۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    جماعت کو لازم پکڑو ،کیونکہ جماعت پر اللہ تعالی کا ہاتھ ہوتا ہے۔
    اور جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا۔
    مومنوں کی جماعت! جہاں تک نوجوانوں کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کی بات ہے تو ان کو قابل بنانے اور ابھارنے میں لڑکے لڑکیاں یکساں ہیں۔
    چنانچہ مسلمان لڑکیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین کو مضبوطی سے تھامیں، اپنے اصول و اقدار کی حفاظت کریں۔
    اپنے عمل، دین ، معاشرے اور وطن کی خدمت کو اپنی شناخت بنائیں ، اور شرعی آداب و اخلاق کا خیال کرئیں۔
    اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نوجوانوں کی غلطیوں کو عموم پر محمول نہ کریں، اور نہ ہی اس کی بنیاد پر اعتماد ختم کر کے ناامیدی پیدا کریں۔ بلکہ زیادہ خوشی اور رشک سے یاد رکھیں کہ اچھے نوجوان اپنے دین کے کڑے کو مضبوطی سے تھامنے والے، ہدایت اور میانہ روی کے راستے پر چلنے والے ہی، الحمدللہ اکثریت میں ہیں۔
    اور یہ ہی قابل فخر اور دفاع کرنے والے ہیں نفع بخش نوجوان ہیں۔ اس لیے ہم پر واجب ہے کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھیں، ان کی مدد اور ان کے ساتھ بھلائی کریں۔
    ہمارے نوجوانوں! اے ہمارے نوجوانوں!
    ہم آپ میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔ آپ میں اپنے عظائم کو پختا ہوتا پڑھتے ہیں۔
    اللہ آپ پر رحم فرمائے!
    یاد رکھیئے جوانی کا مرحلہ دوبارہ نہیں لوٹتا ۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے قبل غنیمت جانو۔
    قیامت کے دن بندہ اللہ تعالی کے سامنے قدم نہ ہلا سکے گا ، یہاں تک کہ اس سے اس کی جوانی کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کہاں ضائع کی۔
    ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی اصلاح فرمائے ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی اصلاح فرمائے ۔ اور کو خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرمائے۔ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرمائے۔ اور ان کو ان کے اہل و عیال کے لئے ٹھنڈک ، اور معاشرے اور وطن کے لئے باعث مسرت بنائے۔
    اللہ تعالی ان کو اعتدال کے راستے پر چلائے ۔ بےشک وہ بہت بڑا اور انتہائی بلند ہے۔
    اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ درود و سلام بھیجیں اخلاق و کردار میں سب سے سچے، اور لباس و ہیبت میں سب سے خوبصورت انسان پر۔ جیسے کے اللہ خالق نے تمہیں حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: 56]
    اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
    اور نبی ﷺ نے فرمایا :
    مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا،
    جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
    بنی نوع انسان میں سب سے بہترین انسان جناب احمد ﷺ پر درود و سلام ہو ۔ اسی طرح آپ کی آل ، صحابہ کرام اور احسان کے ساتھ ان کے طریقے پر چلنے والوں پر۔
    اللہ تعالی خلفاء راشدین اور ہدایت یافتہ آئمہ ، ابوبکر، عمر ، عثمان اور علی سے اور تمام صحابہ ، تابعین نیز قیامت تک اچھے طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو۔ اور ان کے ساتھ اپنے کرم و رحمت کا معاملہ فرما ۔
    یا الرحم الراحمین!
    یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اور کلمہ حق کو بلند فرما۔
    یا اللہ ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔
    یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی الامر کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما۔ ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو بلندیاں عطا فرما۔
    یا اللہ ! ان کو اپنی رضا اور پسند والے کاموں کی توفیق دے ، اور ان کی پیشانی پکڑ کر نیکی اور تقوی کی توفیق دے۔
    اے اللہ ! ان کو اور ان کے نائب کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما اور ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو بلندیاں عطا فرما۔
    یا اللہ !مسلم قیادت کو نفاذ شریعت اور نبی ﷺ کی اتباع کی توفیق دے۔
    یا اللہ ! ان کو مومنین کے لئے رحمت بنا دے۔ یا اللہ ! ان سے وبائیں ، سود ،اور زلزلوں کو ہٹا دے،، نیز ان کو ظاہری اور باطنی فتنوں سے بھی محفوظ فرما۔
    یا اللہ ! مسلمان مردوں اور عورتوں کو معاف فرما۔ ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دے اور ان کے آپس کے معاملوں کو درست فرما کر اسلام کے راستے پر چلا۔ ان کو برائیوں اور ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرما۔
    یا اللہ ! ہمارے فوت شدگان کو معاف فرما ،اور ہمارے بیماروں کو صحت یاب فرما،
    یا اللہ ! ہمارے معاملات کو برائیوں سے پھیر دے اور ہمیں معاف فرما دے اور ہمارے عیوب کو چھپا دے۔
    یا اللہ ! ہمیں اپنی رضا والے اعمال کی توفیق عطا فرما۔ یاذالجال ولاکرام
    یا اللہ ! ہمیں تمام دنوں اور مہینوں میں برکتیں دے، اور اپنے کرم و احسان کے ساتھ ہمیں رمضان نصیب فرما۔
    یا اللہ ! مسلمانوں کت مقدس مقامات کی حفاظت فرما، یا اللہ !مسجد اقصی کو حد سے بڑھے ظالموں کی قید سے آزاد فرما۔
    یا اللہ ! یمن ، عراق ، برما، اراکان اور تمام جگہوں پر مسلمانوں کے احوال درست فرما۔ یا اللہ ان کے امن کو لوٹا دے اور ان کے خون کی حفاظت فرما۔
    یا اللہ ہماری دعاؤں اور توبہ کو قبول فرما بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ہمیں ہمارے والدین اور تمام مسلمان مرو خواتین کو معاف فرما۔ بےشک تو سننے والا ، قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
    وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    ہماری آخری بات یہ کہ بے شک تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
    • مفید مفید x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    438
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,443
    جزاک اللہ خیرا!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں